لائیو, ٹرمپ کے بیان پر ایرانی وزیرِ خارجہ کا ردِ عمل: ایران کسی بھی حملے کا ’فوری اور طاقتور‘ جواب دینے کے لیے تیار ہے
عباس عراقچی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ یہ کیا تھا کہ ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کر رہا ہے۔
خلاصہ
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے مذاکرات نہ کیے تو اس بار کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہو گی۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ ’مذاکرات چاہتے ہیں تو دھمکیوں اور غیر منطقی مطالبات کو ختم کرنا ہوگا‘
اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں جبکہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات جمعرات کے روز متوقع ہے
مہاراشٹر میں طیارہ گر کر تباہ، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سمیت پانچ افراد ہلاک
لائیو کوریج
ٹرمپ کے بیان پر ایرانی وزیرِ خارجہ کا ردِ عمل: ایران کسی بھی حملے کا ’فوری اور طاقتور‘ جواب دینے کے لیے تیار ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس
عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ان کی افواج ملک پر ہونے والے کسی بھی حملے کا ’فوری
اور طاقتور‘ جواب دینے کو تیار ہیں۔
بدھ کی رات سوشل میڈیا
پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج ’اپنی
انگلیاں ٹریگر پر رکھے ہوئے اپنی سرزمین،
فضا اور بحری حدود کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور طاقتور جواب دینے کو تیار
ہیں۔‘
عباس عراقچی کا بیان ایک
ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ
یہ کیا تھا کہ ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت ایئرکرافٹ کیریئر
ابراہم لنکن کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’یہ بیڑہ تیار، پُرعزم اور اپنا مشن تیزی
سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس دوران طاقت کا استعمال بھی
کیا جا سکتا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہX
تاہم اپنے بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے ملک نے ہمیشہ ’باہمی فائدے اور شفاف نیوکلیئر معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے‘ جو کہ کسی بھی قسم کی ’دھمکیوں‘ سے پاک ہو۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے کبھی بھی نیوکلیئر ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کی۔
لاہورمیں خاتون اور بچی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ، ترقیاتی کاموں کے سبب مین ہولز کھولے گئے: واسا
،تصویر کا ذریعہ1122
لاہور کے علاقے بھاٹی دروازہ کے قریب خاتون اور بچی کے مین ہول میں گرنے کا واقعہ آج شام گئے پیش آیا ہے جس پر واسا ترجمان نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ ٹریفک انجینیئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی(ٹیپا) کے جاری ترقیاتی منصوبے کے دوران پیش آیا۔
واسا ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق منصوبے پر کام کے سلسلے میں متعلقہ ادارے کی جانب سے مین ہولز کھولے گئے تھے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق سیوریج لائن میں گرنے والی ماں اور بیٹی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
واسا ترجمان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی واسا کے افسران اور عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر واسا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔
دوسری جانب محکمہ ہاؤسنگ پنجاب پنجاب کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر متعلقہ افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ واسا حکام ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ریلیف آپریشن جلد از جلد مکمل کریں۔
ٹرمپ کی دھمکیاں عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں:عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی
،تصویر کا ذریعہReuters
عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان دھمکیوں کی مذمت کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکہ عراق کی حمایت ختم کر دے گا۔
واضح رہے کہ ایران سے قریبی روابط رکھنے والے نوری المالکی کو سنیچر کے روز مذہب اسلام کے شیعہ فرقے کے اتحاد نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا تھا کہ مالکی ’انتہائی غلط انتخاب‘ ہوں گے۔ ان کے مطابق ’جب مالکی اقتدار میں تھے تو ملک غربت اور مکمل انتشار کا شکار ہو گیا تھا۔‘
نوری المالکی نے ایک بیان میں امریکی مداخلت کو عراق کی خودمختاری اور جمہوری نظام کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
واضح رہے کہ بغداد کی بااثر شیعہ جماعتوں کے ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر روابط ہیں اور واشنگٹن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران سے منسلک گروہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکہ نے مدد بند کر دی توعراق کے کامیاب ہونے کے امکانات ’صفر‘ ہوں گے ۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی موجودہ وزیرِاعظم محمد شیعہ السودانی سے گفتگو میں مالکی کے ایران سے تعلقات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ’ایران کے زیرِاثر حکومت عراق کے مفادات کو ترجیح نہیں دے سکتی۔‘
ٹرمپ ماضی میں بھی دیگر ممالک کے انتخابات میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ نوری مالکی دورِ حکومت 2006 سے 2014 تک فرقہ وارانہ تشدد سے بھرپور رہا اور وہ اس وقت مستعفی ہوئے جب شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
مالکی دو مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے اور ان کا دور سخت اختلافات کا باعث بنا۔ وہ 2003 میں امریکی حملے کے بعد عراق کے دوسرے وزیرِاعظم تھے جب صدام حسین کو اقتدار سے ہٹا کر بعد میں پھانسی دی گئی۔
مالکی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں اور سنی و کرد برادری کو الگ تھلگ کرنے کو داعش کے بحران کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔
دباؤ ڈالا گیا تو ’ایسا جواب دیں گے جس کی پہلے مثال نہیں ملتی‘: ایران کا رد عمل
صدر ٹرمپ کی ایران پر حملے کی دھمکی کے جواب میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اگر ایران پر دباؤ ڈالا گیا تو ’ایسا جواب دیا جائے گا جس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔‘
بیان کے مطابق امریکہ نے ماضی میں افغانستان اور عراق کی جنگوں میں غلطیاں کیں جن پر سات کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوا اور سات ہزار سے زائد امریکی جانیں ضائع ہوئیں۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ’امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ معاہدہ کرے گا جس میں ایٹمی ہتھیار شامل نہ ہوں۔ ‘ان کے بقول وقت کم ہے اور فیصلہ فوری طور پر کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات نہ کیے تو اس بار کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے دوران ایران کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اگلا حملہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
اگر ایران نے مذاکرات نہ کیے تو اس بار کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہو گی: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا ہے کہ ایک بڑی بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی قیادت ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کر رہا ہے۔ یہ بیڑہ وینیزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا اور طاقتور بتایا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’یہ بیڑہ تیار، پُرعزم اور اپنا مشن تیزی سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس دوران طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی طور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے اختلافات کو ’ایک ایک کرکے‘ حل کرے۔
،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump
بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ معاہدہ کرے گا جس میں ایٹمی ہتھیار شامل نہ ہوں۔ ان کے بقول وقت کم ہے اور فیصلہ فوری طور پر کرنا ہوگا۔‘
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات نہ کیے تو اس بار کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے دوران ایران کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اگلا حملہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے بیان میں کہا تھا کہ کچھ ممالک بطور واسطہ بات چیت کر رہے ہیں اور ایران ان سے رابطے میں ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ فوجی دھمکیوں سے بات چیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر مذاکرات چاہتے ہیں تو دھمکیوں اور غیر منطقی مطالبات کو ختم کرنا ہوگا۔
دوسری جانب بی بی سی ویری فائی نے عوامی طور پر دستیاب معلومات سے امریکہ کی بحری بیڑے کی تعیناتیوں کا سراغ لگایا ہے۔
ایک امریکی دفاعی اہلکار نے بی بی سی ویری فائی کو تصدیق کی ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کی قیادت میں ایک بحری بیڑہ ’آرمادا‘ مشرقِ وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جون 2025 میں امریکہ نے حملوں میں ایران کی یورینیم افزودگی کی تین تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی حکام نے بعد میں کہا کہ مڈنائٹ ہیمر نامی وہ کارروائی تہران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کے امکانات کو نمایاں طور پر پیچھے دھکیلنے کا سبب بنی۔
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی جانب سے کوئی درخواست پیش نہیں کی گئی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ کچھ ممالک بطور واسطہ بات چیت کر رہے ہیں اور ایران ان سے رابطے میں ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ فوجی دھمکیوں سے بات چیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر مذاکرات چاہتے ہیں تو دھمکیوں اور غیر منطقی مطالبات کو ختم کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب کر کے حالیہ دنوں میں بارہا ایسی خبریں منظر عام پر آئی ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کا خواہاں ہے۔
انھوں نے کہا کہ پچھلے چند دنوں میں ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو ویتکاف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ ایران میں مظاہرین پر سخت کریک ڈاؤن کے بعد تہران اور واشنگٹن کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ امریکی طیارہ بردار جہاز اور اس کے جنگی گروپ کی مشرقِ وسطیٰ میں آمد نے جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں کا دباؤ بڑھانے کے لیے 40 ممالک کے ساتھ بات چیت کی ہے اور وہ ان ممالک کی مدد کے لیے تیار ہے جن کو پابندیوں کے نفاذ میں تکنیکی اور سیکیورٹی مسائل ہیں۔
