پشاور میں نمبر پلیٹس کی انوکھی نیلامی: ’وزیر‘ اور ’آفریدی‘ کے لیے بڑی بولیاں مگر ’عمران خان‘ غائب

Auction
،تصویر کا کیپشنمنگل کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں حکومت نے گاڑی کے نمبروں کی نیلامی کی ایک تقریب رکھی تھے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور

گاڑی 22 لاکھ روپے کی اور نمبر پلیٹ کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے، کیا ایسا ممکن ہے؟

ماضی میں شاید پاکستان میں ایسا نہ ہوا ہو لیکن خیبر پختونخوا کے ایک رہائشی نے یہ بات سچ کر دکھائی ہے۔

منگل کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں حکومت نے گاڑی کے نمبروں کی نیلامی کی ایک تقریب رکھی تھے، جہاں محمد ہلال نامی شہری نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ خریدی ہے۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’میری گاڑی کوئی 22 سال پُرانی ہے اور اس کی قیمت شاید 22 لاکھ تک ہی ہوگی لیکن میں نے نیلامی کے دوران اس کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ خریدی ہے کیونکہ مجھے اپنی قوم سے محبت ہے۔‘

محمد ہلال کا تعلق وزیر قبیلے سے ہے اور انھوں نے وہ نمبر پلیٹ خریدی ہے جس پر 'وزیر-1' درج ہے۔

محمد ہلال اور گاڑی کے من پسند نمبر پلیٹ خریدنے والے افراد کی کہانی آپ کو آگے جا کر سُناتے ہیں لیکن پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے گاڑی کے نمبروں کی نیلامی کی کیوں۔

جب ایک نمبر پلیٹ کی نیلامی سے 11 گاڑیوں کی رجسٹریشن سے زیادہ پیسے ملے

صوبائی حکومت نے گاڑیوں کے نمبروں کی نیلامی کا منصوبہ اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے شروع کیا تھا اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے مطابق یہ ایک درست فیصلہ ثابت ہوا ہے۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل عبدالعلیم خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’صرف ایک نمبر پلیٹ کی نیلامی سے 25 ٹویوٹا گرینڈی گاڑیوں کی رجسٹریشن جتنی رقم حاصل ہوئی یعنی ایک کروڑ 11 لاکھ روپے۔‘

منگل کو پشاور میں گاڑیوں کے مخصوص ناموں والی نمبر پلیٹوں کی نیلامی ہوئی تھی، جس میں تقریباً 26 نمبر پلیٹوں کی نیلامی ہونی تھی۔

ان نمبر پلیٹوں پر مختلف قوموں اور شہروں کے نام درج تھے۔ اس سے قبل جب محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے اس تقریب کا اشتہار دیا تھا تو امید کی جا رہی تھی کہ ’عمران خان‘ کے نام والی نمبر پلیٹس میں لوگوں کی زیادہ دلچسپی ہوگی۔

Auction
،تصویر کا کیپشنان نمبر پلیٹوں پر مختلف قوموں اور شہروں کے نام درج تھے

تاہم بعد ان نمبر پلیٹوں فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ منگل کو صرف 11 نمبر پلیٹوں کی ہی نیلامی ہو سکی۔

اس نیلامی میں ’وزیر-1‘ والی نمبر پلیٹ سب سے مہنگی اور ’گنڈاپور 1‘ سب سے سستی یعنی 10 لاکھ 80 ہزار روپے میں فروخت ہوئی۔

عمران خان کے نام والی نمبر پلیٹوں کی نیلامی کیوں نہیں ہوئی؟

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ڈائریکٹر جنرل عبدلعلیم خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے نام والی نمبر پلیٹیں نیلامی کے اگلے مرحلے کے لیے رکھی گئی ہیں اور تب ’عمران خان 1 ہی نہیں بلکہ زرداری 1، بھٹو 1 اور شریف 1 جیسے نام بھی فہرست میں شامل کیے جائیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ایسے نام نیلامی کے اگلے مرحلے میں شامل کیے جائیں گے اور انھیں امید ہے کہ اس سے حکومت کو مزید آمدنی حاصل ہوگی۔

’وزیر 1‘ بازی لے گیا؟

اس نیلامی میں امید کی جا رہی تھی کہ عمران خان کے نام والی نمبر پلیٹ کے بعد سب سے زیادہ بولیاں ’خان ون‘، ’آفریدی ون‘ اور ’پشاور ون‘ پر لگیں گی لیکن حیران کن طور پر سب سے زیادہ بولی ’وزیر 1‘ پر لگی۔

اس کے علاوہ ’آفریدی 1‘ والی نمبر پلیٹ ایک کروڑ 40 لاکھ روپے اور ’خان 1‘ والی نمبر پلیٹ ایک کروڑ 11 لاکھ میں فروخت ہوئی۔

’وزیر 1‘ پر پہلی بولی 10 لاکھ روپے کی لگی تھی اور اس کے بعد ہال میں بیٹھے کئی افراد متعدد بار بولیاں لگاتے رہے۔ لیکن آخر میں مقابلہ محمد ہلال اور ایک اور امیدوار کے درمیان جاری رہا۔

سر پر پگڑی پہنے اس امیدوار کو نمبر پلیٹ کی قیمت انگریزی میں سمجھ نہیں آ رہی تھی اور وہ بار بار گزارش کرتے رہے کہ انھیں پشتو زبان میں قیمت بتائی جائے۔

Auction
،تصویر کا کیپشنپشاور کے نشتر ہال میں بیٹھے لوگوں میں آفریدی قوم کے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے

جب اس نمبر پلیٹ کی قیمت ایک کروڑ روپے سے زیادہ لگی تو پھر یہ امیدوار بھی اپنی نشست پر خاموشی سے بیٹھ گئے۔

اس وقت منتظمین نے ان سے کہا کہ کیا وہ آگے بڑھ سکتے ہیں؟ اس پر اس امیدوار نے کہا کہ ’نمبر کوئی بھی لے، آئے گی تو کسی وزیر کے پاس ہی اور ہم میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔‘

’آفریدی 1‘ پشاور زلمی کے مالک کے نام

پشاور کے نشتر ہال میں بیٹھے لوگوں میں آفریدی قوم کے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، لیکن ’آفریدی 1‘ والی نمبر پلیٹ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی خریدنے میں کامیاب رہے۔

پشاور زلمی کے چیف آپریٹنگ آفیسر عباس لائق نے بتایا کہ جاوید آفریدی نے اس نمبر کو حاصل کرنے میں بڑی دلچپسی لی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ ’پشاور 1‘ نمبر بھی حاصل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آفریدی 1‘ والی نمبر پلیٹ انھوں نے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے میں خریدی ہے۔