لائیو, ایران نے حکومت مخالف مظاہروں کو ’اسرائیلی منصوبہ‘ قرار دے دیا، تہران جانے والی متعدد پراوزیں منسوخ

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق ’ایران کے حالیہ واقعات اگرچہ ابتدا میں معاشی مطالبات اور احتجاج سے شروع ہوئے تھے لیکن اب اسرائیلی رہنمائی اور منصوبہ بندی کے تحت یہ احتجاج ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش میں بدل گیا ہے۔‘

خلاصہ

  • ایران کی شوریٰ عالی امنیت ملی (سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل) نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔
  • ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ بی بی سی فارسی نے 22 افراد کی ہلاکت اور شناخت کی تصدیق کی ہے۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران املاک کو نقصان پہنچایا گیا جس کا مقصد امریکہ کو خوش کرنا ہے۔
  • خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے ایک بار پھر دہرایا ہے کہ ملٹری آپریشن کوئی حل نہیں۔
  • امریکہ میں فیڈرل ایجنٹس کی جانب سے فائرنگ کے ایک اور واقعے میں دو افراد زخمی

لائیو کوریج

  1. ایران میں مظاہرے: 48 مظاہرین ہلاک اور انٹرنیٹ کی بندش

    • ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ دو انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 28 دسمبر کو احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 48 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ ایرانی حکام نے اب تک سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے
    • ایرانی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں وسیع پیمانے پر حکومت مخالف احتجاج شروع ہونے کے بعد انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ہے۔ حکومت کی وزارتِ مواصلات کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’ملکی حالات‘ کے پیش نظر ’سکیورٹی اداروں‘ کی جانب سے کیا گیا
    • انٹرنیٹ کی بندش کے باعث اے ٹی ایم مشینیں کام نہیں کر رہیں۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ڈیبٹ کارڈ استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ دکانوں سے خریداری کے لیے نقد رقم تک رسائی بھی ممکن نہیں رہی
    • ملک کے رہبر اعلیٰ نے مظاہرین پر سخت تنقید کرتے ہوئے انھیں ’چند شرپسندوں کا گروہ‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘
    • ٹرمپ اس سے پہلے خبردار کر چکے ہیں کہ اگر حکومتی فورسز نے مظاہرین کو قتل کیا تو امریکہ ایران کو ’بہت سخت‘ جواب دے گا
    • ادھر ایران کے جلاوطن سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایرانی عوام کی حمایت میں ’مداخلت کے لیے تیار‘ رہیں
  2. بدین کے نوجوان کیلاش کے قتل پر اہل خانہ کا دھرنا: ’ملزم نے کار میں سے پستول نکال کر فائرنگ کی‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    ’ہم چاہتے ہیں کہ ملزم کو گرفتار کر کے ہمارے سامنے لایا جائے۔ پولیس ایک ہفتے سے وعدے کر رہی ہے لیکن وعدہ وفا نہیں ہو رہا۔‘ یہ کہنا ہے صوبہ سندھ کے ضلع بدین کے علاقے تلہار میں نوجوان کیلاش کولہی کی بیوی لکھی کولہی کا جنھوں نے انصاف کے حصول کے لیے اپنے ساس سسر اور دیور کے علاوہ مقامی لوگوں کے ہمراہ دھرنا دیا ہے۔

    لکھی کولھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک زمیندار نے کیلاش کو جھونپڑی بنانے سے منع کیا، انھیں دھمکیاں دیں اور بالآخر ان کے سینے میں گولی مار دی۔

    جب وہ وہاں پہنچیں تو کیلاش ’زمین پر گرا ہوا تھا اور بیہوش ہوچکا تھا، جس کو ہسپتال لے گئے لیکن وہ وفات پا گیا۔‘

    کیلاش پانچ بچوں کے والد ہیں اور ان کے آٹھ بہن بھائی ہیں۔ ان کے والد چیتن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایس ایس پی نے یقین دہانی کرائی کہ 24 گھنٹے میں ملزمان گرفتار ہو جائیں گے لیکن اس احتجاج کو بھی تین روز ہوگئے ہیں۔ ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔‘

    ان کا یہی مطالبہ ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے سامنے لایا جائے۔

    ایس ایس پی قمر جسکانی نے بتایا کہ کیلاش چار ایکڑ زمین پر بطور کسان کام کرتے تھے۔ ان کے مطابق واقعے والے روز ملزم نے ’کیلاش کو روکا کہ وہ جھونپڑی وہاں نہ بنائے کیونکہ یہ اس کی زمین ہے جس پر دونوں کے بیچ تلخ کلامی ہوئی اور فائرنگ میں وہ ہلاک ہو گئے۔‘

    ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ یہ الزام دست نہیں کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ اہل خانہ کی مدعیت میں اس واقعے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ ’تاخیر لواحقین کی جانب سے ہوئی جنھوں نے پہلے پوسٹ مارٹم کرایا اور بعد میں آخری رسومات کے بعد آ کر مقدمہ درج کرایا۔‘

    ایس ایس پی جسکانی کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہیں لیکن اس کا سراغ نہیں مل رہا۔ وہ پرامید ہیں کہ اگلے دو روز میں ملزم گرفتار ہو جائے گا۔

    اس میں مدعی پون کولہی نے بتایا ہے کہ ’کیلاش پہلے سرفراز نامی زمیندار کے پاس کام کرتے تھے۔ تاہم بعد میں وہ اعجاز نظامانی کے پاس کسان بن گئے تھے۔ چار جنوری کو کیلاش، وشنو اور گووند زمین میں بھنڈی کی فصل کے لیے جھونپڑی بنا رہے تھے کہ شام ساڑھے چار بجے کے قریب سرفراز مہران کار میں وہاں آیا اور کہا کہ ’تم نے میرے پاس کام چھوڑ کر اعجاز کے پاس کام شروع کر دیا ہے، یہاں جھونپڑی مت بناؤ۔‘

    ’کیلاش نے جواب دیا کہ ہمیں گالیاں نہ دو، جس پر وہ مشتعل ہو گیا اور کار میں سے پسٹل نکال کر ان کے سامنے کیلاش پر سیدھی فائرنگ کر دی۔ کملیش زمین پر گر گیا اور اس سے خون بہنے لگا، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔‘

    ادھر حکومتِ سندھ کے ترجمان سکھدیو ہمنانی نے کیلاش کے ’بے دردی سے قتل‘ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے ایک ’وحشیانہ اور دل دہلا دینے والا واقعہ‘ قرار دیا۔

    انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ سندھ نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ’شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں اور مجرم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔‘

    ہمنانی نے اس بات کی ضمانت دی کہ مجرم کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

  3. ’ملٹری آپریشن حل نہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کے بنانے والوں اور دوبارہ لانے والوں کی مخالفت کرتا ہوں‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلی سہیل آفریدی

    خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا ہے کہ ملٹری آپریشن کوئی حل نہیں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت،قانون نافذ کرنے والے ادارے، تمام سیاسی اور مذہبی رہنماؤں، قبائلی مشیران کو بٹھا کر حل نکالا جائے جو پائیدار ہوگا۔

    کراچی پریس کلب میں میٹ دے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں وفاقی حکومت بلائے گی تو وہ ضرور جائیں گے کیونکہ دہشت گردی سے ان کا صوبہ متاثر ہو رہا ہے۔

    وادی تیراہ میں جاری آپریشن کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں لیکن ’کھلی بدمعاشی ہوتی ہے مشورے میں بھی شامل نہیں کیا جاتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے مزاحمت اور مفاہمت کا اختیار محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا ہے وہ عمران خان کے حکم پر سٹریٹ موبلائزیشن پر کام کر رہے ہیں۔ جب مزاحمت ہوگی تبھی مفاہمت ہوگی۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ کالعدم تحریک طالبان، اسے بنانے والوں، ان کو آباد کرنے والوں انھیں دوبارہ لانے والوں کی ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت کرتے ہیں۔

    انھوں نے نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ ’ان کا خود کا ذہن کلیئر نہیں کہ ٹی ٹی پی کو ختم کرنا ہے، لانا ہے یا آباد کرنا ہے۔ جب انھیں آباد کیا جارہا تھا اس وقت بھی ان کی جماعت ان کی مخالفت کر رہی تھی۔ مراد سعید کی تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں دہشت گردوں کو رکھا جاتا ہے، ان کی اہلیہ قید میں ہیں، ان کی بہنوں کو ملنے تک نہیں دیا جاتا۔

    حکومت سے مذاکرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ سامنے والا فریق کتنا طاقتور ہے، وزیر اعظم کو بھی پوچھنا پڑتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے انھیں عزت دی اور یقین دہانی کرائی گئی کہ جلسے کی اجازت دی جائے گی لیکن ابھی تک اس کا تحریری اجازت نامہ نہیں ملا۔

  4. ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    ایران میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے تقریباً گذشتہ دو ہفتوں سے جاری ہیں اور وہاں انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا ہے، جس کے سبب ملک بھر میں لوگوں کے رابطے ایک دوسرے سے ختم ہو گئے ہیں۔
    • بی بی سی نے جنوبی مشرقی ایران کے شہر زاہدان میں احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز دیکھی ہیں اور اس کے علاوہ 16 دیگر قصبوں میں بھی احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔
    • ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے مظاہرین پر سخت تنقید کی ہے اور ’تخریب کاروں‘ کے خلاف حکومتی کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے۔
    • دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین کو قتل کیا تو ایران کو ’سخت ردِعمل‘ دیا جائے گا۔
    • برطانیہ نے ٹرمپ کے موقف کی تائید تو نہیں کی لیکن ایرانی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ ’تحمل کا مظاہرہ‘ کریں۔
    • اماراتی ایئرلائن فلائی دبئی نے بی بی سی کو بتایا کہ غیرمستحکم حالات کے سبب اس نے ایران جانے والی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
  5. ایران میں انٹرنیٹ کی بندش، وی پی این سے بھی ویب سائٹ تک رسائی میں مشکلات

    ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں انٹرنیٹ کی بندش کی اطلاعات کے بعد یہ اب یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ملکی ویب سائٹس اب بیرونِ ملک سے بھی کھولی نہیں جا سکتیں۔

    انٹرنیٹ مانیٹرنگ کے ادارے نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ اس کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق تہران اور دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے اور کئی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں سے رابطہ ممکن نہیں رہا۔

    گزشتہ شب جب ایران کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے اس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔

    اور اب اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ جمعے کے روز وی پی این کے ذریعے بھی ایران کے اندر موجود ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں رہی۔

  6. حکومت مخالف مظاہرے اسرائیلی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں:ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل

    ایران مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی شوریٰ عالی امنیت ملی (سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل) نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے گزشتہ شب مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد بیان جمعے کے روز جاری کیا ہے۔

    بیان کے مطابق ’ایران کے حالیہ واقعات اگرچہ ابتدا میں معاشی مطالبات اور احتجاج سے شروع ہوئے تھے لیکن اب اسرائیلی رہنمائی اور منصوبہ بندی کے تحت یہ احتجاج ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش میں بدل گیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایران میں جاری مظاہرے 13 روز قبل تہران سے شروع ہوئے تھے۔ ایرانی کرنسی کی قدر میں ہونے والی کمی پر عوامی غصے نے مظاہروں کو جنم دیا ہے، جو انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ملک کے تمام 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکے ہیں۔

    سیکریٹریٹ نے جمعے کے روز جاری اعلامیے میں مزید کہا کہ ’جو لوگ معاشی حالات پر احتجاج کر رہے تھے وہ ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے معاشی نقصان بڑھے یا اس میں بدامنی شامل ہو۔‘

    بیان میں سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کو نظم و ضبط قائم رکھنے اور بدامنی روکنے سے جوڑا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق یہ فورسز عوام کے ساتھ مل کر ’اسرائیل اور امریکہ کے بدامنی کے منصوبوں کو ناکام بنائیں گی۔‘ حکومتی عہدیداروں نے زور دیا ہے کہ مظاہرین اور ’فسادیوں‘ میں فرق کیا جائے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت ملک گیر مظاہروں کے دوران اکثر مظاہرین کو بلا امتیاز فسادی قرار دیتی رہی ہے۔

  7. ایران میں جمعے کی نماز کے وقت جمع ہونے والے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور چھرّوں کے استعمال کی اطلاعات

    ایران مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہScreen grab

    ،تصویر کا کیپشنزاہدان میں مظاہرین پر آنسو گیس استعمال کرنے کی اطلاعات

    ایران میں جاری احتجاج کے حوالے سے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے مطابق زاہدان میں سکیورٹی فورسز نے جمعے کے وقت مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور شارٹ گن کے چھروں کا استعمال کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ہلاش سمیت انسانی حقوق کے ذرائع نے خبر دی ہے کہ ایران کے شہر زاہدان میں نمازِ جمعہ کے دوران متعدد شہری مکی مسجد کے اطراف کی سڑکوں پر احتجاج میں شامل ہوئے جہاں ان کا سامنا فوجی اور سکیورٹی فورسز سے ہوا۔

    مقامی ذرائع کے مطابق ’ایرانی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور شاٹ گن کے چھروں کا استعمال کیا۔‘

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے جن میں ’آمر کی موت‘ اور ’خامنه سے نجات‘ کے جملے بھی موجود تھے۔

    اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے تاہم زخمیوں کی حتمی تعداد فراہم نہیں کی گئی۔

  8. سہیل آفریدی کا سندھ آمد پر اجرک اور ٹوپی کے ساتھ استقبال، سندھ حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی: شرجیل میمن, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

    سہیل آفریدی اور صوبائی وزیر سعید غنی
    ،تصویر کا کیپشنکراچی آمد پر سہیل آفریدی کو صوبائی وزیر سعید غنی نے ایئرپورٹ پر سندھی اجرک اور ٹوپی پہنائی

    خیرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سندھ کے تین روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے جہاں صوبائی وزیر سعید غنی نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور سندھی اجرک اور ٹوپی پہنائی۔

    سہیل آفریدی کو ایئرپورٹ سے ریلی کی صورت میں انصاف ہاؤس لایا گیا جہاں وہ پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں سے ملاقت کریں گے اور پھر کراچی پریس کلب میں میٹ دے پریس سے خطاب کریں گے۔

    ان کے اس دورے کے دوران وہ باغ جناح کا دورہ کریں گے جہاں اتوار کو تحریک انصاف جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

    یاد رہے کہ تحریک انصاف کی کراچی میں پچھلے چند سالوں میں یہ پہلی بڑی سیاسی سرگرمی ہے اس سے قبل کسی بھی ریلی یا جلوس کی صورت میں پولیس کریک ڈاؤن کاسامنا کرتی رہی ہے۔

    اس بار حکمران پاکستان پیپلز پارٹی جانب سے مثبت رویے کا اظہار سامنے آ رہا ہے۔

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ جمہوری اقدار پر مکمل یقین رکھتی ہے اور صوبے میں فری موومنٹ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی سندھ آمد پر انھیں مکمل سکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا جائے گا۔

    ان کے مطابق حکومتِ سندھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    شرجیل میمن کے مطابق ’پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے اور تنقید کو برداشت کیا جاتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی تنقید کرتی ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے اور پیپلز پارٹی بھی سیاسی انداز میں اس کا جواب دینے کا حق رکھتی ہے۔‘

    تحریک انصاف کے شیڈیول کے مطابق سہیل آفریدی کراچی کے علاوہ حیدرآباد اور میرپورخاص کا بھی دورہ کریں گے۔

  9. مودی کے ٹرمپ کو فون نہ کرنے کے باعث انڈیا کا تجارتی معاہدہ نہیں ہو سکا: امریکی وزیرِ تجارت کا دعویٰ

    امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لُٹِنِک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لُٹِنِک کے مطابق جب انڈیا نے تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے رابطہ کیا تو اس وقت تک موقع ختم ہو چکا تھا

