انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد: ’جو سکون یہاں ملتا ہے وہ دوربین سے نہیں مل سکتا‘

- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کرتارپور
گرمیت سنگھ دن کے پہلے پہر کرتارپور میں گرودوارہ دربار صاحب پہنچے۔ سنگت سمیت بابا گرو نانک کی سمادھی پر حاضری دینے کے بعد درشن کے آخر میں گرودوارہ کی موتی نما عمارت کی چھت پر گئے۔
یہاں سے مشرقی سمت میں حد نگاہ صاف ہو تو دریائے راوی، اس کے پار پاک انڈیا سرحد اور پھر شاید ان کا گاؤں بھی نظر آ جائے۔
گرمیت اور ان کے ساتھی نومبر کی ہلکی دھند میں لپٹے درختوں کی اس طویل باڑ کو دیکھ رہے تھے جو بارڈر کی نشاندہی کرتی ہے۔ وہ شاید درختوں کے پار انڈیا میں اپنے گاؤں کو جاتا راستہ دیکھنے کے کوشش کر رہے تھے۔ ضلع امرتسر میں ان کا گاؤں انڈین بارڈر سے محض 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یوں تو اگر کرتارپور میں وہ دربار صاحب سے لنگر کر کے نکلیں تو دوپہر کی چائے وہ گھر پہنچ کر پی سکتے تھے۔ مگر ایسا ہو نہیں سکتا۔ درمیان میں سرحد حائل ہے جو تاحال بند ہے۔ ان کے لیے واپسی کا واحد راستہ واہگہ بارڈر سے ہو گا۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم آئندہ برس سے انھیں امید ہے کہ ان کے گاؤں سے سیدھا کرتارپور تک کا راستہ کھل جائے گا۔ اب تک وہ دربار صاحب کے درشن سرحد پر قائم ’درشن پوائنٹ‘ ہی سے کر پاتے تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوے ان کا کہنا تھا کہ ’جو سکون یہاں پہنچ کر ملا ہے وہ دوربین سے دیکھ کر کبھی نہیں مل سکتا، یہ احساس ہی کچھ مختلف ہے۔‘
کرتارپور وہ مقام ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی اور پہلے گرو بابا نانک دیو نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے اور یہیں ان کی وفات بھی ہوئی۔ دربار صاحب میں ان کی سمدھی بھی ہے اور قبر بھی۔

مگر گرمیت سنگھ سمیت ہزاروں سکھ گذشتہ کئی دہائیوں سے اس مقام تک رسائی سے محروم رہے۔ چند برس قبل جب یہ گرودوارہ کھلا تو بھی یہاں آنے کے لیے ویزے کی ضرورت تھی اور لاہور میں واہگہ سے داخل ہونا پڑتا تھا۔ ویزے محدود ملتے تھے۔
’زیادہ بے بسی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب دربار صاحب پاک انڈیا سرحد سے محض چار کلومیٹر دور ہے۔ اتنا قریب ہے کہ ہم اسے دیکھ سکتے تھے، مگر چھو نہیں سکتے تھے۔‘
تاہم اس بار جب گرمیت سنگھ یاترا کے لیے پاکستان پہنچے تو ’ایک اچھی خبر‘ ان کی منتظر تھی۔ پاکستان اور انڈیا دونوں سکھوں کی دیرینہ خواہش کے مطابق کرتارپور سرحد کو کھولنے اور وہاں زائریں کے لیے ایک راہداری قائم کرنے پر رضامند ہو گئے تھے۔

