پاکستان میں گاڑیوں کی درآمد کی ’پرسنل بیگیج‘ سکیم کا خاتمہ: کیا اب چھوٹی جاپانی گاڑیاں آنا بند ہو جائیں گی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, اسلام آباد
پاکستان میں حکومت نے استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ’پرسنل بیگیج سکیم‘ کے طریقے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ بنیادی طور پر یہ سہولت سمندر پار پاکستانیوں کو دی گئی تھی کہ وہ استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان لا سکتے ہیں۔
استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کے لیے ان کو دی گئی باقی دو سہولیات یعنی ’گفٹ سکیم‘ اور ’ٹرانسفر آف ریزیڈینس سکیم‘ ابھی قائم ہیں تاہم ان کے لیے بھی شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں۔
پاکستان میں گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے افراد کا کہنا ہے بیگیج سکیم کے ذریعے پاکستان میں سب سے زیادہ یعنی 99 فیصد چھوٹی گاڑیاں درآمد ہوتی تھیں جو متوسط طبقے کی پہنچ میں تھیں۔
ان کے خیال میں اس پابندی کے بعد ’یہ طبقہ مناسب پیسوں میں بہتر کوالٹی کی چھوٹی گاڑیاں خریدنے سے محروم ہو جائے گا۔‘
دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پابندی گاڑیوں کی مقامی صنعت کے لیے اچھی خبر ہے۔
وزارت تجارت نے رواں ہفتے ایک ایس آر رو کے ذریعے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترامیم کا اعلان کیا، جن میں ’پرسنل بیگیج ‘ کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔ اس میں ’گفٹ‘ اور ’ٹرانسفر آف ریزیڈینس‘ کو برقرار رکھا گیا تاہم ان کے لیے شرائط میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
گفٹ سکیم کے تحت دو گاڑیاں درآمد کرنے کے درمیان وقفے کو بڑھا کر 700 سے 850 دن کر دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سمندر پار پاکستانی اس گفٹ سکیم کے تحت ایک گاڑی منگواتا ہے تو دوسری گاڑی منگوانے سے پہلے اسے 850 دن انتظار کرنا ہوگا۔
اسی طرح اگر پہلے کوئی ٹرانسفر آف ریزیڈینس کے تحت گاڑی منگواتا تھا تو وہ ایک ملک میں رہتے ہوئے کسی دوسرے ملک سے گاڑی خرید سکتا تھا اس پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن اب ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نئی ترمیم میں یہ شرط رکھ دی گئی ہے کہ اب وہ گاڑی اسی ملک سے خرید سکے گا جس میں اس کی رہائش ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے کوئی شخص متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہے تو وہ جاپان سے استعمال شدہ گاڑی خرید کر پاکستان لے کر جا سکتا تھا لیکن اب اگر اسے گاڑی ٹرانسفر آف ریزیڈینس کے تحت پاکستان درآمد کرنا ہے تو وہ اسے یو اے ای ہی سے خریدنی ہو گی۔
ساتھ ہی وزارت تجارت کے ایس آر او کے مطابق ان دونوں سکیموں کے تحت گاڑیاں درآمد کرنے والوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ ایک برس تک گاڑی آگے فروخت یا ٹرانسفر نہیں کر پائیں گے۔ یعنی وہ گاڑی مقامی مارکیٹ میں فوری طور پر فروخت نہیں ہو پائے گی۔
اس کے علاوہ حکومت نے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ درآمد کی جانے والی گاڑیاں سیفٹی، ماحولیات اور انتظامی معیار کی کم از کم شرائط کو پورا کریں گے۔
گاڑیاں خریدنے والے متوسط طبقے کو اس سے کیا فرق پڑے گا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان میں استعمال شدہ درآمد کی جانے والی گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے افراد کا دعوی ہے کہ ان تین سکیموں اور خاص طور پر بیگیج سکیم کے تحت زیادہ تر وہی گاڑیاں درآمد ہوتی تھیں جو متوسط طبقے کی پہنچ میں تھیں۔
ان میں اکثریت جاپان سے درآمد ہونے والی 660 سی سی گاڑیوں کی ہے۔ حکومت نے تین سال تک استعمال شدہ گاڑی درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ 2024 اور 2025 کے مالی سال کے دوران ’سمندر پار پاکستانیوں نے 40000 گاڑیاں پاکستان بھجوائی جن میں 99 فیصد چھوٹی جبکہ صرف ایک فیصد بڑی گاڑیاں تھیں۔‘
اسی طرح گزشتہ برس جولائی سے دسمبر تک 18000 استعمال شدہ گاڑیاں پاکستانی درآمد کی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 99 فیصد گاڑیاں بیگیج سکیم ہی کے تحت درآمد ہوتی تھیں۔ حالیہ پابندی کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا۔
