کرتار پور راہداری پر بھی تلخیاں اور الزامات

،تصویر کا ذریعہTWITTER
پاکستان کے علاقے ناروال میں انڈیا کی سرحد کے قریب کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل باجوہ سے خالصتان تحریک سے منسلک رہنما گوپال چاولا سے ہاتھ ملانے اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپنی تقریر میں کشمیر کا حوالہ دینے پر انڈیا نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
عمران خان کی طرف سے کشمیر کی بات کرنے پر انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر ایک مرتبہ پھر شدت پسندوں کی سرپرستی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو اس بات کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پاس کرتے ہوئے اپنی سرزمین سے سرحد پار جا کر دہشت گردوں کو روکنے اور ان کی مدد بند کرنے کے لیے موثر اور قابل اعتماد اقدامات کرے۔
کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کو مقدس قرار دیتے ہوئے انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان نے ایک مقدس تقریب میں بلا ضرورت کشمیر کی بات کر کے سیاست کرنے کی کوشش کی۔
دوسری طرف انڈین میڈیا میں جنرل قمر جاوید باجوا کی گوپال چاولا سے ہاتھ ملانے کی تصویروں پر بھی شدید اعتراض کیا جا رہا ہے۔
انڈین میڈیا پر نشر اور شائع ہونے والی خبروں کے جواب میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ کی جس میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
آصف غفور نے کہا کہ انڈین ذرائع ابلاغ آرمی چیف کو صرف گوپال چاولا سے ہاتھ ملاتے ہوئے دکھا کر تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جنرل باجوہ بلا امتیاز تمام مہمانوں سے ملے۔ امن کے لیے اس طرح کے اقدام کو پروپیگنڈہ کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی








