نوجوت سنگھ سدھو کے جنرل باجوہ اور وزیرِ اعظم عمران خان سے تعلقات ہیں، وزیر اعلیٰ کے لیے نامزدگی کے خلاف ہوں: کیپٹن امریندر سنگھ

،تصویر کا ذریعہTwitter
انڈین پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد کہا ہے کہ ملک کے مفاد میں وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نوجوت سنگھ سدھو کے نام کی مخالفت کریں گے۔
نیوز ایجنسی اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں ملک کی خاطر وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ان کے نام کی مخالفت کروں گا۔ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، وہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ان کے دوست ہیں اور وہاں کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔‘
یاد رہے کہ سدھو کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس وقت امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ انھیں پاکستان نہیں جانا چاہیے۔
تاہم اس وقت سدھو نے ان کا مشورہ نہیں سنا اور پاکستان چلے گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کے بعد وہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بغلگیر بھی ہوئے تھے، جس کے لیے کیپٹن امریندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو پر کڑی تنقید کی تھی۔
سدھو نے کہا تھا کہ جنرل باجوہ نے انھیں بتایا تھا کہ پاکستان کرتار پور راہداری کو حقیقت بنتا دیکھنا چاہتا ہیں۔
کرتارپور سکھوں کا ایک مشہور مذہبی مقام ہے۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری چند سال یہاں گزارے۔ یہ جگہ اب پاکستان میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
کیا سونیا گاندھی نئے وزیراعلیٰ کا فیصلہ کریں گی؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنجاب کانگریس کے ارکان اسمبلی کی اہم اجلاس کے بعد ہریش راوت نے کہا کہ میٹنگ میں دو تجاویز کو قبول کیا گیا ہے۔
ہریش راوت نے کہا کہ کیپٹن امریندر سنگھ نے پنجاب میں اچھا کام کیا ہے اور پارٹی کو امید ہے کہ وہ ان کی رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔
پارٹی کی دوسری اہم تجویز نئے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے تھی۔ ہریش راوت نے کہا کہ سونیا گاندھی فیصلہ کریں گی کہ نیا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہSTEFAN ELLIS/AFP VIA GETTY IMAGES
کانگریس کے ممبران اسمبلی نے اجلاس سے پہلے اپنے استعفے جمع کروائے۔
اس سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے سنیچر کی شام کو گورنر بنواری لال پروہت سے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق گورنر نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ چند ماہ قبل جب کیپٹن امریندر سنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی تو ہریش راوت کو معاملے کو حل کرنے کے لیے دونوں فریقوں سے بات کرنی پڑی۔
یہ بھی پڑھیے
تنازع ختم نہیں ہوا
قیاس کیا جا رہا ہے کہ ریاستی کانگریس میں تنازع ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور یہ معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر سکتا ہے۔
ہریش راوت اور نوجوت سنگھ سدھو سنیچر کی شام ہونے والی اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
یہ کہاں سے شروع ہوا
نوجوت سنگھ سدھو اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جب سدھو نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت سے یہ تنازع شروع ہوا۔
اگرچہ انھیں کیپٹن امریندرسنگھ کی حکومت میں وزیر کا عہدہ بھی دیا گیا تھا لیکن دونوں کے درمیان خراب تعلقات کے بعد انھوں نے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔









