کرتارپور راہداری: 20 ماہ بعد انڈیا سے سکھ یاتریوں کے پہلے قافلے کی پاکستان آمد

پاکستان پہنچے والے سکھ یاتری

،تصویر کا ذریعہRabinder Singh Robin/BBC

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرتار پور رہداری کھلنے کے بعد انڈیا سے سکھ یاتریوں کا پہلا قافلہ پاکستان میں گردوارہ دربار صاحب پہنچ گیا ہے۔ اس قافلے میں 50 یاتری شامل ہیں۔

انڈیا میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے ایک ویڈیو ٹویٹ کی گئی جس میں پاکستان کی جانب سے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہا گیا ہے۔

یہ یاتری سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی 552 ویں سالگرہ کے موقع پر پہنچے ہیں۔ بابا گرو نانک کی سالگرہ 19 نومبر کو منائی جائے گی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس سے پہلے انڈیا کے وزیرِ داخلہ امِت شاہ نے منگل کے روز کہا تھا کہ ان کی حکومت کے کرتارپور راہداری کھولنے کے فیصلے سے بڑی تعداد میں سکھ یاتریوں کو فائدہ ہو گا۔

تاہم انڈیا کی حکومت نے کہا ہے کہ یاتریوں کو کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام قوائد اور ہدایات کی پابندی کرنا ہو گی۔

سکھ یاتری

،تصویر کا ذریعہRabinder Singh Robin/BBC

جمعرات کو یاتریوں کا ایک دوسرا قافلہ گرودوارہ دربار صاحب پہنچے گا جس میں انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلی چرنجیت سنگھ چنی اور کابینہ کے کئی ارکان شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

کرتارپور رہداری کو 20 مہینوں کے بعد کھولا گیا ہے جسے کورونا وائرس کی وباء کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔

سکھ یاتری

،تصویر کا ذریعہRabinder Singh Robin/BBC

،تصویر کا کیپشنکرتارپور رہداری کو 20 مہینوں کے بعد کھولا گیا ہے جسے کورونا وائرس کی وباء کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔

یہ چار عشاریہ سات کلومیٹر طویل رہداری ہے جس کے ذریعے سکھ یاتری انڈیا کے علاقے گرداس پور میں ڈیرہ بابا نانک سے بغیر ویزے کے گردوارہ دربار صاحب آ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس راہداری کے ذریعے پاکستان آنے والوں کو ایک دن کا پرمٹ دیا جاتا ہے اور زیارت کے لیے جانے والوں کے پاسپورٹ پر صرف پاکستان میں داخلے اور اخراج کی مہریں لگتی ہیں۔

سکھوں اور پنجاب کی کئی دوسری برادریوں کے لیے گردوارہ دربار صاحب مذہبی لحاظ سے بہت اہم ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بابا گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے۔

گردوارہ دربار صاحب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دو سال قبل انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پاکستان نے انڈیا کے یاتریوں کو بغیر ویزے کے پاکستان میں موجود گردوارہ دربار صاحب آنے کی اجازت دی تھی۔

ڈیرہ بابا نانک سے بی بی سی کے نمائندے گرپریت سنگھ چاولہ نے بتایا کہ کئی یاتریوں کا کہنا ہے انھوں نے راہداری کھلنے سے پہلے ہی اجازت نامے کی درخواست دے دی تھی۔

پاکستان گردوارہ کمیٹی کے امیر سنگھ کا کہنا تھا 'ہماری اور آپ کی دعائیں پوری ہو گئی ہیں۔ ہم آپ کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کرتے ہیں، ہمارے دل اور دروازے آپ کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔‘