اب ’دولے شاہ کے چوہے‘ کیوں نظر نہیں آتے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
پہلی بات تو یہ ہے کہ بلھے شاہ جو کہ قصور میں 300 برس سے محوِ استراحت ہیں وہ انڈین ریاست اتراکھنڈ کے شہر مسوری میں 100 برس سے قائم درگاہ بلھے شاہ میں کیا کر رہے تھے؟ کسی نہ کسی دن تو بھگتنا ہی تھا۔
چنانچہ چار روز پہلے اتراکھنڈ میں متحرک ہندو رکھشا دل کے ایک جھتے نے درگاہ میں گھس کے توڑ پھوڑ کی اور رکھشا دل کے سربراہ پنکی چوہدری نے سینہ چوڑا کرتے ہوئے لکھا کہ انڈیا ’دیوتاؤں کا استھان ہے، بلھے شاہ یہاں کیا کر رہا ہے۔ ہم نے اسے پاکستان بھجوا دیا ہے۔‘
مجھے یقین ہے کہ پنکی جی یا ان کے غصیلے لونڈوں کو ککھ پتہ نہیں ہو گا کہ درگاہ توڑنے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ’بلھے شاہ اساں مرناں ناہیں گور پئا کوئی ہور‘۔۔
پولیس نے بظاہر توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس اور کیا کرے؟
بلھے شاہ کی جب قصور میں وفات ہوئی تب بھی مولویوں نے جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا اور اب تین صدیوں بعد ہندو رکھشک ان کی شہریت طے کر رہے ہیں۔
اتراکھنڈ میں آستانہ بلھے شاہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک تسلسل ہے۔ اس کے ڈانڈے دراصل فروری 2002 کی ریاست گجرات سے جا ملتے ہیں۔
تب گجرات میں مکھ منتری نریندر مودی کے ہوتے جو انسان دھرم کے نام پر قتل ہوئے سو ہوئے مگر اس جنونیت کی لپیٹ میں وہ بھی آ گئے جو سینکڑوں برس سے قبر میں پڑے تھے۔
ان میں نمایاں ترین نام اردو شاعری کے ایک جدِ امجد ولی گجراتی ( وفات 1707) کا ہے۔ احمد آباد میں ان کے مزار کو باقاعدہ بلڈوزروں سے مٹایا گیا۔ دو ہفتے کے دنگوں میں گجرات کی 230 درگاہوں، مزارات اور مساجد کی شامت آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت جس طرح کے حالات اور دماغ چل رہے ہیں کچھ بعید نہیں کہ تلنگانہ ریاست کے دارلحکومت حیدرآباد کے قبرستان میر مومن میں 58 برس سے قیام پذیر خان صاحب بڑے غلام علی خان کی قبر پر بھی کسی جتھے کی نگاہ پڑ جائے اور سنگِ مزار پر جائے پیدائش قصور پڑھ کے اسے بھی توڑ تاڑ کے پاکستان بھجوانے کا اعلان ہو جائے۔
یہ محض انڈیا کا نہیں افغانستان تا بنگلہ دیش پورے خطے کا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ بامیان میں گوتم بدھ کا مجسمہ توڑنے کا خیال محمود غزنوی کو بھی نہیں سوجھا مگر ہزار برس بعد ملا عمر کو آ گیا۔ مشکل یہ ہے کہ مسئلہ صرف مسلمان بمقابلہ غیر مسلمان تک ہی محدود نہیں۔
مئی 2005 میں اسلام آباد میں بری امام کے مزار پر خودکش حملے میں 20 زائرین ہلاک اور 150 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہANI
پشتو کے عظیم شاعر رحمان بابا کا انتقال 1711 عیسوی میں ہوا۔ وفات سے پہلے انھیں گماں تک نہ ہو گا کہ 298 برس بعد (مارچ 2009) کوئی سرپھرا گروہ ان کی قبر بم سے اڑا دے گا۔
جولائی 2010 میں داتا دربار پر خودکش حملے میں 40 افراد ہلاک ہوئے۔ اکتوبر 2010 میں کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر خودکش حملے میں آٹھ زائرین ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔ چند دن بعد پاکپتن میں بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حملے میں چار افراد ہلاک اور 13زخمی ہوئے۔
فروری 2017 میں سیہون میں شہباز قلندر کا مزار نشانہ بنا۔ قبر کے قریب خودکش بمبار کی لپیٹ میں 70 سے زائد لوگ آ گئے اور عمارت کو بھی خاصا نقصان پہنچا۔
’میرے قبرستان میں تیری ماں کیسے دفن ہو سکتی ہے‘ جیسے روز کے المیے لے کر بیٹھ جاؤں تو شاید قصہ ہی ختم نہ ہو۔ مختصر یہ کہ ہمارے پرکھوں نے جو تاریخی سفر ’مسلم پانی، ہندو پانی‘ کی تفریق سے شروع کیا تھا وہ آج ’میرا قبرستان، تیرا قبرستان‘ تک پہنچ چکا ہے۔
فلم، میڈیا اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے آج کے انڈیا کی سماجی رگوں میں مسلمان کی یہ تعریف اتاری جا رہی ہے کہ یا تو پاکستان سے کنکشن ہے، یا بنگلہ دیشی ہے یا پھر خاموش دہشت گرد ہے۔
جبکہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں مقامی سکھ بھی ’یاتری‘ سمجھے جاتے ہیں اور ہندو بھی ’یہ ہم میں سے نہیں‘ کے عدسے سے دیکھے جاتے ہیں۔
ساڑھی پاکستانی اشرافیہ ( فاطمہ جناح، ناہید سکندر مرزا، بیگم نسیم اورنگ زیب، بیگم نصرت بھٹو وغیرہ) کی وارڈ روب کا لازمی حصہ تھی۔ نصف صدی میں بس اتنا ہوا ہے کہ کسی چھوٹے قصبے کے بازار کو تو جانے دیجیے، لاہور کے کسی بڑے شاپنگ مال میں بھی کوئی خاتون ساڑھی میں دکھائی دے جائے تو کوئی نہ کوئی ’حیرتیا‘ گھوم پھر کر پوچھ ہی بیٹھے گا کہ آپ کو پاکستان کیسا لگا یا آپ پہلی بار لاہور آئی ہیں؟ امرتسر یا دلی؟
کسی کے ذہن میں خیال تک نہیں آئے گا کہ یہ خاتون پاکستانی بھی ہو سکتی ہیں، کوئی بنگلہ دیشی مسلمان بھی ہو سکتی ہیں۔ اسے کہتے ہیں ذہن سازی۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کچھ برس پہلے تک ٹیپو سلطان انڈیا اور پاکستان کے قومی ہیرو تھے۔ اب انھیں پاکستان میں ہی ہیرو مانا جاتا ہے۔ تقسیم سے پہلے بھگت سنگھ سانجھی ہندو مسلم سکھ وراثت تھے۔ اب انڈیا میں ہی انھیں ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ حالانکہ وہ پیدا پاکستان (لائل پور) میں ہوئے اور پھانسی بھی پاکستان (لاہور) میں ہوئی۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے اور لاہور میں آنکھیں موند لیں۔ پھر بھی کوئی جوشیلا شاہی قلعہ میں نصب گھڑ سوار رنجیت سنگھ کے مجسمے کا بازو توڑ گیا۔ اسے کہتے ہیں ذہن سازی ۔
رہی پاکستانی کرسچین کمیونٹی۔ تو وقت کے ساتھ ساتھ ایسے کرسچینز کی تعداد کم ہو رہی ہے جو اپنے نام کے ساتھ ڈیوڈ یا مسیح وغیرہ لگائیں۔ مثلاً میرا سکول فیلو انور مسیح اب معنی خیز نگاہوں سے بچنے کے لیے انور شیراز بھٹی ہو گیا ہے۔
کئی انڈین مسلمان بھی گھر سے باہر بتانے کے لیے سنگل نیوٹرل نام رکھنے کا چلن اپنا رہے ہیں۔ جیسے آزاد، درشن، سیما، زارا، ساحل، راجن وغیرہ۔ کچھ ریاستوں میں کاروباری بائیکاٹ کے سبب قدرت جنرل سٹور آکاش جنرل سٹور ہو گیا ہے۔ اس کا توڑ یہ نکالا گیا کہ کمبھ کے پچھلے میلے میں مقامی انتظامیہ نے حکم جاری کیا کہ ہر دوکان پر مالک اپنا پورا نام بھی لکھے تاکہ یاتریوں کے پاس اس دوکان سے سودا خریدنے یا نہ خریدنے کی چوائس ہو۔
کیا مغلوں نے بھی انڈیا ورش پر پانچ سو برس حکومت کی؟ آج یو پی، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان یا ہریانہ کے کسی سکولی بچے سے پوچھیں گے تو وہ الٹا آپ سے پوچھ لے گا کہ یہ مغل کیا ہوتے ہیں؟ اسے تو بس یہی پتہ ہے کہ بابر کی اولاد یا اورنگ زیب کی اولاد کسی کو کہنا گالی ہے۔
اور جب سرحد پار نصاب میں بھی یہ لکھا جائے گا کہ پاکستان تو اس وقت ہی وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا تو پاکستانی اقلیتوں کو مشکوک ہونے اور بلھے شاہ کو اترا کھنڈ سے پاکستان بھیجنے کی گھوشنا کون روک سکتا ہے؟
میرے بچپن میں اکثر ایسے فقیر بھی گلی سے گذرتے تھے جنھوں نے کندھے پر ایک انسان نما شے بٹھائی ہوتی۔کھوپڑی چھوٹی سی اور دھڑ نارمل۔ اس مخلوق کو ’دولے شاہ کے چوہے‘ کہا جاتا تھا۔ انھیں پنجاب کے شہر گجرات سے لایا جاتا تھا۔
بعد میں سنا کہ یہ ظالمانہ رسم ختم ہو گئی ہے۔ شاید ترقی ہو گئی۔ اب کھوپڑی چھوٹی بنانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ایک نارمل سائز دماغ کو ہی آسانی سے ڈیجیٹل اوزاروں کی مدد سے چھوٹا بنایا جا سکتا ہے اور سامنے سے پتہ بھی نہیں چلتا۔