اسلام آباد کی ضلعی عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہPTI
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
سینئر سول جج عباس شاہ نے سہیل آفریدی کے خلاف کیس پر حکم سناتے ہوئے انھیں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 10 فروری تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے اور گزشتہ سماعت پر بھی سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری کیے گئے تھے۔
کیئر سٹارمر کا دورہ چین، شی جن پنگ سے ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور قومی سلامتی پر بات چیت متوقع
،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں جبکہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات جمعرات کے روز متوقع ہے۔
2018 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی برطانوی وزیرِاعظم نے چین کا دورہ کیا ہے۔
سٹارمر برطانیہ کے تقریباً 60 کاروباری اور ثقافتی رہنماؤں کے ساتھ سفر کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے۔
بیجنگ کے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ اس دورے کے دوران بڑی تعداد میں برطانوی کمپنیوں کے وفد کا شامل رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دورے کے دوران ایسے مواقع میسر ہوں گے جس سے انھیں یقینی طور پر فائدہ ہو گا۔
کیئرسٹارمر نے کہا کہ ’ماضی میں جتنے بھی دورے میں نے کیے ہیں اس میں ہمیشہ وہ مسائل اٹھائے ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے۔ تاہم دیگر مخصوص معاملات پر اس وقت بات نہیں کرنا چاہتا جب تک مجھے موقع نہ ملے۔‘
ان کے مطابق ’چین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں ہم اختلاف رکھتے ہیں وہاں بات چیت ہو سکے، اور جہاں ہم اتفاق کرتے ہیں وہاں پیش رفت ہو سکے، اور یہی ہمارا طریقہ کار ہے۔‘
کیئر سٹارمر اس دورے کے دوران جمعرات کے روز بیجنگ میں صدر شی جن پنگ اور وزیرِاعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور قومی سلامتی پر بات ہوگی۔
اس کے بعد وزیرِاعظم پھر شنگھائی جائیں گے جہاں برطانوی اور چینی کاروباری اداروں کے ساتھ مختلف ملاقاتیں ہوں گی۔ ان کے ساتھ برطانیہ کے وزیرِتجارت پیٹر کائل اور وزارتِ خزانہ کی اکنامک سیکریٹری لوسی رگبی بھی ہوں گی۔
بیجنگ اور شنگھائی کے دورے کے بعد وہ جاپان روانہ ہوں گے، جہاں ٹوکیو میں جاپان کی نئی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی سے ملاقات کریں گے۔
انڈیا میں نیپاہ وائرس کا پھیلاؤ: یہ صورتحال سنگین ہو سکتی ہے، عطا تارڑ کا اظہار تشویش
،تصویر کا ذریعہEPA
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے انڈیا میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ معاملہ سنگین معلوم ہوسکتا ہے اور اس بارے میں بہت سی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں مہلک نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے خصوصاً ایشیا کے بعض حصوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے بعد کچھ ممالک نے ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ کورونا وائرس کے مقابلے میں بہت کم پھیلنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن کہیں زیادہ مہلک ہے۔
کورونا وائرس کے مقابلے، جس سے 100 میں سے ایک یا دو افراد کی موت ہوتی ہے، نیپاہ وائرس کے انفیکشن سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ان میں 30-40 فیصد متاثرہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں مہلک نیپا وائرس کے پھیلاؤ کی خبروں کے بعد تھائی لینڈ نے ان تین ہوائی اڈوں پر مسافروں کی سکریننگ شروع کر دی ہے جہاں مغربی بنگال سے پروازیں آتی ہیں۔
نیپال نے بھی کٹھمنڈو ہوائی اڈے اورانڈیا کے ساتھ دیگر زمینی سرحدی مقامات پر آنے والوں پر کڑی نگاہ رکھنا شروع کر دی ہے۔
دسمبر سے اب تک مغربی بنگال میں دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جو مبینہ طور پر طبی عملے میں سامنے آئے ہیں۔
انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق ان مریضوں کے رابطے میں آنے والے 196 افراد کا پتہ لگایا گیا اور ان کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات بہت زیادہ ہے کیونکہ اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین یا دوا موجود نہیں ہے۔
نیپاہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، نیپاہ وائرس (NiV) ایک تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے جو جانوروں اور انسانوں میں شدید بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
یہ وائرس 1998 میں سب سے پہلے ملائیشیا کے ایک قصبے نیپاہ میں سؤروں میں پایا گیا تھا اور وہیں سے اس کا نام نیپاہ پڑ گیا۔
نیپا وائرس اتنا خطرناک کیوں ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کا انکیوبیشن کا عرصہ زیادہ ہے (بعض کیسز میں زیادہ سے زیادہ 45 روز)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ابتدا میں اسے معلوم ہی نہیں ہوتا اور کافی روز بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں اور تب تک وہ بہت سے افراد میں اسے پھیلانے کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔
اس وائرس سے جانوروں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس وائرس سے براہ راست متاثرہ شخص یا جانور سے رابطے یا آلودہ خوراک کھانے سے بھی متاثر ہوا جا سکتا ہے۔
علامات
نیپاہ وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، کھانسی، گلے کی سوزش، درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش (جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے) جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری کو روکنے کی کوشش کرنا چاہے گی۔
بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے مطابق، نپیا وائرس کا انفیکشن انسیفلائٹس سے وابستہ ہے، جو دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہAFP
نیپاہ وائرس کی پچھلی وبائیں
نیپاہ وائرس کی پہلی شناخت شدہ وبا 1998 میں ملیشیا میں سور پالنے والے کسانوں کے درمیان ہوئی، جو بعد میں پڑوسی ملک سنگاپور تک پھیل گئی۔ اس وائرس کا نام اس گاؤں سے لیا گیا جہاں یہ سب سے پہلے دریافت ہوا تھا۔
اس وبا میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور وائرس کو قابو میں رکھنے کے لیے 10 لاکھ سوروں کو مارا گیا۔ اس کے نتیجے میں کسانوں اور مویشیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 2001 سے اب تک 100 سے زائد افراد نیپاہ وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ وائرس انڈیا میں بھی پایا گیا ہے۔ مغربی بنگال میں 2001 اور 2007 میں اس کی وبائیں رپورٹ ہوئیں۔
حالیہ عرصے میں جنوبی ریاست کیرالہ نیپاہ وائرس کا ایک بڑا مرکز رہی ہے جہاں 2018 میں 19 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 17 افراد ہلاک ہوئے؛ اور 2023 میں چھ تصدیق شدہ کیسز میں سے دو بعد میں جانبر نہ ہو سکے۔
،تصویر کا ذریعہScreenGrab
وزیر اطلاعات نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار سپورٹس جرنلسٹ سلیم خلیق کی اس ٹوئٹ کے جواب میں کیا ہے جس میں سلیم حلیق نے نیپاہ وائرس کی موجودگی میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے متاثر ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
سلیم خلیق کے مطابق ’انڈیا میں ایک نیا وائرس سامنے آیا ہے جس کے حوالے سے دنیا بھر میں خوف کے خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال سے ٹی 20 ورلڈ کپ بھی متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ غیر ملکی کرکٹرز انڈیا کا سفر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں۔‘
سلیم خلیق نے لکھا کہ چونکہ سری لنکا بھی شریک میزبان ہے اس لیے آئی سی سی کچھ میچز وہاں منتقل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم جن لوگوں نے ابھی ہمارا ساتھ دینا شروع کیا ہے ان کے لیے اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
تحریک انصاف کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں جیل ذرائع سے متلعق یہ کہا گیا کہ انھیں عمران خان سے ملنے کی پیشکش کی گئی تھی مگر وہ بغیر ملاقات کے واپس آ گئے۔
مہاراشٹر میں طیارہ گر کر تباہ، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ سے نقل مکانی کے معاملے پر اتوار کے روز جمرود فٹبال سٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فوج خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔
سعودی عرب نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی طور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ منی سوٹا میں ’کچھ حد تک کشیدگی کم کرنے جا رہی ہے‘۔ امریکی صدر کا یہ بیان وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں ایک اور امریکی شہری کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کا نام نو مئی کے مقدمات میں ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
قطر کے وزیراعظم کا ایران کے وزیرِ خارجہ سے رابطہ، کشیدگی میں کمی کی حمایت
،تصویر کا ذریعہ@MofaQatar_EN
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
اس رابطے سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران دونوں رہنماؤں نے قطر اور ایران کے درمیان تعاون کے تعلقات اور انہیں مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا، نیز خطے کی تازہ ترین صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے والی کوششوں کی حمایت میں ریاستِ قطر کے مؤقف کا اعادہ کیا اور کشیدگی میں کمی اور پُرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔
عمران خان سے ملاقات کی پیشکش کی خبر بے بنیاد ہے: بیرسٹر گوہر
،تصویر کا ذریعہGohar Ali Khan
تحریک انصاف کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں جیل ذرائع سے متلعق یہ کہا گیا کہ انھیں عمران خان سے ملنے کی پیشکش کی گئی تھی مگر وہ بغیر ملاقات کے واپس آ گئے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’کل سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کرتی رہی کہ مجھے خان صاحب سے ملاقات کی پیشکش کی گئی تھی لیکن میں نے اس وقت تک انکار کر دیا جب تک میرے ساتھ کوئی اہلِ خانہ یا دوسرا وکیل نہ ہوتا۔ بالکل نہیں۔ اس لیے میں نے پی ٹی آئی سیکریٹری انفارمیشن شیخ وقاص سے رابطہ کیا تاکہ اس خبر کی تردید کی جا سکے۔ انھوں نے ایسا کیا اور خود ٹی وی پر بھی پیش ہوئے۔ اس کے باوجود وہی خبر رپورٹ کی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھے کہنا پڑ رہا ہے کہ میں ہمیشہ منگل کے روز اڈیالہ جاتا ہوں، جب تک پولیس مجھے روک نہ دے اور ملاقات کا وقت ختم نہ ہو جائے، میں وہیں رہتا ہوں۔ کل بھی میں نے یہی کیا۔‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’مجھے حکومت یا جیل حکام کی طرف سے کل خان صاحب سے ملاقات کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی، اس لیے کسی اور کو ساتھ لے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