    امریکہ اور انڈیا کے درمیان تجارتی معاہدہ اب تک طے نہ پایا جا سکا جس کے باعث انڈیا کو امریکی محصولات میں 50 فیصد تک اضافی شرح کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    تاہم اب امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لُٹِنِک کا ایک دعویٰ سامنے آیا ہے جس کے مطابق ’یہ معاہدہ اس لیے مکمل نہیں ہو سکا کیونکہ انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔‘

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک محصولات عائد کرنے کے بل کی منظوری دی ہے، تاہم اس پر ابھی ووٹنگ ہونا ابھی ہے۔

    ان کے مطابق ’انڈیا اس معاہدے سے مطمئین نہیں تھا تاہم مودی نے ٹرمپ کو کال نہیں کی۔‘

    ایک ایسے وقت میں جب دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے کی کوششوں اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کے امکانات پر زور دینے کی خبریں گرم ہیں، یہ بیان اہمیت کا حامل ہے۔

    ان دعوؤں پر انڈیا کے سابق سفارتکار کے سی سنگھ نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’کیا یہ حیران کن ہے؟ نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت میں دو مسائل ہیں۔ ان کے غیر روایتی اور غیر متوقع مطالبات، جو اقتصادی میدان میں سبقت لینے کی دوڑ اور ٹرمپ کے غرور کو خوش کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔ آخرکار ہر چیز عوامی سطح پر آ ہی جاتی ہے۔‘

    گزشتہ ماہ انڈین وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ انڈیا اور امریکہ ایک دوطرفہ تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کے آخری مراحل میں ہیں۔

    ہاورڈ لُٹِنِک نے ’آل اِن پوڈکاسٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تمام معاہدے تیار تھے اور صرف آخری مرحلے میں رہنماؤں کی سطح پر بات چیت باقی تھی۔

    ان کے مطابق ’میں نے معاہدوں پر مذاکرات کیے اور پوری ڈیل تیارکی۔ لیکن یہ ٹرمپ کا معاہدہ تھا۔ سب کچھ تیار تھا اور مودی کو صدر کو فون کرنا تھا۔ وہ ایسا کرنے میں مطمئن نہیں تھے اس لیے فون نہیں کیا۔ وہ جمعہ گزر گیا اور اگلے ہفتے ہم نے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ معاہدے کیے۔‘

    لُٹِنِک نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی کے مطابق انڈیا کو تین ہفتے کا وقت دیا گیا تھا تاکہ معاہدہ طے ہو سکے۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد امریکہ نے دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ معاہدے کر لیے۔

    ان کے بقول ’یہ معاہدے بلند شرحوں پر طے ہوئے کیونکہ ابتدا میں توقع تھی کہ انڈیا کے ساتھ ڈیل پہلے مکمل ہو جائے گی، لیکن تین ہفتے بعد جب انڈیا نے پیش رفت کی کوشش کی تو کہا گیا کہ موقع ختم ہو چکا ہے۔‘

  10. استنبول اور دبئی سے تہران جانے والی متعدد پروازیں منسوخ

    ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں نے تہران کے لیے کئی پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی نے استنبول ایئرپورٹ ایپ کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق ترکش ایئرلائنز نے جمعے کو تہران کے لیے اپنی پانچ پروازیں منسوخ کر دی ہیں جبکہ ایرانی ایئرلائنز کے ذریعے چلنے والی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ ترک حکام نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعرات کی شب جب ایران کے مختلف شہروں میں ملک گیر مظاہرے جاری تھے، استنبول سے تہران جانے والی ایک پرواز کی منسوخی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

    اس پرواز کے بعض مسافروں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے طیارے کو تہران میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    اسی دوران تبریز اور اصفہان جانے والی پروازوں کا رخ بھی موڑنے کا اطلاعات سامنے آئیں۔ دبئی ایئرپورٹ کے مطابق جمعے کو اب تک دبئی سے تہران جانے والی پانچ پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔

  11. ایران تخریب کاروں کے سامنے نہیں جھکے گا: آیت اللہ علی خامنہ ای

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہkhamenei.ir

    ،تصویر کا کیپشن’مظاہروں میں ایران میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا جس کا مقصد امریکہ کو خوش کرنا ہے‘خامنہ ای

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تخریب کاروں سے نمٹنے کی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    اپنے بیان میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام عائد کیا کہ مظاہروں کے دوران ایران میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور ان سب کارروائیوں کے پیچھے مقصد امریکہ کو خوش کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران میں مظاہروں کے آغاز کے بعد سے آیت اللہ خامنہ ای کا دوسرا ردعمل ہے۔ اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ ’احتجاج جائز ہے لیکن احتجاج اور فساد میں فرق ہے۔ حکومت کو مظاہرین سے بات کرنی چاہیے، مگر تخریب کاروں سے بات کرنا بے فائدہ ہے۔‘

    جمعے کے روز آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور مظاہرین کی حمایت پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔

    خامنہ ای نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’گزشتہ شب تہران میں چند تخریب کار آئے۔ کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کرٹرمپ کوخوش کرنا چاہتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ جاری رکھا تو ہم مظاہرین کا ساتھ دیں گے۔ لیکن امریکہ خود اپنے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔ اس کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگین ہیں۔‘

    رہبرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ ’ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے آگ لگائی جا رہی ہے۔ سب جان لیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہزاروں جانوں کی قربانی کے بعد قائم ہوا اوریہ تخریب کاروں کے سامنے جھکنے والا نہیں۔‘