ابتدائی منصوبے کے مطابق یہ راہداری سرحد سے گرداورا تک ہو گی جہاں تک زائرین بغیر ویزہ کے محض ایک پرمٹ حاصل کرنے کے بعد انڈیا سے کرتارپور آ کر دربار صاحب پر حاضری دے پائیں گے۔
یہ راہداری سرحد کے دونوں جانب تعمیر کی جائے گی تاکہ زائرین کے سفر کو آسان بنایا جا سکے۔ اس میں ایک برس کا وقت لگے گا۔
جس روز گرمیت سنگھ کرتارپور پہنچے اس کے اگلے ہی دن وزیرِ اعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا۔
سکھ برادری کے افراد کے ایک بڑی تعداد کو اس تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ انڈیا سے آئے سکھ یاتری بھی اس کا حصہ بنے۔ گرودوارہ دربار صاحب کے داخلی دروازے کے پہلو میں دیو ہیکل خیموں کے تلے پنڈال سجایا گیا تھا۔
انڈیا سے خاص طور ہر مہمانوں کی ایک بڑی تعداد مدعو کی گئی تھی۔ ان میں پنجاب کے وزیرِ سیاحت نوجوت سنگھ سدھو نمایاں تھے۔
وزیر اعظم عمران خان نے گرودوارے کے مرکزی دروازے کے سامنے کرپان نما قد آدم ماڈل پر سنگِ بنیاد کی تختی کی رونمائی کی تو ان کے ساتھ فوج سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور چند وزرا بھی موجود تھے۔
اس دیہی علاقے میں گرودوارہ دربار صاحب سب سے نمایاں عمارت ہے۔ اور وہ اکیلی کھڑی نظر آتی ہے۔ اس کے پہلو سے ایک کچی سڑک سرحد کی طرف جاتی ہے۔ پہلے نالہ بئیں اور پھر دریائے روای عبور کر کے چار کلومیٹر پر سرحد واقع ہے۔
یہ سڑک بھی زیادہ تر خالی ہی نظر آتی تھی۔ اکا دکا کسان یا ان زمینوں پر کام کرنے والے افراد کشتی سے نالہ عبور کرتے دکھائی دیتے تھے۔ گرودوارہ کے چاروں طرف سر سبز کھیت نظر آتے تھے۔
تاہم بدھ کو میلے کا سا سماں تھا۔ اونچے خیموں نے دربار صاحب کی عمارت کو چھپا رکھا تھا۔ فضا میں ہیلی کاپٹر اڑتے مہمانوں کو لاتے لے جاتے نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
درجنوں بسوں میں سکھ یاتریوں اور سکھ برادری کے پاکستان کے دوسرے شہروں سے آئے افراد کو وہاں لایا گیا۔ چاروں جانب رینجرز، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکار گردش کرتے نظر آئے۔
انڈیا سے آئے سکھ یاتریوں کو بھی خصوصی بسوں میں پنڈال میں پہنچایا گیا جہاں ہزاروں افراد کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔
ان ہی میں امرتسر سے ایک جتھہ لے کر آئے امر جیت سنگھ بھی شامل تھے۔ انہیں اگلی نشست پر جگہ ملی۔ امر جیت سنگھ گردوارہ کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ ان کی عمر 70 کی دہائی میں داخل ہوئے بھی چند برس بیت چکے ہیں۔
لگ بھگ اتنے ہی برس سے سکھ دربار صاحب کرتارپور کے درشن سے محروم تھی۔ کرتارپور راہداری کی تعمیر کے حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے تاثرات کا آغاز پنجابی زبان میں کیا اور کہا کہ ’ودھیا کم ہو گیا اے۔‘
وزیراعظم عمران خان اور نوجوت سنگھ سدھو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے وہ کام کر دیا ہے جو 70 سال سے نہیں ہو پا رہا تھا۔‘
امرتسر میں سکھ برادری ان کے مطابق اس بات پر خوش تھی کہ اگلے سال بابا گرو نانک دیو کے 550 ویں یوم پیدائش پر ہر برس کی طرح اس دفعہ وہ ’درشن پوائنٹ‘ نہیں جائیں گے بلکہ ’سیدھا کرتارپور دربار صاحب آئیں گے‘

پردیپ سنگھ جو انڈیا میں حیدرآباد سے سکھ مقدس مقامات کی زیارت پر پاکستان آئے ہوئے تھے امردیپ سنگھ سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ اس کا سہرا نوجوت سنگھ سدھو کو دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سدھو کو اس حوالے سے ’بے جا تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔‘
’ان پر تنقید کرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ بی جے پی کو مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام سدھو کے ہاتھوں کیوں ہو رہا ہے، یہ تو ان کی ہاتھوں ہونا چاہیے تھا۔‘
پگڑی سکھوں کے لباس کا لازمی حصہ ہے۔ تقریب میں مختلف رنگوں کی پگڑیوں کا ایک سیلاب نظر آتا تھا۔
امرتسر کے شہری کرنور نے کئی رنگوں کی پگڑی پہن رکھی تھی۔ ملنگوں کے جیسا بھیس بنائے رکھنے والے کرنور چار مرتبہ پاکستان آ چکے ہیں۔
اس بار انہیں یقین تھا کہ ’اب کرتارپور کا لانگہ کھل کے رہے گا۔‘ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں کسی قسم کا اتار چڑھاؤ بھی اس پر اثرانداز نہیں ہو سکے گا۔ وہ پنجابی میں اس کی وضاحت دیتے ہیں کہ ’ایہہ بابا گرو نانک نے دوہاں ملکاں توں کروایا اے، ہن تے کرتارپور دا لانگہ کھل کے رہو گا۔‘
ان کا ماننا ہے کہ 70 برس بعد اس اقدام سے انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ ’سمجھ لو کہ بابا گرو نانک دوناں ملکاں نوں اکٹھا کر ریا اے۔‘