انھوں نے یہ تجویز دی کہ ’خان صاحب سے متعلق خبریں، خصوصاً ملاقاتوں کے بارے میں، اتنی سنجیدہ ہیں کہ انھیں نام نہاد ذرائع کی رپورٹس پر بحث کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔ میں سوشل میڈیا کے کارکنان، بشمول وی لاگرز، یوٹیوبرز اور مین سٹریم میڈیا سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ صرف حقائق بیان کریں اور وہ بھی ہمارے سیکریٹری انفارمیشن کی تصدیق کے بعد، جب خان صاحب سے متعلق خبریں یا ملاقاتوں کی رپورٹنگ کریں۔‘
سازشوں کے بجائے قوم کے اصل نمائندے عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر بات کر لیں: وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہPTI
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کا نام نو مئی کے مقدمات میں ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پہلے میرے بطور وزیراعلیٰ انتخاب میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی گئی، پھر منشیات اور سمگلنگ کے جھوٹے الزامات لگانے کی کوشش کی، پھر دہشتگردوں سے جوڑنے کی کوشش کی، اس کے بعد میرے آبائی علاقے کی عوام کو زبردستی انخلا پر مجبور کیا گیا تاکہ مجھے سیاسی طور پر نقصان پہنچائے۔‘
سہیل آفریدی نے لکھا کہ ’9 مئی کے کسی کیس میں میرا نام تک نہیں لیکن اب جب کہ باقی سارے وار خالی گئے ہیں تو 9 مئی کے کیسز میں میرا نام ڈلوانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘
وزیر اعلیٰ نے دعوی کیا کہ ’پوری قوم کو یہ بات پتہ ہے کہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی، اسی نے 9 مئی کرایا- لہٰذا میرے یا تحریک انصاف کے خلاف اتنی محنت اور سازشیں کرنے کی بجائے ان لوگوں کو پاکستانی قوم کے اصل نمائندے عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر بات کر لینی چاہییے تاکہ ان کے اپنے پیدا کردہ بحرانوں اور مسائل سے پاکستان آگے بڑھ سکے اور یہاں دیرپا امن قائم ہو-‘
الہان عمر پر ٹاؤن ہال میں خطاب کے دوران نامعلوم مائع سے حملہ، ’میں ایسے عناصر کو جیتنے نہیں دیتی‘
امریکی شہر منیپولس کی پولیس کے مطابق منگل کو ایک ٹاؤن ہال میں، جس کی میزبانی الہان عمر کر رہی تھیں، ایک شخص نے سرنج کے ذریعے ان پر مائع پھینکا۔ پولیس نے بتایا کہ الہان عمر محفوظ رہیں اور اپنا خطاب جاری رکھا، جبکہ حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا اور جائے وقوعہ پر فارنزک تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
جیکولین گوسلنگ، جو اس موقع پر موجود تھیں، نے کہا کہ ’مجھے لگا کہ یہ ان کا کوئی معاون نوٹ دینے کے لیے آگے بڑھا ہے، لیکن اچانک تیز بُو نے کمرے کے اگلے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
الہان عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’میں ٹھیک ہوں۔ میں ایک سروائیور ہوں، اس طرح کے چھوٹے مشتعل افراد مجھے اپنے کام سے روک نہیں سکتے۔ میں ایسے شریر عناصر کو جیتنے نہیں دیتی۔‘
واقعے کے بعد الہان عمر نے اجلاس میں موجود شرکا سے کہا کہ ’ہم جاری رکھیں گے۔۔۔ ہم منی سوٹا والے مضبوط لوگ ہیں۔‘
اس اجلاس میں شریک الفریڈ فلاورز جونیئر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ الہان عمر کی ہمت اور طاقت کی قدر کرتے ہیں کہ انھوں نے عوام کے لیے ٹاؤن ہال کی کارروائی مکمل کی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیم حملہ آور کو کمرے سے باہر لے جاتے ہوئے ’راستہ دو‘ کے نعرے لگا رہی تھی۔ باہر نکالتے وقت اس شخص نے کہا کہ الہان عمر ’ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کر رہی ہیں‘، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ ان کا اشارہ کس کی طرف تھا۔
بی بی سی کے ایک صحافی کے مطابق مائع میں کھٹی بو تھی جو کسی کیمیائی مادے سے مشابہت رکھتی تھی۔
منیپولس کے میئر جیکب فری نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’تشدد اور دھمکیاں منیاپولس میں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ ہم اختلاف کر سکتے ہیں لیکن لوگوں کو خطرے میں ڈالے بغیر۔۔۔ اس طرح کے رویے کو ہمارے شہر میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ 2019 میں الہان عمر پہلی صومالی نژاد امریکی، پہلی افریقی نژاد امریکی اور پہلی دو مسلم خواتین میں سے ایک تھیں جو امریکی کانگریس میں منتخب ہوئیں۔
یہ تقریب عمر کے باقاعدہ ٹاؤن ہالز میں سے ایک تھی جس میں تقریباً 100 افراد شریک تھے۔ وہ وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی موجودگی اور رواں ماہ امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد سوالات کرنے آئے تھے۔
جنوری میں ایک امیگریشن افسر نے امریکی شہری رینی گُڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ گذشتہ ہفتے امریکی شہری الیکس پریٹی کو بارڈر ایجنٹس نے روکنے کے بعد قتل کر دیا، جس سے مقامی احتجاج اور عوامی غم و غصہ دوبارہ بھڑک اٹھا۔
ٹاؤن ہال میں عمر نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہوم لینڈ سکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم کو ’استعفیٰ دینا چاہیے یا مواخذے کا سامنا کرنا چاہیے‘۔ ان پر انہی تبصروں کے بعد حملہ ہوا۔