  12. ایران اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے: آسٹریا

    ایران میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریا کی وزیر خارجہ بیئت مینل ریزنگر نے ایران میں کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف پرامن مظاہروں پر ایرانی سکیورٹی فورسز کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    آسٹریا کی وزیر خارجہ نے اپنے مذمتی پیغام میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن کی حیثیت سے ایران انسانی حقوق کی حمایت اور تحفظ کا پابند ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران میں کئی ہفتوں سے آزادی کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل کر بنیادی حقوق، انسانی وقار اور آزاد زندگی گزارنے کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

    آسٹریا کی وزیر خارجہ نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔

  13. ایرانی عوام کی مزاحمت کا دنیا ایک بار پھر مشاہدہ کر رہی ہے: یورپی پارلیمنٹ کی صدر کا پیغام

    یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا

    ایران کی صورتحال پر یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ دنیا ایک بار پھر ایرانی عوام کی بہادری سے کی جانے والی مزاحمت کا مشاہدہ کر رہی ہے۔

    یورپی پارلیمنٹ کی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’ایرانی عوام کی عزت، آزادی، اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے اور حکومت کرنے کے حق کے لیے آواز پوری دنیا میں سنی گئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یورپ کے لوگ دیکھتے ہیں کہ ایرانی عوام کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے اور سڑکوں پر احتجاج کی کیا صورت حال ہے۔‘

    یورپی پارلیمنٹ کی صدر نے ایرانی عوام سے کہا ہے کہ ’ایک عظیم اور آزاد ملک کی تعمیر کے لیے پرعزم قوم کی حیثیت سے آپ کا فخر اور عزت ایران اور دنیا بھر کی نسلوں کو یاد رہے گی۔‘

  14. ایران میں جاری مظاہروں اور ہلاکتوں پر امریکی صدر کی تہران کو سخت کارروائی کی دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں احتجاجی تحریک کے 13ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رہا اور انھیں قتل کیا گیا تو امریکہ ’سخت کارروائی‘ کرے گا۔

    صحافی ہیُو ہیوِٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’درجنوں افراد ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہو چُکے ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران ہلاک ہوئے ہیں، ہم ایران کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا، کچھ مقامات پر مظاہروں کے دوران بھگدڑ مچنے کی بھی اطلاعات ہیں اور یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس دوران کُچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’واضح طور پر میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ ان حالات کا ذمہ دار کسی ٹھہرایا جائے۔ لیکن انھیں بتایا جا چکا ہے اور سخت انداز میں پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔‘

    امریکی صدر کا یہ بیان ایران بھر میں جاری حکومت مخلاف مظاہروں کے دوران سامنے آیا ہے۔

  15. امریکہ کولمبیا کے خلاف بھی فوجی طاقت کا استعمال کر سکتا ہے: گستاوو پیٹرو

    BBC
    ،تصویر کا کیپشنکولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو

    کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ وینزویلا کے بعد اب امریکی فوج کولمبیا کے خلاف کارروائی کر گی۔

    وینزویلا کے ہمسایہ مُلک کولمبیا کے صدر پیٹرو نے کہا کہ امریکہ دیگر ممالک کو اپنا حصہ سمجھ رہا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ پیٹرو نے مزید کہا کہ ’امریکہ دنیا پر ’غلبہ حاصل کرنے‘ سے ’دنیا سے الگ تھلگ ہونے‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

    انھوں نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنٹس ICE پر الزام لگایا کہ وہ ’نازی بریگیڈز‘ کی طرح کام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے آئیس کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جسے حکومت جرائم اور غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن قرار دیتی ہے۔

    بی بی سی نے اس معاملے پر وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

    امریکی حملوں کے بعد وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کولمبیا پر فوجی کارروائی ’ممکن‘ ہے۔

    ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو بارہا کہا کہ وہ ’اپنی حفاظت کریں، جس پر پیٹرو کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بدھ کی شب دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر گفتگو ہوئی، جس کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ جلد وائٹ ہاؤس میں اپنے کولمبیائی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر اس گفتگو کو ’اعزاز‘ قرار دیا۔ کولمبیا کے ایک اہلکار نے اس وقت کہا تھا کہ دونوں جانب سے بیانیے میں خاصی تبدیلی آئی ہے۔

    تاہم جمعرات کو پیٹرو کے لہجے سے ظاہر ہوا کہ تعلقات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ فون کال تقریباً ایک گھنٹے جاری رہی، جس میں زیادہ وقت انھوں نے ٹرمپ کو سُنا۔ موضوعات میں ’کولمبیا میں منشیات کی سمگلنگ‘، وینیزویلا پر کولمبیا کا مؤقف اور ’لاطینی امریکہ میں امریکہ کے کردار‘ شامل تھے۔

    پیٹرو نے امریکی امیگریشن پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی اور آئیس ICE ایجنٹس کو ’نازی بریگیڈز‘ سے تشبیہ دی۔

    صدر ٹرمپ اکثر امریکہ میں جرائم اور سمگلنگ کو امیگریشن سے جوڑتے ہیں اور اسی جواز کے تحت بڑے پیمانے پر امیگریشن نافذ کرنے کی کارروائیوں کو درست قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے کولمبیا اور وینیزویلا جیسے ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہے۔

  16. تہران میں متعدد عمارتوں کو نذر آتش کرنے کے مناظر, بی بی سی فارسی

    ،ویڈیو کیپشنایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔ تہران میں کئی عمارتوں کو آگ لگائے جانے کی ویڈیو