ایچ ایم شہزاد کا کہنا تھا کہ ’یہ گاڑیاں عوام کو پسند ہیں کیونکہ یہ روڈ سیفٹی، فیچرز اور ایندھن کی بچت کے حوالے سے بہت اچھی ہیں اور قیمت میں بھی مناسب ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ان کے مقابلے میں جو مقامی گاڑیاں ہیں ایک تو وہ عوام کی قوت خرید سے باہر ہیں دوسرا وہ روڈ سیفٹی اور فیچرز کے حساب سے درآمد شدہ گاڑیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
’جو بھی چائنیز اور کوریئن کمپنیاں مقامی طور پر گاڑیاں تیار کر رہے ہیں وہ تمام بڑی گاڑیاں اور ایس یو وی ہیں جن کی قیمتیں متوسط طبقے یا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ حکومت نے بظاہر ان ہی کمپنیوں کو نوازنے کے لیے یہ پابندی عائد کی ہے۔‘
ان کے خیال میں اس سے عوام کا وہ طبقہ شدید متاثر ہو گا جو مقامی اچھی گاڑی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مقامی کمپنیاں چھوٹی گاڑیاں کیوں نہیں لا رہیں؟
گاڑیوں کی خرید و فروخت سے جڑی ویب سائٹ پاک ویلز کے سربراہ سنیل منج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خیال میں حکومت کی طرف سے یہ پابند بہتر اقدام ہے جس سے گاڑیوں کی مقامی صنعت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اس پابندی سے چھوٹی گاڑی خریدنے والا طبقہ متاثر ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بنیادی طور پر بڑی یا لگژری گاڑیاں خریدنے والا طبقہ زیادہ متاثر ہو گا کیونکہ چھوٹی گاڑی خریدنے کے لیے مقامی طور پر آپشنز موجود ہیں۔
پاک ویلز کے سربراہ سنیل منج کہتے ہیں کہ باہر سے استعمال شدہ درآمد کی جانے والی زیادہ تر گاڑیاں گریڈ میں کم اور ایکسیڈینٹڈ ہوتی ہیں جو روڈ سیفٹی کے حوالے سے بھی ایک رسک ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 660 سی سی میں جو استعمال شدہ گاڑی باہر سے امپورٹ کی جاتی ہے لگ بھگ اتنی قیمت میں مقامی طور پر تیار کردہ گاڑی بھی مل جاتی ہے ’جیسا کہ سوزوکی کی آلٹو گاڑی ہے۔ اس میں اب آپ کو ایئر بیگز وغیرہ بھی ملتے ہیں۔‘
تاہم وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان چھوٹی گاڑیوں کی مارکیٹ میں مقامی طور پر لوگوں کے پاس زیادہ آپشنز موجود نہیں لیکن ان کے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ بھی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد تھی جس کی وجہ سے مقامی کمپنیاں اس جانب سرمایہ کاری نہیں کرتیں۔
’کورین کمپنی کیا نے ایک چھوٹی گاڑی لانچ کی لیکن وہ زیادہ نہیں چل پائی۔ یہ مقامی کمپنیاں کہتی ہیں کہ لوگ جب ایکسیڈینٹڈ استعمال شدہ درآمد ہونے والی گاڑیاں خرید رہے ہیں تو وہ ہماری چھوٹی گاڑیوں کی طرف کیوں آئیں گے لیکن اب ان کے پاس موقع ہو گا۔‘
پاک ویلز کے سربراہ سنیل منج کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر حالیہ پابندی اور سخت شرائط بنیادی طور پر مقامی کمپنیوں کو ایک ’انسینٹو‘ یا موقع فراہم کریں گی کہ وہ چھوٹی گاڑیوں کے سیگمنٹ میں بھی سرمایہ کاری کریں۔
’پھر جب وہ سرمایہ کاری کریں گے اور ایک مقابلے کی فضا بنے گی تو ان چھوٹی گاڑیوں کی قیمتیں بھی کم ہوں گی اور فیچرز بھی بہتر ہوں گے‘ تاہم وہ کہتے ہیں کہ اب تک یہ زیادہ تر کمپنیاں بڑی گاڑیوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں کیونکہ اس میں منافع کی گنجائش زیادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنیل منج کہتے ہیں کہ پاکستان میں عام آدمی کی پہنچ میں آنے والی چھوٹی گاڑیوں کے سیگمنٹ میں ہمیشہ سے آپشنز کی کمی یا گنجائش رہی اور اب بھی موجود ہے۔
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ پابندی اور شرائط میں تبدیلیاں خوش آئند ہیں جن سے بظاہر حکومت نے ان سکیموں کے غلط استعمال کر روکنے کی کوشش کی ہے۔
’ہمارا مسئلہ اس آدمی کا ہے جو ایک کروڑ کی گاڑی نہیں خرید سکتا‘
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کہتے ہیں کہ بظاہر حکومت نے مقامی کار کمپنیوں کے ایما پر حالیہ پابندی اور سخت شرائط عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ جب یہ نئی کار کمپنیاں خاص طور پر چائنیز اور کورین کمپنیاں پاکستان میں آئیں تو لوگوں کو امید تھی کہ اب انھیں مقامی طور پر تیار کردہ اچھی چھوٹی گاڑیاں خریدنے کا موقع ملے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
