سور ذبح کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل جس کے بعد ہزاروں لوگ خاتون کے گاؤں پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہShiguang Chongqing
- مصنف, سٹیفن میکڈونل
- عہدہ, بی بی سی کے چین میں نامہ نگار
- مقام, Beijing
جب ڈائی ڈائی کو احساس ہوا کہ ان کے والد چینی نئے سال سے پہلے ہونے والی روایتی اجتماعی دعوت کے لیے دو سور ذبح کرنے کے لیے بہت بوڑھے ہو چکے ہیں تو انھوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے والد کو برا محسوس ہو۔
گذشتہ ہفتے کے آخر میں انھوں نے چین کے ٹک ٹاک ڈوئین پر لکھا کہ ’کیا کوئی میری مدد کر سکتا ہے؟ میرے والد عمر رسیدہ ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ وہ ان سوروں کو سنبھال نہیں پائیں گے۔‘
ڈائی ڈائی بیس کی دہائی میں ہیں۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ جو لوگ ان کے گاؤں آ کر مدد کریں گے، انھیں سور کے گوشت کی دعوت دی جائے گی۔
سچوان اور چونگ چنگ کے دیہی علاقوں میں بڑی اجتماعی دعوتیں ثقافت کا اہم حصہ ہیں جن میں پکا ہوا سور کا گوشت، بھاپ میں پکی پسلیاں، سوپ اور گھر میں بنی شراب شامل ہوتی ہے۔
ڈائی ڈائی نے کہا ’میں اپنے گاؤں میں سر فخر سے بلند کرنا چاہتی ہوں۔‘
ان کی مدد کی اپیل کو دس لاکھ سے زیادہ لائیکس ملے اور ردعمل کسی جذباتی فلم کے منظر جیسا تھا۔ ہزاروں گاڑیاں گاؤں کی طرف روانہ ہو گئیں جن میں ضرورت سے کہیں زیادہ لوگ سوار تھے۔
اتنے زیادہ لوگ آ گئے کہ جنوب مغربی چین کے دیہی علاقے چونگ چنگ میں سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہو گیا۔
ڈرون تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھیتوں کے درمیان سڑکوں پر گاڑیاں قطار میں کھڑی ہیں اور لوگ کسی طرح گاؤں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ٹریفک سے بچنے کے لیے دور دور سے پیدل ہی چل پڑے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہJimu News
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈائی ڈائی نے لوگوں کو خبردار کیا کہ گاؤں آنے والے ڈرائیور احتیاط سے گاڑی چلائیں، خاص طور پر وہ جو شہروں سے آئے ہیں اور دیہی سڑکوں کے عادی نہیں۔
ایک شخص جو 100 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کر کے وہاں پہنچا، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ماحول بہت شاندار تھا۔ مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا جب ہمارے گھر میں بھی سور پالے جاتے تھے۔ کئی سال بعد ایسا احساس دوبارہ ہوا۔‘
اس شخص نے بتایا کہ اس نے ملک کے مختلف حصوں کی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں بھی دیکھیں۔
جب آخر کار سور ذبح کیے گئے اور اجتماعی دعوت ہوئی تو ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اسے آن لائن براہِ راست دیکھا۔ اس دوران دو کروڑ لائیکس ملے اور مقامی حکومت نے بھی اسے اچانک ابھرنے والی سیاحت کا موقع قرار دیا۔
چونکہ آنے والے لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ دو سور کافی نہیں تھے، اس لیے سیاحت کے محکمے نے مزید سور فراہم کیے اور چھوٹے ریستورانوں نے کھلی جگہوں پر بیٹھنے کا انتظام کر کے مہمانوں کی خدمت شروع کر دی۔
لیکن اس واقعے نے یہ دکھا دیا کہ سوشل میڈیا کے دور میں ایک چھوٹی سی بات بھی کتنی تیزی سے بہت بڑے معاملے میں بدل سکتی ہے۔
ڈائی ڈائی نے چینی میڈیا کو بتایا ’میں نے سوچا تھا شاید درجن بھر لوگ مدد کے لیے آئیں گے مگر اتنے زیادہ لوگ آ گئے کہ گنتی ممکن نہیں۔‘
اس زبردست ردعمل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چین کے لوگ دوبارہ اپنی اجتماعی اور ثقافتی روایات سے جڑنے کی خواہش رکھتے ہیں اور ساتھ ہی زندگی کے مشکل اور مایوس کن لمحات میں انھیں کسی مثبت اور خوشگوار تجربے کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
ڈائی ڈائی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہو گیا۔ گذشتہ جمعے کو انھوں نے مدد کی اپیل سوشل میڈیا پر ڈالی۔ سنیچر تک ردعمل اتنا زیادہ آ گیا کہ انھوں نے پولیس کو اطلاع دی کہ گاؤں میں حالات خراب ہو سکتے ہیں، جس کے بعد اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔
اب یہ ایک بہت بڑی دعوت بن چکی تھی جو دو دن تک جاری رہی۔ 11 جنوری کو ایک ہزار افراد نے کھانا کھایا اور اگلے دن یہ تعداد دو ہزار تک پہنچ گئی۔ رات گئے تک آگ جلتی رہی، موسیقی کا انتظام تھا اور خوب جشن منایا گیا۔
آخرکار ڈائی ڈائی نے اعلان کیا کہ تقریب ختم ہو چکی اور مزید آنے والے مہمانوں سے کہا کہ وہ علاقے کی سیر کریں لیکن ان کے گھر نہ آئیں۔ دو دن میں صرف چار گھنٹے سونے کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ شدید تھکن کا شکار ہیں۔
اس کے باوجود، یہ لمحہ ان کے لیے اور گاؤں کے لیے ناقابلِ یقین اور یادگار ثابت ہوا۔

،تصویر کا ذریعہShiguang Chongqing
ڈائی ڈائی نے مدد کے لیے آنے والے تمام اجنبی لوگوں سے کہا کہ ’آپ سب کے جوش اور خلوص کے بغیر ایسی دعوت ممکن نہیں تھی۔‘
انھوں نے کہا ’جو بھی آیا، اسے لگا جیسے سب ایک ہی بڑے خاندان کا حصہ ہیں۔ یہ بہت خوشگوار، دل کو سکون دینے والا اور یادگار تجربہ تھا۔‘
ڈائی ڈائی نے اس اچانک اور بڑے جشن کو ممکن بنانے پر سرکاری حکام اور پولیس کا بھی شکریہ ادا کیا۔
اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ہیچوان کا علاقہ، جہاں ان کا گاؤں ہے، اس واقعے کو باقاعدہ تقریب بنا سکتا ہے تاکہ لوگ دوبارہ ایک دوسرے سے مل سکیں اور اپنی ثقافت سے جڑ سکیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔
ایک شخص نے پیپلز ڈیلی میں کہا ’یہاں ہمسائے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ آج میں آپ کے گھر سور ذبح کرنے میں مدد کروں گا، کل آپ میرے گھر آ کر یہی کام کریں گے۔‘
جہاں تک ڈائی ڈائی کے والد کا تعلق ہے، انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’میرے والد بہت خوش ہیں۔ اتنے زیادہ لوگوں کو آتا دیکھ کر انھیں دوسرے لوگوں سے میزیں اور کرسیاں ادھار لینی پڑیں۔ ہم نے اپنی زندگی میں ایسا کچھ کبھی نہیں دیکھا۔‘