    بی بی سی فارسی کی جانب سے تصدیق شدہ فوٹیج میں ایرانی دارالحکومت تہران میں عمارتوں کو لگی آگ دیکھی جا سکتی ہے۔ حکومت مخالف مظاہرے ملک بھر میں پھیل رہے ہیں۔

    یہ ویڈیو ملک میں جاری مظاہروں کے 13ویں روز کی ہے۔

    ایرانی کرنسی کی قدر میں ہونے والی کمی پر عوامی غصے نے مظاہروں کو جنم دیا ہے، جو انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ملک کے تمام 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکے ہیں۔

  17. رضا پہلوی کا ایرانی مظاہروں پر ردعمل: ’ایرانی عوام اپنی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں‘

    EPA-EFE/REX/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے جمعرات کو ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں پر اپنے پہلے ردعمل میں مظاہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی بندش، مظاہرین پر تشدد اور اُن کے آواز کو دبانے پر شدید تنقید کی ہے۔

    پہلوی، جنھوں نے ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکلنے اور حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی، نے ایکس پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا ’ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں ایرانی حکومت نے مکمل طور پر ذرائع مواصلات بند کر دیے ہیں، انٹرنیٹ منقطع کر دیا، لینڈ لائن فونز کو بند کر دیا اور ممکن ہے کہ سیٹلائٹ سگنلز کو بھی معطل کرنے کی کوشش کی جائے۔‘

    انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے ایرانی حکومت کو جوابدہ بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘

    پہلوی نے مغربی ممالک کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی رہنما، اُن کی طرح اپنی خاموشی توڑیں اور ایرانی عوام کی حمایت میں کُھل کر سامنے آئیں۔ میں دنیا کے تمام رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دستیاب تکنیکی، مالی اور سفارتی وسائل استعمال کریں تاکہ ایرانی عوام سے رابطہ بحال کیا جا سکے، ان کی آواز سنی جائے اور ان کی خواہشات کو دیکھا جا سکے۔ میرے بہادر ہم وطنوں کی آواز کو خاموش نہ ہونے دیں۔‘

  18. ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری: یزد میں پولیس گاڑیاں اور شازند میں گورنر آفس کی عمارت نذرِ آتش، ’امریکہ ایرانی عوام کی ہر ممکن طریقے سے حمایت کرے،‘ مائیک پومپیو, بی بی سی فارسی

    BBC

    ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوئے ہیں اور ان مظاہرے کو حالیہ برسوں میں ایرانی حکام کے خلاف سب سے بڑے عوامی مظاہرے قرار دیے جا رہے ہیں۔

    جمعرات کی شام تہران اور ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں ہونے والے ان مظاہروں میں شامل افراد کو سکیورٹی فورسز نے منتشر نہیں کیا۔

    ایران میں جاری مظاہروں کی وجہ سے مُلک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کی بھی اطلاعات ہیں جس کی تصدیق ایک مانیٹرنگ گروپ نے بھی کی ہے۔

    ویڈیوز میں مظاہرین کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگاتے اور سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ کرتے سُنا جا سکتا ہے۔ رضا پہلوی نے گذشتہ روز اپنے حامیوں سے سڑکوں پر آنے اور امریکہ سمیت یورپی ممالک سے مظاہرین کی مدد کی اپیل کی تھی۔

    یہ مظاہرے مسلسل 13 روز سے جاری ہیں، جن کی ابتدا ایرانی کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور مہنگائی کے بعد ہوئی۔ بی بی سی فارسی کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ ایران کے تمام 31 صوبوں میں 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکا ہے۔

    امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق اب تک کم از کم 34 مظاہرین، جن میں پانچ بچے شامل ہیں، اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 2270 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 45 مظاہرین، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی نے 22 افراد کی ہلاکت اور شناخت کی تصدیق کی ہے جبکہ ایرانی حکام نے چھ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

    ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک شہری کو یہ کہتے ہوئے سُنا جا سکتا ہے کہ اصفہان میں ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی عمارت کو آگ لگا دی گئی ہے۔

    بی بی سی کے فیکٹ چیک ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ ان عمارتوں میں سے ایک میں پیش آیا ہے جو بستان سعیدی بلیوارڈ پر واقع ’میٹل برج‘ کے قریب موجود ہیں۔

    یہ واقعہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں مظاہرین مختلف شہروں میں سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    BBC

    ایران میں احتجاج کے دوران گاڑیاں اور عمارتیں نذرِ آتش

    سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سرکاری اہلکار فائرنگ کر رہے ہیں جبکہ مظاہرین رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بلند کرتے اور ایران کا سرکاری پرچم مختلف مقامات سے اُتارتے نظر آئے۔

    آٹھ جنوری کو یزد سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں سڑک کے کنارے کئی جلی ہوئی گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ویڈیو میں موجود آواز کے مطابق یہ گاڑیاں حکومتی فورسز اور پولیس کی تھیں اور بظاہر جمعرات کے احتجاج کے دوران انھیں آگ لگائی گئی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق جمعرات کو سامنے آنے والی متعدد تصاویر میں پولیس کی بیرکوں اور گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کے مناظر دیکھے گئے، جبکہ مختلف مظاہروں کے دوران بعض مساجد کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    گیلان صوبے کے ساحلی شہر بندر انزلی سے نشر ہونے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو سڑکوں پر موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شہر حالیہ دنوں میں احتجاجی تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    مقامی رہائشیوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے شہر میں ضروری اشیا جیسے تیل اور چاول کی شدید قلت ہے۔ ساتھ ہی سکیورٹی اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں میں شامل افراد کو منتشر کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔

    دوسری جانب مارکزی صوبے کے شہر شازند سے جمعرات کو سامنے آنے والی تصاویر میں مظاہرین کو گورنر آفس کی عمارت کے سامنے جمع ہوتے اور نعرے لگاتے دیکھا گیا۔ تاہم ایک گھنٹے بعد گورنر کمپاؤنڈ کے اندر آگ کے شعلے بلند ہوتے نظر آئے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو

    بیلجیم کے وزیرِاعظم بارٹ دے وور نے ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے فارسی زبان میں ایکس پر جمعرات کی شام ایک بیان جاری کیا۔

    انھوں نے لکھا ’بہادر ایرانی برسوں کے جبر اور معاشی مشکلات کے بعد آزادی کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ ہماری مکمل حمایت کے مستحق ہیں۔ ان کی آواز کو تشدد کے ذریعے دبانا ناقابلِ قبول ہے۔‘

    امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے جمعرات کو فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک ایرانی عوام کے مظاہروں کی ہر ممکن طریقے سے حمایت کرے۔

    پومپیو نے مزید کہا کہ ایران کی پولیس فورسز کو ایک مشکل فیصلہ کرنا ہوگا اور یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں یا عوام کا۔

    انھوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’مظاہرین کی مختلف شہروں میں احتجاج کی وسعت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ’یہ شاید وہ موقع اور لمحہ ہے جس کا ایرانی عوام انتظار کر رہے تھے بالکل ویسا ہی جیسا وینیزویلا کی عوام۔‘

  19. امریکہ میں فیڈرل ایجنٹس کی جانب سے فائرنگ کے ایک اور واقعے میں دو افراد زخمی

    NewsNation

    ،تصویر کا ذریعہNewsNation

    امریکی ریاست اوریگون کے اہم شہر پورٹ لینڈ میں امریکی وفاقی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے واقعے میں دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں کہ جنھیں اس واقعے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، تاہم ان کی حالت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

    پولیس کے بیان کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 19 منٹ پر پیش آیا جب محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ایجنٹس نے ایک وینیزویلا کے گینگ ممبر کو روکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنی گاڑی سے ایجنٹس کو کچلنے کی کوشش کی۔

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق گاڑی میں موجود شخص اور اصل ہدف ایک وینیزویلا کا غیر قانونی تارکِ وطن تھا، جو بین الاقوامی ’ٹرین دے اراگوا‘ نامی ایک جسم فروشی کے نیٹ ورک سے منسلک ہے اور حالیہ دنوں میں پورٹ لینڈ میں ایک فائرنگ کے واقعے میں بھی ملوث رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ جب ایجنٹس نے گاڑی میں موجود افراد کو اپنی شناخت ظاہر کی تو ڈرائیور نے گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو کچلنے اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران اپنی جان اور حفاظت کے خوف سے ایک ایجنٹ نے اُن پر فائرنگ کر دی۔

    پورٹ لینڈ پولیس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کے افسران اس واقعے میں شامل نہیں تھے اور انہیں بعد میں فائرنگ کی اطلاع ملنے پر بلایا گیا۔

    Eloise Alanna/BBC

    ،تصویر کا ذریعہEloise Alanna/BBC

    واضح رہے کہ اس واقعے سے ایک دن قبل امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد شہر میں رات بھر احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔

    مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنھوں نے اس کی کار کو گھیر رکھا تھا۔

    واقعہ بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10:25 بجے پیش آیا۔

    واقعے کی فوٹیج میں ایک نقاب پوش امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی میں تین بار گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر کھڑی گاڑیوں سے ٹکراتی دیکھی گئی جبکہ خوفزدہ عینی شاہدین وفاقی افسران کو ٹوکتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ویڈیو میں مظاہرین سڑک کے کنارے موجود ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں قریب دکھائی دیتی ہیں۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس واقعے کے بعد سے شہر بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ شہر کے ڈیموکریٹک میئر جیکب فری نے امیگریشن اہلکاروں سے شہر چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب منیپولس پولیس چیف برائن او’ہارا کا کہنا تھا کہ خاتون ڈرائیور اپنی گاڑی میں موجود تھی اور سڑک پر رکاوٹ کا سبب بن رہی تھی۔ ایک وفاقی اہلکار پیدل اس کے قریب آیا، جس پر خاتون نے گاڑی آگے بڑھانے کی اور انھیں مارنےکی کوشش کی۔

    امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا ہے کہ رینی نیکول گوڈ دن بھر امیگریشن اہلکاروں کا پیچھا کرتی رہیں اور رکاوٹ ڈالتی رہیں اور اپنی گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی، جسے انھوں نے ڈومیسٹک ٹیررازم قرار دیا۔

    نوم کے مطابق وفاقی اہلکار نے دفاع کے طور پر فائرنگ کی اور خود بھی زخمی ہوا، تاہم اسے مقامی سپتال میں علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا۔

    ODU

    ،تصویر کا ذریعہODU

    رینی نکول گڈ کون تھیں؟

    منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹ کی گولی سے ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت 37 سالہ رینی نکول گڈ کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ حال ہی میں شہر میں منتقل ہوئی تھیں۔