’ان کمپنیوں نے زیادہ تر بڑی گاڑیاں اور ایس یو ویز بنائی جن کی قیمتیں ایک کروڑ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اب یہ گاڑیاں عام آدمی یا متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔ یہ صرف اس ایک فیصد کے لیے بنتی ہیں جس کے پاس انھیں خریدنے کا پیسہ ہے۔‘
ایچ ایم شہزاد کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں لوگوں کے لیے اچھی، محفوظ اور بہتر فیچرز کے ساتھ معیاری گاڑیاں حاصل کرنے کا ایک راستہ تھا جو اب حکومت نے بند کر دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اس سے حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں کو دی گئی ایک سہولت سے بھی محروم کر دیا۔
’گذشتہ مالی سال اور اس کے بعد کے چھ ماہ میں جو گاڑیاں سمندر پار پاکستانیوں نے پاکستان بھجوائی ہیں ان سے ٹیکسوں اور محصولات کی مد میں قومی خزانے کو لگ بھگ 800 ملین امریکی ڈالرز ملے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اب حکومت اس تمام پیسے سے محروم ہو جائے گی تاہم وہ کہتے ہیں کہ بنیادی نقصان ان لوگوں کو ہو گا جن کی اب ان گاڑیوں تک رسائی نہیں ہو گی۔
’ہمارا مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو ایک کروڑ کی گاڑی نہیں خرید سکتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو 20 یا 30 لاکھ روپے میں ایک اچھی گاڑی خریدنا چاہتے ہیں اور ہم انھیں یہ آپشن دے رہے تھے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بیگیج سکیم حکومت نے بند کر دی جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈینس میں شرط عائد کر دی گئی کہ اسی ملک سے گاڑی خریدی جائے گی جس ملک میں سمندر پار پاکستانی رہائش پذیر ہوں گے۔
’اب زیادہ تر سمندر پار پاکستانی مشرق وسطی میں رہتے ہیں اور وہاں پر گاڑیاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہیں تو وہ لیفٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑیاں یہاں کیسے لائیں گے۔‘
ایچ ایم شہزاد کہتے ہیں کہ وہ پہلے ہی گزشتہ برس وزیراعظم کو خط لکھ چکے ہیں جس میں ان سے ان فیصلوں پر نظرثانی کی اپیل کی گئی تھی جن کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں برآمد کرنے پر شرائط کو سخت کیا گیا تھا۔
اب جبکہ حکومت نے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا بیگیج سکیم کا طریقہ ہی بند کر دیا تو ایچ ایم شہزاد ایک مرتبہ پھر وزیراعظم کو خط لکھ کر نظرثانی کی اپیل کا ارادہ رکھتے ہیں۔
’حکومت کو پیسوں کا مسئلہ نہیں ہو گا‘
تاہم پاک ویلز کے سربراہ سنیل منج اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کے پاکستان نہ آنے سے قومی خزانے کو نقصان ہو گا۔
وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے پہلے ہی مقامی گاڑیوں کی صنعت پر اس قدر ٹیکس لگا رکھے ہیں کہ ان گاڑیوں کی قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکس کی مد میں قومی خزانے میں جا رہا ہے۔
’دوسرا یہ گاڑیاں خریدنے کے لیے پیسہ پاکستان سے باہر بھی جا رہا تھا۔ ان کی ادائیگی کرنے کے لیے ہنڈی کے ذریعے پیسے پاکستان سے بھجوائے جاتے تھے تو اس پابندی سے وہ پیسہ بھی ملک کے اندر ہی رہے گا۔‘
سنیل منج کہتے ہیں کہ ان سکیموں کے ذریعے حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں کو سہولت دے رکھی تھی کہ وہ اپنے زیر استعمال گاڑیاں پاکستان لا سکتے ہیں تاہم ان سہولیات کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ مقامی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی کافی عرصے سے یہ ایک ڈیمانڈ بھی تھی۔ جب 13 کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آ رہی تھیں تو وہ یہ توقع بھی کر رہی تھیں کہ ان کی صنعت کی حفاظت بھی کی جائے گی۔
سنیل منج کے خیال میں ’آپ کو ایک فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے کیا پالیسی رکھنی ہے۔ یا تو آسٹریلیا کی طرح مقامی صنعت کو ختم کر کے صرف درآمدات کرنی ہیں یا پھر اگر مقامی صنعت کو رکھنا ہے تو پھر اس کو انسینٹو بھی دینا ہے۔‘
ان کے خیال میں اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی پالیسی کے اندر تسلسل ہو۔ اگر یہ تسلسل قائم رہے گا تو اس کا فائدہ ایسے ہی ہو گا جیسے اب پاکستان میں نظر آنا شروع ہو رہا ہے جہاں مختلف مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں حال ہی میں کمی دیکھنے کو ملی۔












