پاکستان کا عادل راجہ اور شہزاد اکبر کی حوالگی کا مطالبہ: ’فیک نیوز اور پراپیگنڈا کو برطانیہ میں مجرمانہ فعل ثابت کرنا چیلنج ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہX/YouTube
پاکستان نے برطانیہ سے باضابطہ طور پر دو پاکستانی شہریوں عادل راجہ اور مرزا شہزاد اکبر کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعرات کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایک ملاقات کے دوران دونوں افراد کی حوالگی سے متعلق دستاویزات پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے حوالے کیں۔
بی بی سی اردو کے پاس عادل راجہ اور سابق پاکستانی وزیر مرزا شہزاد اکبر کے خلاف الزامات کی تفصیلات موجود نہیں لیکن وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر کو ’وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پراپیگنڈا کرنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کیے۔‘
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ’آزادی اظہار پر پورا یقین رکھتے ہیں لیکن فیک نیوز ہر ملک کے لیے مسئلہ ہے۔ بیرون ملک بیٹھ کر ریاست اور اداروں کے خلاف بہتان تراشی اور ہرزہ سرائی کی کوئی ملک اجازت نہیں دے سکتا۔‘
یاد رہے کہ عادل راجہ پاکستان کی فوج میں میجر رینک کے افسر تھے اور پاکستانی فوج نے نومبر 2023 میں اُن کا کورٹ مارشل کرتے ہوئے انھیں 14 سال قید با مشقت اور عہدہ ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔
دوسری جانب مرزا شہزاد اکبر سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں مشیر برائے احتساب اور امور داخلہ تھے اور اُن کے خلاف متعدد مقدمات پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
عادل راجہ اور مزا شہزاد اکبر کیا کہتے ہیں؟
پاکستان کی جانب سے حوالگی کی درخواست پر عادل راجہ اور مرزا شہزاد اکبر دونوں کے بیانات سامنے آئے ہیں اور دونوں نے ہی الزامات کی تردید کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عادل راجہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’وہ شکایت کرنے کے لیے برطانوی ہائی کمشنر کو بلا کر شکایت کر سکتے ہیں لیکن یہ شکایت برطانوی قوانین کے تحت خود غیرقانونی ہے کیونکہ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہInterior Ministry
دوسری طرف مرزا شہزاد نے برطانوی حکومت اور ہائی کمشنر سے درخواست کی ہے کہ انھیں یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے ان کے خلاف ’بدترین کارروائیاں‘ کی گئی ہیں اور ’پاکستان میں میرے کچھ اہلخانہ کو بھی اغوا‘ کیا گیا۔
ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’مجھے اعتماد ہے کہ برطانوی حکام قانون اور اس کی عملداری اور انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو یقینی بنائیں گے اور ایک ایسی حکومت کے بارے میں تحفظات پر غور کریں گے جس کو برطانوی اخبار دا گارڈیئن نے ’آمرانہ‘ اور پاکستان کے آئینی نظام کو نقصان دینے والا قرار دیا اور ایک ایسی حکومت جس کے 44 اراکین پر پابندیوں کی سفارش امریکی کانگریس نے کی۔
خیال رہے پاکستانی حکومت ماضی میں ایسے متعدد الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔
برطانیہ سے شہریوں کی حوالگی کتنی مشکل؟
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان غیرقانونی پناہ گزینوں اور مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ تو موجود ہے لیکن یہ کوئی باقاعدہ ’ایکسٹراڈیشن ٹریٹی‘ نہیں۔
سنہ 2022 میں پاکستان اور برطانیہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مجرموں اور غیرقانونی پناہ گزینوں کی برطانیہ سے پاکستان حوالگی کی جا سکتی ہے۔
تاہم برطانیہ میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی برطانیہ سے باقاعدہ پاکستان حوالگی ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔
برطانوی بیرسٹر ٹوبی کیڈمین نے بی بی سی کے روحان احمد کو بتایا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ جس جرم کے سبب حوالگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس کا برطانیہ میں بھی جرم ہونا اور اس کی سزا کم از کم 12 مہینے کی قید ہونا ضروری ہے۔‘
’دوسری بات یہ کہ جن جرائم پر حوالگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ سیاسی نوعیت کے نہ ہوں۔‘
ماضی میں ایسے معاملات پر پاکستانی کی رہنمائی کرنے والے بیرسٹر ٹوبی کیڈمین نے مزید کہا کہ جن افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے انھیں شفاف ٹرائل کا موقع ملے گا اور ان کے حقوق کو یقینی بنایا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پراپیگنڈا یا فیک نیوز کے الزام میں حوالگی ہو سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس فیک نیوز اور پراپیگنڈا کو برطانیہ میں بھی مجرمانہ فعل ثابت کرنا ایک چیلنج ہو گا۔‘
’برطانیہ فوجداری ضابطے کے تحت کی جانے والی ہتکِ عزت کو مجرمانہ فعل تصور نہیں کرتا۔‘
عادل راجہ اور مرزا شہزاد اکبر کون ہیں؟
عادل راجہ پاکستان کی فوج میں میجر رینک کے افسر تھے اور فوج نے نومبر 2023 میں اُن کا کورٹ مارشل کرتے ہوئے انھیں 14 سال قید با مشقت اور عہدہ ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق میجر (ر) عادل فاروق راجہ کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت ’حاضر سروس اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے‘ پر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔
عادل راجہ کو اُن کی غیرموجودگی میں سزا سنائی گئی تھی۔ یوٹیوبر اور وی لاگر میجر ریٹائرڈ عادل فاروق راجہ کو تحریک انصاف کا حامی سمجھا جاتا ہے اور وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے 10 روز بعد پاکستان سے برطانیہ چلے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس سے قبل عادل راجہ کے خلاف اسلام آباد کے ایک تھانے میں لوگوں کو فوج اور حکومت کے خلاف اکسانے کے مقدمات بھی درج ہوئے تھے اور انھیں اشتہاری قرار دینے سے متعلق ضابطے کی کارروائی کی گئی تھی۔
اس کے تقریباً دو ماہ قبل برطانیہ کی ایک عدالت نے ہتک عزت کے ایک مقدمے میں عادل راجہ پر 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ بھی عائد کیا تھا۔
انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے کنگز بینچ ڈویژن کے جج رچرڈ سپیئرمین کا اپنے تحریری فیصلے میں کہنا تھا کہ ہتک عزت کا دعویٰ درست ثابت ہونے پر عادل راجہ کی طرف سے پاکستان کی انٹیلجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد نصیر کو ہرجانے کی مد میں 50 ہزار پاؤنڈز اور قانونی اخراجات ادا کیے جائیں گے۔
دوسری جانب مرزا شہزاد اکبر سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں مشیر برائے احتساب و داخلہ امور تعینات رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے کچھ ہی روز بعد شہزاد اکبر اپریل 2022 میں پاکستان سے برطانیہ چلے گئے تھے۔
اگرچہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں ان کا نام ای سی ایل سے خارج کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ پاکستان سے راونہ ہو گئے تھے۔
نومبر 2023 میں مرزا شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ میں ان پر ’تیزاب سے حملہ‘ کیا گیا تھا۔
اس وقت ہرٹفورڈ پولیس نے کہا تھا کہ ان کا ’ماننا ہے کہ (حملے میں) تیزابی مرکب کا استعمال‘ کیا گیا تھا۔