حکام نے کانگریس رکن سے ٹاؤن ہال کی کارروائی ختم کرنے کی درخواست کی لیکن انھوں نے اصرار کیا کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں گی۔ الہان عمر نے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بات کرتے رہیں گے۔ مجھے صرف دس منٹ دیں۔ براہ کرم انھیں شو نہ لینے دیں۔ براہ کرم انھیں شو نہ لینے دیں۔‘
علاقے کے بہت سے لوگ امیگریشن کارروائیوں میں اضافے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عمر کے خلاف ناپسندیدگی کا نتیجہ سمجھتے ہیں، جنھیں وہ ’ریڈیکل لیفٹ لونٹک‘ کہہ چکے ہیں۔
منگل کو، دوسری ہلاکت کے ردعمل میں، ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ منی سوٹا میں ’کچھ حد تک کشیدگی کم کرنے جا رہی ہے۔‘
بریکنگ, مہاراشٹر میں طیارہ گر کر تباہ، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سمیت پانچ افراد ہلاک
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ حادثہ بدھ کی صبح بارامتی میں پیش آیا جب ایک چارٹر طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کے مطابق طیارے میں اجیت پوار کے علاوہ چار دیگر افراد سوار تھے جن میں دو کریو ممبر اور پوار کے دو معاون شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں کسی کے زندہ بچنے کی امید نہیں ہے۔
،تصویر کا ذریعہANI
اجیت پوار کے نجی معاون انیل ڈھیکلے نے بی بی سی مراٹھی سے گفتگو میں اس حادثے کی تصدیق کی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حادثہ صبح 8 بج کر 48 منٹ پر لینڈنگ کے دوران پیش آیا۔ اجیت پوار کے سکیورٹی گارڈ بھی طیارے میں موجود تھے۔
یہ چارٹر طیارہ VTSSK، LJ45 ماڈل کا تھا جو ممبئی سے بارامتی جا رہا تھا۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اجیت پوار کے طیارے حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس واقعہ کی مناسب تحقیقات کی ضرورت ہے‘۔
،تصویر کا ذریعہ@MamataOfficial
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’اجیت پوار جی ایک مضبوط رہنما تھے جن کا عوام سے گہرا تعلق تھا۔ وہ ایک محنتی شخصیت کے طور پر بڑے پیمانے پر قابل احترام تھے جو مہاراشٹر کے لوگوں کی خدمت کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’انتظامی معاملات کی ان کی سمجھ اور غریبوں اور پسماندہ لوگوں کو بااختیار بنانے کا ان کا جذبہ بھی قابل ذکر تھا۔ ان کی ناگہانی موت نہایت صدمہ انگیز اور افسوسناک ہے۔ ان کے خاندان اور بے شمار چاہنے والوں سے اظہار تعزیت۔‘
،تصویر کا ذریعہ@narendramodi
مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رو پڑے اور کوئی جواب نہیں دے سکے۔
کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’طیارہ حادثے کی تصویریں بہت ہی چونکا دینے والی ہیں۔ میں اجیت پوار کی موت پر اپنے دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔‘
شیو سینا کی راجیہ سبھا ایم پی پرینکا چترویدی نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’یہ بہت افسوسناک خبر ہے۔ اگرچہ میرے ان کے ساتھ بہت سے معاملات پر اختلافات تھے، لیکن وہ ایک بہت ہی مخلص اور محنتی شخص تھے۔‘
منی سوٹا میں الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد احتجاج، ٹرمپ کا کشیدگی کم کرنے کا اعلان, کیلا ایپسٹائن، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ منی سوٹا میں ’کچھ حد تک کشیدگی کم کرنے جا رہی ہے‘۔ امریکی صدر کا یہ بیان وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں ایک اور امریکی شہری کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا۔
ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اصل بات یہ ہے کہ یہ بہت خوفناک تھا۔ دونوں واقعات بہت خوفناک تھے۔‘
جنوری کے اوائل میں رینی گُڈ کو ایک امیگریشن افسر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد اس ہفتے کے آخر میں بارڈر ایجنٹس نے الیکس پریٹی کو روکنے کے بعد قتل کر دیا۔
الیکس پریٹی کی موت نے مقامی سطح پر احتجاج کو دوبارہ بھڑکا دیا اور ملک بھر میں عوامی غم و غصے کو جنم دیا، جس پر دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے بھی تنقید کی۔
ٹرمپ کے بیانات اس بات کی تازہ علامت ہیں کہ ان کی انتظامیہ منی سوٹا میں اپنی کارروائیوں کو پیچھے لے جا رہی ہے۔
پیر کو محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے منی سوٹا مشن کے سربراہ اور بارڈر پٹرول کے عہدیدار گریگوری بووینو کو وہاں سے ہٹا دیا۔ ڈی ایچ ایس نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے بارڈر زار، ٹام ہومن کو وہاں تعینات کیا جا رہا ہے جو اس ہفتے مقامی حکام سے ملاقات کریں گے۔ منگل کو ہومن نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انھوں نے منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز، منی ایپلس کے میئر جیکب فری اور مقامی قانون نافذ کرنے والے حکام سے ملاقات کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست آئیووا میں ریلی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایلکس پریٹی، جو ایک ویٹرنز ہسپتال میں آئی سی یو نرس تھے، کے قتل کو ’انتہائی افسوسناک واقعہ‘ قرار دیا۔
جب رپورٹرز نے پوچھا کہ کیا وہ پریٹی کو ’ڈومیسٹک ٹیررسٹ‘ کہنے سے اتفاق کرتے ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے یہ نہیں سنا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’اسے ہتھیار نہیں رکھنا چاہیے تھا۔‘
