سستی الیکٹرک گاڑیوں کا وہ نظام جس نے چین کو اس صنعت کا بے تاج بادشاہ بنا دیا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, اینابیل لیانگ اور نِک مارش
- عہدہ, بی بی سی نیوز
چین کے جنوب میں گوانگژو کے مضافات میں واقع ایک چارجنگ سٹیشن پر کام کرنے والے ڈرائیور لو یون فینگ کا کہنا ہے کہ ’میں الیکٹرک گاڑی چلاتا ہوں کیونکہ میں غریب ہوں۔‘
قریب کھڑے سن جِنگو اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پیٹرول والی گاڑی چلانا بہت مہنگا ہے۔ میں بجلی سے چلنے والی گاڑی چلا کر پیسے بچاتا ہوں۔‘
اپنی سفید بیجنگ یو سیون ماڈل کے ساتھ ٹیک لگائے وہ کہتے ہیں، ’اس کے علاوہ، یہ ماحول دوست ہے۔‘
یہ اس قسم کی بات چیت ہے جس کا ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مہم چلانے والے سراہتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز) لگژری سمجھی جاتی ہیں۔
لیکن چین میں جہاں پچھلے سال فروخت ہونے والی تمام کاروں میں سے تقریبا نصف الیکٹرک تھیں، یہ ایک حقیقت ہے۔
مارکیٹ میں کامیاب ترین
رواں صدی کے آغاز میں چین کی قیادت نے مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر غلبہ حاصل کرنے کے منصوبے مرتب کیے۔
کبھی سائیکلوں کا ملک چین اب الیکٹرک گاڑیوں میں دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔
گوانگژو کے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لیے رش کے اوقات شور ایک بھنبھناہٹ بن گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار مائیکل ڈن کہتے ہیں کہ ’جب الیکٹرک گاڑیوں کی بات آتی ہے تو چین 10 سال آگے ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں 10 گنا بہتر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کی بی وائے ڈی اس سال کے اوائل میں امریکی حریف ٹیسلا کو پیچھے چھوڑنے کے بعد اب عالمی ای وی مارکیٹ میں سرفہرست ہے۔
بی وائے ڈی کی فروخت کو 1.4 ارب سے زائد افراد کی ایک وسیع مقامی مارکیٹ سے مدد ملی ہے اور اب یہ بیرون ملک مزید گاڑیاں فروخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اسی طرح دیگر چینی سٹارٹ اپس بھی ہیں جو بڑے پیمانے پر مارکیٹ کے لیے سستی الیکٹرک گاڑیاں بناتے ہیں۔
تو چین نے یہ برتری کیسے حاصل کی اور اس تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟
ماسٹر پلان
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
چین کی ای وی بالادستی کی ابتدا کا سراغ لگانے میں تجزیہ کار اکثر جرمنی سے تربیت یافتہ انجینیئر وان گینگ کو کریڈٹ دیتے ہیں جو 2007 میں چین کے وزیر تجارت اور سائنس بنے تھے۔
’انھوں نے چاروں طرف دیکھا اور کہا، ’اچھی خبر: اب ہم دنیا کی سب سے بڑی کار مارکیٹ ہیں۔ بری خبر: بیجنگ، شنگھائی، گوانگژو کی سڑکوں پر میں صرف غیر ملکی برانڈز کو دیکھتا ہوں‘۔‘
اس وقت چینی برانڈز معیار اور وقار کے لیے یورپی، امریکی اور جاپانی کار سازوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔
جب پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی کاریں تیار کرنے کی بات آئی تو ان کمپنیوں کا سر ناقابل تسخیر تھا۔
لیکن چین کے پاس وافر وسائل، ہنرمند افرادی قوت اور موٹر انڈسٹری میں سپلائرز کا ایکو سسٹم موجود تھا۔
