’رن وے نظر نہیں آ رہا‘: مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ کی طیارہ حادثے میں ہلاکت سے قبل پائلٹ کی آخری گفتگو

طیارہ حادثہ، مہاراشٹر

،تصویر کا ذریعہReuters

انڈین ریاست مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پوار سمیت پانچ افراد کو لے جانے والا چارٹر طیارہ اس وقت گِر کر تباہ ہوا جب وہ بارامتی ایئرپورٹ پر اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔

پونے کے ایس پی سندیپ سنگھ نے بتایا کہ ’طیارہ آج (بدھ) صبح 8 بج کر 40 منٹ پر لینڈنگ سے پہلے ہی تباہ ہو گیا۔ طیارے میں پانچ افراد سوار تھے۔‘

بی بی سی مراٹھی کے مطابق اجیت پوار کے ساتھ ہلاک ہونے والے دیگر افراد کے نام سمت کپور، شمبھوی پاٹھک، ویدیپ جاڈھو اور پنکی مالی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ’لینڈنگ کے دوران کچھ مسئلہ نظر آ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ طیارہ گر سکتا ہے۔‘

ہوابازی کی وزارت نے پائلٹ اور اے ٹی سی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں جو بارامتی ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل ریکارڈ کی گئی تھیں۔

وزیرِ اعظم، مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ، نائب وزیرِ اعلیٰ، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے اجیت پوار کی وفات پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔

جبکہ مہاراشٹر حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

विमान दुर्घटना

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنبدھ کی صبح تقریباً 8:45 بجے لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوا

ایوی ایشن حکام نے ابتدائی تحقیقات کے بارے میں کیا کہا؟

پی آئی بی کے مطابق وزارتِ شہری ہوابازی نے بیان میں کہا کہ بارامتی ایک غیر کنٹرول شدہ ایئرفیلڈ ہے جہاں ٹریفک کی معلومات فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشن کے انسٹرکٹرز یا پائلٹس فراہم کرتے ہیں۔

ڈی جی سی اے نے بھی ایک تفصیلی بیان ’ایکس‘ پر جاری کیا۔ اس میں درج ہے کہ 28 جنوری 2026 کو صبح آٹھ بج کر 18 منٹ پر پرواز نے پہلی بار بارامتی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔

اس کے بعد طیارے نے 30 ناٹیکل میل پر پونے اپروچ سے کلیئرنس لی۔ پائلٹ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ویژول میٹیورولوجیکل کنڈیشنز میں اپنی صوابدید پر لینڈنگ کرے۔ عملے نے ہوا کی رفتار اور حدِ نظر کے بارے میں پوچھا تو انھیں بتایا گیا کہ ہوا پُرسکون ہے اور حدِ نظر تقریباً 3000 میٹر ہے۔

طیارے نے رن وے 11 کے لیے فائنل اپروچ رپورٹ کی لیکن عملہ رن وے دیکھ نہیں سکا اور پہلا اپروچ گو راؤنڈ میں تبدیل کر دیا۔

بعد ازاں پائلٹ نے دوبارہ بتایا کہ وہ رن وے 11 پر فائنل اپروچ پر ہیں۔ عملے کو کہا گیا کہ رن وے نظر آ جائے تو اطلاع دیں۔ چند لمحوں بعد پائلٹ نے کہا ’رن وے اس وقت نظر نہیں آ رہا، نظر آئے گا تو کال کروں گا۔‘

کچھ سیکنڈ بعد پائلٹ نے بتایا کہ ’رن وے نظر آ رہا ہے۔‘

آٹھ بج کر 43 منٹس پر طیارے کو لینڈنگ کی اجازت دی گئی مگر عملے کی جانب سے اجازت کا ریڈ بیک نہیں ملا۔ اس کے بعد اے ٹی سی نے رن وے 11 کے قریب آگ کے شعلے دیکھے اور ایمرجنسی سروسز فوراً وہاں پہنچ گئیں۔ طیارے کا ملبہ رن وے کے بائیں جانب پایا گیا۔

وزارت نے کہا کہ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو نے تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔ ’ڈائریکٹر جنرل جائے وقوعہ کا جائزہ لینے پہنچ رہے ہیں۔ مزید معلومات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔‘

लियरजेट 45

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنیہ آٹھ مسافروں کی گنجائش والا مسافر طیارہ تھا

طیارے کے بارے میں کیا معلومات سامنے آئیں؟

وزارت کے مطابق تباہ ہونے والا چارٹر طیارہ وی ٹی ایس ایس کے تھا اور پرواز ایل جے 45 تھی جو ممبئی سے بارامتی جا رہی تھی۔

لیئر جیٹ 45 نامی یہ درمیانے سائز کا بزنس جیٹ بومبارڈیئر نامی کمپنی تیار کرتی ہے۔ اس میں آٹھ مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ طیارہ دو ٹربوفین انجنوں سے چلتا ہے۔ یہ انڈیا میں تیز رفتار چارٹر پروازوں کے لیے بہت مقبول ہے۔

2010 میں تیار کردہ یہ طیارہ دلی کی کمپنی وی ایس آر کی ملکیت تھا۔ کمپنی کے پاس مجموعی طور پر 17 طیارے ہیں

فروری 2025 میں ڈی جی سی اے نے ان کے بیڑے کا آخری آڈٹ کیا تھا جس میں کوئی خرابی رپورٹ نہیں ہوئی۔

بی بی سی مراٹھی کے مطابق اسی کمپنی کا ایک طیارہ 2023 میں ممبئی میں لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا تھا مگر اس میں تمام افراد زندہ بچ گئے تھے۔ اس حادثے کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

وزارت کے مطابق طیارے میں دو پائلٹ موجود تھے۔ ایک پائلٹ اے ٹی پی ایل لائسنس رکھتے تھے اور ان کا تجربہ 15 ہزار گھنٹوں کا تھا۔

دوسرے پائلٹ کے پاس سی پی ایل لائسنس تھا اور انھوں نے 1500 گھنٹے کی پروازیں کی تھیں۔

ایک عینی شاہد نے اے این آئی کو بتایا کہ 'میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جب طیارہ نیچے آ رہا تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ اتر نہیں پائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ پھر دھماکہ ہوا۔ دھماکہ بہت زوردار تھا۔

’آگ اتنی شدید تھی کہ لوگ مدد نہیں کر سکے۔ اجیت پوار بھی طیارے میں تھے۔۔۔ (میرے پاس) الفاظ نہیں ہیں۔‘

दुर्घटना के बाद राहत और बचाव के लिए प्रशासन के साथ स्थानीय लोग भी पहुंचे थे.

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنحادثے کے بعد انتظامیہ کے ساتھ مقامی لوگ بھی امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچ گئے تھے

ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ ’طیارہ آیا مگر اترا نہیں۔ وہ آگے گیا، پھر کچھ دیر بعد واپس آیا اور لینڈ کرنے لگا۔ مگر رن وے سے پہلے ہی کریش ہوگیا۔‘

انھوں نے کہا کہ آگ پر تقریباً 15 منٹ بعد قابو پایا گیا۔ ’لاش مکمل طور پر جلی ہوئی تھی۔ شناخت ممکن نہیں تھی۔

’بعد میں ہاتھ میں موجود ایک چیز سے پتا چلا کہ یہ دادا یعنی اجیت پوار کی لاش ہے۔‘