ہوم لینڈ سکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا کہ ایلکس پریٹی کو اس لیے گولی ماری گئی کیونکہ وہ تصادم کے دوران ’ہتھیار لہرا رہا تھا‘، لیکن مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا اسلحہ قانونی طور پر رجسٹرڈ تھا اور انھیں اس وقت گولی ماری گئی جب اسلحہ ان سے لے لیا گیا تھا۔
ڈی ایچ ایس نے کہا کہ ایجنٹس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔ ان کے مطابق جب ایلکس پریٹی کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے مزاحمت کی۔ تاہم عینی شاہدین اور مقامی حکام نے اس بیان کو رد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں بلکہ فون تھا۔
ایلکس پریٹی کی ہلاکت نے مقامی آبادی کو مشتعل کر دیا اور ریاستی و شہری حکام کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے 3,000 امیگریشن ایجنٹس اور افسران کو اس علاقے سے واپس بلائیں۔
فاکس نیوز کے انٹرویو میں ٹرمپ نے منی سوٹا آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے وہاں سے ہزاروں خطرناک مجرموں کا قلع قمع کیا، اس لیے ان کے جرائم کے اعداد و شمار بہتر ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ سب ٹھیک چل رہا ہے، ہمارے پاس اب ٹام ہومن موجود ہیں، اور ہم کشیدگی کم کریں گے۔‘
کچھ ریپبلکن رہنماؤں اور قانون سازوں نے ایلکس پریٹی کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں ورمونٹ کے گورنر فل سکاٹ اور نیبراسکا کے سینیٹر پیٹ ریکٹس شامل ہیں۔
بحر ہند میں موجود امریکی جنگی جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کی خصوصیات کیا ہیں؟, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فیکٹ چیک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں ملک گیر احتجاج اور مظاہرین کی ہلاکت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے‘ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی تھی کہ اس کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
بی بی سی فارسی کا فیکٹ فائنڈنگ کا شعبہ گزشتہ چند ہفتوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
حالیہ ہفتوں میں جن بحری جہازوں نے بہت زیادہ توجہ حاصل کی ہے، ان میں سے ایک طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ہے۔
جوہری طاقت سے چلنے والا یہ طیارہ بردار بحری جہاز سنہ 1989 سے امریکی بحریہ میں شامل ہے اور اسے سب سے بڑے اور جدید ترین امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ جہاز نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھا ہے لیکن پھر بھی اسے مختلف طریقوں سے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔
اصولی طور پر اگر کوئی جہاز اپنا ٹریکنگ سسٹم بند بھی کر دیتا ہے تو وہ مکمل طور پر ’غائب‘ نہیں ہو سکتا۔
ہم فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کے ذریعے اس بحرح جہاز کے اوپر سے پرواز کرنے والے امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کو ٹریک کرنے اور اس کے ممکنہ مقام کا اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔
یہ ہیلی کاپٹر، جو عام طور پر مختلف مشنوں جیسے کہ گشت، دستوں کی نقل و حمل، یا لاجسٹک سپورٹ کے لیے کیریئر کے ساتھ اڑتے ہیں، بعض اوقات ایسے نظام کا استعمال کرتے ہیں جن کو پرواز کے ڈیٹا میں ٹریک کیا جا سکتا ہے۔
اس کے مطابق لنکن نے 14 جنوری کو بحیرہ جنوبی چین سے مشرق وسطی کی طرف اپنی نقل و حرکت شروع کی اور اس وقت (26 جنوری تک) اس کی ممکنہ پوزیشن عمان کے ساحل کے قریب ہے۔
’سینٹ کام‘ نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں تصدیق کی کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن بحر ہند میں داخل ہو گیا۔ ’سینٹ کام‘ نے کہا کہ یہ جہاز مشرق وسطیٰ میں ’علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے‘ کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
’سینٹ کام‘ امریکی محکمہ دفاع کی مشرق وسطیٰ سے متعلق چھ کمانڈز میں سے ایک ہے۔ امریکہ پر نائن الیون حملوں کے بعد عراق، افغانستان اور شام سینٹ کام کے سب سے اہم فعال آپریشنل علاقے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یو ایس ایس ابراہم لنکن ایک نظر میں
طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا نام امریکہ کے 16ویں صدر کے نام پر رکھا گیا تھا اور اسے 11 نومبر 1989 کو امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا۔
یہ جہاز امریکی بحریہ کی ٹاسک فورس کا حصہ ہے، جس میں اس کے علاوہ تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر بھی شامل ہیں: یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن جونیئر، یو ایس ایس سپروانس، اور یو ایس ایس مائیکل مرفی۔
اس طیارہ بردار بحری جہاز میں تقریباً چھ ہزار لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے۔
اس کی چوڑائی 333 میٹر اور چوڑائی تقریباً 77 میٹر ہے۔ یہ بحری جہاز تقریباً 100,000 ٹن کی نقل مکانی کے ساتھ، 30 ناٹس (56 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔
یہ جہاز پہلے بھی کئی بار خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں تعینات کیا جا چکا ہے۔ اسے ’آپریشن ڈیزرٹ سٹورم‘ کے دوران خطے میں تعینات کیا گیا تھا، ایک ایسا مشن جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں عراق کو کویت سے نکالنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
1995، 1998، اور 2000 میں یہ طیارہ بردار بحری جہاز امریکی محکمہ دفاع کے گشتی آپریشن، جسے ’سدرن واچ‘ کہا جاتا ہے، میں حصہ لینے کے لیے خلیج فارس گیا۔