ڈن کے مطابق اس لیے وان نے فیصلہ کیا کہ وہ ’سکرپٹ کو برقی رنگ میں تبدیل کریں گے۔‘
یہ ایک ماسٹر پلان تھا۔
اگرچہ چینی حکومت نے 2001 کے اوائل میں اپنے پانچ سالہ اقتصادی خاکے میں الیکٹرک گاڑیوں کو شامل کیا تھا لیکن 2010 کی دہائی تک اس نے صنعت کو فروغ دینے کے لیے بڑی مقدار میں سبسڈی فراہم کرنا شروع نہیں کی تھی۔
مغربی جمہوریتوں کے برعکس چین کئی سالوں سے اپنی معیشت کے بڑے حصے کو اپنے مقاصد کی جانب متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ملک کے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اور مینوفیکچرنگ میں غلبہ اس کا ثبوت ہے۔
ایک امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کا اندازہ ہے کہ 2009 سے 2023 کے اختتام تک بیجنگ نے ای وی انڈسٹری کی ترقی پر تقریبا 231 ارب ڈالر خرچ کیے۔
ای وی کی بات ہو تو صارفین اور کاریں بنانے والوں سے لے کر بجلی فراہم کرنے والوں اور بیٹری سپلائرز تک چین میں ہر کوئی پیسے اور مدد کا حقدار ہے۔
مثال کے طور پر اس نے بی وائی ڈی کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سمارٹ فون کی بیٹریاں بنانے سے ای وی کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے۔
ٹیسلا، ووکس ویگن اور فورڈ جیسی کمپنیوں کو سپلائی کرنے والی ننگڈے میں قائم سی اے ٹی ایل کی بنیاد 2011 میں رکھی گئی تھی اور اب یہ دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے استعمال ہونے والی تمام بیٹریوں کا ایک تہائی تیار کرتی ہے۔
طویل مدتی منصوبہ بندی اور حکومتی فنڈنگ کے اس امتزاج نے چین کو بیٹری کی پیداوار میں اہم سپلائی چین پر غلبہ حاصل کرنے کے قابل بنایا۔
اس نے دنیا کا سب سے بڑا عوامی چارجنگ نیٹ ورک بنانے میں مدد کی ہے جس کے سٹیشن بڑے شہروں میں ہیں، جہاں ڈرائیوروں چند منٹ کی دوری پر چارجر دستیاب ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈن کہتے ہیں کہ 'اگر آپ آج الیکٹرک کار میں ڈالنے کے لیے بیٹری بنانا چاہتے ہیں تو تمام راستے چین سے گزرتی ہیں۔‘
کچھ لوگ اسے ’ریاستی سرمایہ داری‘ کہتے ہیں۔ مغربی ممالک اسے غیر منصفانہ کاروباری عمل قرار دیتے ہیں۔
چینی ای وی ایگزیکٹوز کا اصرار ہے کہ تمام ملکی یا غیر ملکی کمپنیوں کو یکساں وسائل تک رسائی حاصل ہے۔
وہ دلیل دیتے ہیں کہ چین میں اب ایک پھلتا پھولتا ای وی سٹارٹ اپ سیکٹر ہے، جو شدید مسابقت اور جدت سے چلتا ہے۔
ای وی بنانے والی کمپنی ایکس پینگ کے صدر برائن گو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چینی حکومت وہی کر رہی ہے جو آپ یورپ اور امریکہ میں دیکھ رہے ہیں یعنی پالیسی سپورٹ، صارفین کی حوصلہ افزائی اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا۔‘
وہ کہتے ہیں ’لیکن میرے خیال میں چین نے یہ کام مسلسل اور اس انداز میں کیا ہے جو سب سے زیادہ مسابقتی منظر نامے کو فروغ دیتا ہے۔ کسی کی طرفداری نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAnnabelle Liang
ایکس پینگ ’چینی چیمپیئنز‘ میں سے ایک ہے جیسا کہ برائن گو کہتے ہیں کہ یہ صنعت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
بمشکل ایک دہائی پرانی اور ابھی تک منافع حاصل کرنے میں ناکام سٹارٹ اپ پہلے ہی دنیا کے ٹاپ 10 ای وی پروڈیوسروں میں شامل ہے۔