    رینی ایک انعام یافتہ شاعرہ اور شوقیہ گٹارسٹ تھیں۔ اُن کی ہلاکت کے بعد پورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ’جسٹس فار رینی‘ نعرے سُنائی دیتے رہے۔

    رینی کی والدہ ڈونا گینگر نے مینیسوٹا سٹار ٹریبیون کو بتایا کہ ان کی بیٹی ’شاید خوفزدہ‘ تھی جب افسران کے ساتھ تصادم کے دوران اسے گولی ماری دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ ایک انتہائی رحم دل اور انسان دوست شخصیت کی مالک تھیں۔‘

    ان کے والد ٹِم گینگر نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’اس کی زندگی پرسکون کے ساتھ ساتھ مُشکل بھی تھی۔‘

    ’رینی نیکول گُڈ تین بچوں کی ماں تھیں اور وہ ایک محبت، فن اور خدمتِ خلق کرنے والی خاتون تھی۔‘

  20. ٹرمپ کا انڈیا سمیت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ’500 فیصد تک ٹیرف‘ لگانے کا منصوبہ زیر غور

    EPA-EFE/REX

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX

    ،تصویر کا کیپشنامریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ نیا قانون وائٹ ہاؤس کو چین، انڈیا اور برازیل جیسے ممالک کو روس سے سستا تیل خریدنے سے روکنے کی ترغیب دے گا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکتا ہے۔

    یہ بل وائٹ ہاؤس کو انڈیا اور چین جیسے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا موقع دے گا تاکہ وہ روس سے سستا تیل خریدنا بند کر دیں۔

    یاد رہے کہ انڈیا پر ٹیکس ٹرمپ نے انڈیا پر 50 فیصد ٹیرف لگا رکھا ہے، اس میں روسی تیل کی خریداری پر عائد ہونے والا 25 فیصد محصول بھی شامل ہے۔

    سینیٹر لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلیومینتھال نے روس پر پابندیوں کا قانون 2025 متعارف کرایا ہے جو ان ممالک پر محصولات اور پابندیاں عائد کرے گا جو 'یوکرین پر روس کی ظالمانہ جنگ کو مالی مدد دے رہے ہیں۔'

    یہ بل روس سے تیل خریدنے اور اسے آگے بیچنے پر 500 فیصد محصول عائد کرنے کی تجویز دیتا ہے۔

    سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے تقریباً ہر رکن نے ہی اس کی حمایت کی ہے۔

    لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلیومینتھال نے گزشتہ سال اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’روس یوکرین خوں ریزی روکنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے ایک نیا جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ تاہم اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے حتمی حل یہی ہے کہ چین، انڈیا اور برازیل پر ٹیکس لگایا جائے کیوں کہ روس سے سستا تیل اور گیس خرید کر یہ ملک پوتن کی جنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

    اس ہفتے کے آغاز میں لنڈسے گراہم نے امریکہ میں انڈین سفیر ونے موہن کواترا سے ہوئی اپنی گفتگو کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

    لنڈسے گراہم کے مطابق ونے موہن نے انھیں بتایا کہ انڈیا نے روسی تیل کی خریداری کم کر دی ہے اور ان کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ انڈیا پر عائد محصولات میں نرمی کریں۔

    اتوار کے روز ٹرمپ کے ساتھ ان کے صدارتی طیارے ائیرفورس ون میں سفر کرتے ہوئے سینیٹر لنڈسے گراہم نے بل کے بارے میں بات کی۔

    انھوں نے کہا کہ روس یوکرین تنازع ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے کلائنٹس پر دباؤ ڈالا جائے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ پابندیاں روس کو بہت نقصان پہنچا رہی ہیں اور پھر انھوں نے انڈیا کا ذکر کیا۔ انڈیا کے سفیر سے ملاقات س کے بعد گراہم نے کہا کہ امریکہ نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈین سفیراور ٹرمپ

    انھوں نے بتایا کہ ’ایک ماہ پہلے میں انڈین سفیر کے گھر تھا اور وہ صرف یہ بات کرنا چاہتے تھے کہ انڈیا روس سے کم تیل خرید رہا ہے۔‘

    لنڈسے گراہم کے مطابق اس وقت انڈین سفیر نے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ ٹیرف میں استثنیٰ دینے کے لیے صدر سے درخواست کریں گے؟‘

    امریکی سینیٹر نے بتایا کہ ’یہ حکمت عملی کارآمد ہے۔ لیکن اگر آپ سستا روسی تیل خرید کر پوتن کی جنگی مشین کو چالو رکھ رہے ہیں تو ہم صدر کو یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ ٹیرف کے ذریعے ان ممالک کے لیے مشکل پیدا کر سکیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے انڈیا کے ساتھ جو کیا اسی وجہ سے انڈیا روس سے کہیں کم تیل خرید رہا ہے۔‘

    امریکہ میں انڈین سفیر ونے کواترا نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر گزشتہ ماہ کئی امریکی سینیٹرز کی میزبانی کی۔ ان میں گراہم، بلیومینتھال، شیلڈن وائٹ ہاؤس، پیٹر ویلچ، ڈین سلیوان اور مارک وین ملن شامل تھے۔

    انڈین سفیر نے ایکس پر لکھا ’توانائی، دفاعی تعاون سے لے کر تجارت اور اہم عالمی امور تک ہم نے انڈیا امریکہ شراکت داری پر مفید گفتگو کی۔ میں مضبوط انڈیا امریکہ تعلقات کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