یہ بحری جہاز 2002 کے آخر میں، عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے موقع پر دوبارہ اس خطے میں گیا۔
صدر آصف علی زرداری کی ابوظہبی میں محمد بن زاید النہیان سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہ@PresOfPakistan
صدر آصف علی زرداری نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور یو اے ای کے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
گفتگو کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون اور نئے مواقع پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن، ترقی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کی تجدید کی۔
ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: سعودی عرب
،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب نے ایران کو یقین دلایا ہے
کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی طور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے
گا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر رابطہ کیا اور محمد بن سلمان نے انھیں یہ
یقین دہانی بھی کرائی کہ ’اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی
فوجی کارروائی یا کسی بھی فریق کی طرف سے کسی بھی حملے کے لیے استعمال کرنے کی
اجازت نہیں دے گی، چاہے ان کی منزل کچھ بھی ہو۔‘
ایرانی صدر نے اسرائیل اور امریکہ پر
حالیہ مظاہروں میں ’مشتعل افراد کو اکسانے‘ کا الزام لگایا۔
انھوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک نے ’تصور
کیا تھا کہ ان کارروائیوں سے وہ ایران کو شام یا لیبیا میں تبدیل کر سکتے ہیں‘ اور
یہ کہ ’منظرعام پر ایرانی قوم کی وسیع اور شعوری موجودگی نے ان کے مقاصد اور
سازشوں کو شکست دی۔‘
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد
بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی خطرے یا کشیدگی کو
ناقابل قبول سمجھتا ہے‘ اور ’خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کے قیام کے
لیے تعاون کے لیے تیار ہے۔‘
تیراہ سے نقل مکانی کا معاملہ: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اتوار کو گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ سے نقل مکانی کے معاملے پر اتوار کے روز جمرود فٹبال سٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔
منگل کے روز وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن اور نقل مکانی کی صورتحال پر تفصیلی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے سنگین نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے جرگے میں متفقہ طور پر کہا گیا تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ بات چیت، مشاورت اور جرگہ سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی مقامی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان جرگوں میں کہا گیا کہ مقامی لوگوں کو تیراہ سے نکالنا ہو گا کیونکہ جب تک لوگ وہاں موجود ہیں آپریشن ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا مگر ’شدید دباؤ اور برفباری کے موسم میں لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔‘
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بوڑھے، بچے اور خواتین شدید برفباری میں نقل مکانی پر مجبور ہیں جبکہ برفباری کے باعث آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا۔
وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 24 رکنی کمیٹی کے اراکین نے آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کے کہنے پر اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ دو مہینوں کے اندر بے دخل ہونے والوں کو واپس لے جایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے باڑہ کے دورے کے دوران اپنی قوم سے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ مجھے ان کے دو مہینوں کے وعدے پر کوئی بھروسہ نہیں، کیونکہ مجھے نظر نہیں آتا کہ شدید برف باری اور خراب موسم کے باوجود وہ دو مہینوں میں آپ کو واپس لے جا سکیں گے۔‘
انھوں نے اعلان کیا کہ اتوار کے روز جمرود فٹبال سٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جہاں عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں یا انھیں زبردستی بے دخل کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے جاری کیے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’وفاق سے یہ ہضم نہیں ہو رہے۔‘
سہیل آفریدی نے سوال کیا کہ ’جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو مزید آپریشن سے کون سے فائدہ مند نتائج حاصل ہوں گے؟‘
اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فوج خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں ہے۔
وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برس 11 دسمبر کو ایک جرگہ علاقے میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پاس گیا جس نے علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے ان سے بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں یہ جرگہ حکومت سے بھی ملا۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد 24 اور پھر 31 دسمبر کو بھی یہ جرگہ حکومت سے ملا۔
انھوں نے کہا کہ شاید خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کو اس متعلق معلومات نہ ہوں لیکن جرگہ ٹی ٹی پی اور حکومت دونوں سے ملا۔