کمپنی نے چین کے چند سرکردہ نوجوان گریجویٹس کو گوانگژو میں اپنے ہیڈکوارٹرز کی طرف راغب کیا ہے، جہاں سادہ لباس میں ملبوس عملہ کافی پیتے ہوئے انٹرنیٹ سٹریمرز شو روم میں براہ راست گاڑیاں فروخت کرتے ہیں۔
برائن گو کا کہنا ہے کہ پرسکون ماحول کے باوجود صارفین کو کم قیمتوں پر بہتر گاڑیاں پیش کرنے کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔
بی بی سی کو ایکس پینگ کی مونا میکس کی ٹیسٹ ڈرائیو پر مدعو کیا گیا تھا جو چین میں تقریبا 20،000 ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے۔
اس قیمت میں آپ کو سیلف ڈرائیونگ کی صلاحیت، صوتی فعالیت، لائی فلیٹ بیڈ، فلم اور میوزک سٹریمنگ ملتی ہے۔
ہمیں بتایا گیا ہے کہ نوجوان چینی گریجویٹس ان سب کو پہلی کار کی خریداری کے لیے معیاری خصوصیات کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ہیسائی بہت سی سیلف ڈرائیونگ کاروں میں استعمال ہونے والی لیڈر سینسنگ ٹیکنالوجی بناتا ہے، اس کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ لی کہتے ہیں کہ 'ای وی بنانے والوں کی نئی نسل کاروں کو ایک مختلف جانور کے طور پر دیکھتے ہیں'۔
'ایک ای وی میرے لیے معنی رکھتی ہے'
سی ایس آئی ایس کے مطالعے کے مطابق نوجوان چینی صارفین یقینی طور پر اعلی درجے کی ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہوتے ہیں، لیکن سرکاری اخراجات کا ایک بڑا حصہ ای وی کو مالی طور پر پرکشش بنانے پر خرچ ہوتا ہے۔
عوام کو اپنی غیر برقی کار کے بدلے ای وی کے حصول میں سبسڈی کے ساتھ ساتھ عوامی چارجنگ سٹیشنوں پر ٹیکس چھوٹ اور رعایتی نرخ ملتے ہیں۔
ان مراعات نے لُو کو دو سال پہلے برقی ہونے پر مجبور کیا تھا۔
وہ 400 کلومیٹر ڈرائیونگ کے لیے اپنی گاڑی میں ایندھن بھرنے کے لیے 200 یوآن یعنی 27.84 ڈالرادا کرتے تھے۔ اب اسے اس کا ایک چوھائی خرچ کرنا پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnnabelle Liang
چین میں لوگ عام طور پر اپنی گاڑی کی رجسٹریشن پلیٹ کے لیے ہزاروں روپے ادا کرتے ہیں کبھی کبھی خود کار کی قیمت سے بھی زیادہ۔
ہجوم اور آلودگی کو محدود کرنے کی حکومتی کوششوں کے حصے کے طور پر لُو کو اب اپنا ماحول دوست نمبر مفت مل گیا ہے۔
لو کہتے ہیں کہ 'امیر لوگ پیٹرول سے گاڑیاں چلاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لامحدود وسائل ہیں۔ ایک ای وی صرف میرے لیے معنی رکھتا ہے۔'
شنگھائی میں ایک اور ای وی مالک جو اپنا انگریزی نام ڈیزی استعمال کرنا چاہتی تھیں، کہتی ہیں کہ سٹیشن پر اپنی گاڑی چارج کرنے کے بجائے، وہ ای وی بنانے والی کمپنی نیو کے ذریعہ فراہم کردہ شہر کے متعدد خودکار سوئپنگ سٹیشنوں میں سے ایک پر اپنی کار کی بیٹری تبدیل کرتی ہیں۔
تین منٹ سے بھی کم وقت میں مشینیں ان کی فلیٹ بیٹری کو مکمل طور پر چارج ہونے والی بیٹری سے بدل دیتی ہیں۔ یہ ایندھن کے ٹینک کی قیمت سے بھی کم قیمت پر جدید ترین ٹیکنالوجی ہے۔
اس کا مستقبل کیا ہے
چین کی ای وی ترقی میں سرکاری سبسڈی کو وہ ممالک غیر منصفانہ سمجھتے ہیں جو اپنی کار کی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
امریکہ، کینیڈا اور یورپی یونین نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر کافی درآمدی ٹیکس عائد کیے ہیں۔
تاہم برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایکس پینگ جیسی کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش مارکیٹ بنا گیا ہے، جس نے مارچ میں برطانوی صارفین کو اپنا جی سکس ماڈل فراہم کرنا شروع کیا تھا اور بی وائی ڈی، جس نے رواں ماہ برطانیہ میں اپنا ڈولفن سرف ماڈل لانچ کیا تھا، اور یہ 26،100 ڈالر میں دستیاب ہے۔
یہ مغربی حکومتوں کے لیے ایک خوشگوار قدم ہونا چاہیے جو ای وی یعنی برقی گاڑیوں پر منتقل ہونے کی پرجوش حمایت کرتی ہیں۔ جسے اقوام متحدہ نے بھی موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ 2030 تک پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی فروخت پر پابندی عائد کر دیں گے۔
اسے حقیقت کا روپ دینے میں مدد کے لیے چین سے بہتر کوئی ملک نہیں ہے۔
ڈن کہتے ہیں 'چینی ایک ایسے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں جہاں وہ دنیا کے لیے تقریبا ہر ایک کار تیار کریں گے۔وہ چاروں طرف دیکھ کر کہہ رہے ہیں، کیا کوئی ہم سے بہتر کر سکتا ہے؟'
'ڈیٹرائٹ، ناگویا، جرمنی، برطانیہ اور دنیا بھر میں ہر جگہ کے رہنما سر ہلا رہے ہیں۔ یہ ایک نیا دور ہے، اور چینی ابھی اپنے امکانات کے بارے میں بہت پراعتماد محسوس کر رہے ہیں۔'
ماحولیاتی فوائد کے باوجود اب بھی اس بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں کہ چینی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے سے کیا حاصل ہوسکتا ہے۔
برطانیہ کے ایم آئی سکس کے سابق سربراہ سر رچرڈ ڈیئرلو نے حال ہی میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کو 'پہیوں پر چلنے والے کمپیوٹرز' قرار دیا تھا جنہیں 'بیجنگ سے کنٹرول' کیا جا سکتا ہے۔
بی وائی ڈی کی ایگزیکٹو نائب صدر سٹیلا لی نے بی بی سی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ چینی الیکٹرک گاڑیاں ایک دن برطانوی شہروں کو منجمد کر سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'کھیل ہارنے والا کچھ بھی دعویٰ کر سکتا ہے۔ لیکن پھر کیا؟'
'بی وائی ڈی ڈیٹا سکیورٹی کے بہت اعلیٰ معیار کے لیے ادائیگی کرتا ہے۔ ہم اپنے تمام ڈیٹا کے لیے مقامی کیریئر استعمال کرتے ہیں۔ درحقیقت ہم اپنے حریفوں کے مقابلے میں 10 گنا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔'
اس کے باوجود سر رچرڈ کے خدشات چینی ٹیکنالوجی سے متعلق قومی سلامتی سے متعلق سابقہ بحثوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر بنانے والی کمپنی ہواوے بھی شامل ہے جس کے آلات پر کئی مغربی ممالک میں پابندی عائد کی گئی تھی اور ساتھ ہی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک بھی شامل ہے جو برطانوی حکومت کی ڈیوائسز پر ممنوع ہے۔
لیکن گوانگژو میں سن جنگگو کے لیے پیغام آسان ہے۔
وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ 'میرے خیال میں دنیا کو اس ٹیکنالوجی کو دنیا کے سامنے لانے پر چین کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ میں کرتا ہوں۔'
لندن میں بین الاقوامی کاروباری نامہ نگار تھیو لیگٹ کی اضافی رپورٹنگ۔













