تیراہ سے نقل مکانی کی وجہ مبینہ فوجی آپریشن یا سرد موسم، مقامی لوگوں نے بی بی سی کو کیا بتایا؟

Khyber

،تصویر کا ذریعہFacebook/Deputy Commissioner Khyber

،تصویر کا کیپشنبدھ کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور

’کم سے کم ہم پر ہنسیں مت۔ خواجہ آصف کا بیان ایسا ہے جیسے وہ ہمارا مذاق اُڑا رہے ہیں۔‘

فضل رحیم یکم جنوری کو اپنے خاندان کے ہمراہ تیراہ سے باڑہ نقل مکانی کر کے پہنچے ہیں اور انھوں نے منگل کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا ایک بیان دیکھا، جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ دراصل وادی تیراہ سے نقل مکانی سخت سردی کی وجہ سے شروع ہوئی۔

فضل رحیم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’میں اپنے گھر اور دُکان کا سامان ایک بڑے ٹرک اور چار ڈاٹسن گاڑیوں میں لایا ہوں اور اب یہ سامان باڑہ میں کھل آسمان تلے پڑا ہے۔ میں خود ایک ایسی جگہ کی تلاش میں ہوں، جہاں سر چھپا سکوں۔ میں پاگل تھا کہ اس موسم میں اتنا سامان لے کر گھر سے نکلتا۔‘

ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ میں مبینہ فوجی آپریشن اور علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کے بارے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے متضاد بیانات گذشتہ کئی ہفتوں سے سامنے آ رہے ہیں۔

بدھ کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا اور گذشتہ روز وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے موقف اپنایا تھا کہ تیراہ سے نقل مکانی سرد موسم کے سبب ہو رہی ہے اور ہر برس ایسا ہی ہوتا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے اتوار کو ایک جرگہ طلب کیا ہے جہاں لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ انھیں نقل مکانی کرنے کے لیے کس نے کہا تھا۔

وادی تیراہ کے حالات پر ایسے متضاد بیانات پہلے سے ہی گمبھیر صورتحال کو مزید پیچیدہ کر رہے ہیں، جہاں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس علاقے میں دراصل ہو کیا رہا ہے۔

اس غیر واضح صورتحال میں تیراہ میں اپنے گھروں کو چھوڑنے والے مزید پریشانی میں مبتلا نظر آ رہے ہیں۔

مرکزی اورصوبائی حکومتوں کے درمیان اختلاف اور تیراہ کے لوگوں کی مشکلات برقرار

بی بی سی کے پاس دستیاب صوبائی ڈیزازٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 7 سے 15 جون کے درمیان چھ ہزار 775 افراد نے تیراہ سے نقل مکانی کی ہے۔

اس سے قبل اور اس کے بعد بھی اس علاقے سے نقل مکانی ہوتی رہی ہے لیکن بی بی سی کے پاس اس سے متعلق اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

Khyber

،تصویر کا ذریعہFacebook/Deputy Commissioner Khyber

،تصویر کا کیپشناعداد و شمار کے مطابق صرف 7 سے 15 جون کے درمیان چھ ہزار 775 افراد نے تیراہ سے نقل مکانی کی ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں علاقہ چھوڑنے کے لیے متعدد ڈیڈ لائنز دی گئی تھیں۔

ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ کبھی انھیں علاقہ خالی کرنے کے لیے تین دن کا وقت دیا گیا اور کبھی کہا گیا کہ 10 سے 25 جنوری کے دوران نقل مکانی کر لیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’علاقے میں پہلے تو یہ بازگشت سنائی دیتی رہی کہ وہاں آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس کے بعد کبھی گولہ باری شروع ہو جاتی تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ تین دن کے اندر علاقہ خالی کریں، یہاں آپریشن ہوگا۔‘

’ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے یہاں سے جائیں اور کہاں جائیں گے۔‘

ان کے ساتھ تیراہ کے ایک اور رہائشی کاشف آفریدی بھی موجود تھے۔

سرکاری حکام کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ: ’ہم خود کیوں اس سرد موسم میں اپنا گھر بار چھوڑ کر آئیں گے؟ ہم نے ابھی کچھ عرصے پہلے ہی اپنا مکان تعمیر کیا ہے، جس میں بیسمنٹ بھی ہے اور ہم وہاں سردی سے محفوظ رکھ سکتے تھے۔‘

تیراہ سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجر شیر افگن کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے علاقے میں خوراک کی شدید قلت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب علاقے میں آپریشن کی آواز بلند ہوئی ہے تو تیراہ کی جانب راشن یا خوراک لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔‘

’بڑی مشکل سے ایک ٹرک آٹا لے کر گئے تھے لیکن برفباری اور حالات کی وجہ سے وہ منزل تک نہیں پہنچ پا رہا۔ اب تنظیمیں متحرک ہوئی ہیں اور امدادی سامان لے جانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ وفاقی حکومت کہہ رہی ہے کہ انھوں نے علاقہ خالی کرنے کو نہیں کہا تو شیر افگن کا کہنا تھا کہ ’پھر یہ رجسٹریشن کون کر رہا تھا، لوگوں کو امداد کون دے رہا تھا؟‘

خیبر کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی طرف سے شیئر کی جانے والی تصاویر میں لیپ ٹاپس پر نادرا کا لوگو بنا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

تحصیل باڑہ کے چیئرمین اور جمعیت علما اسلام (ف) کے مقامی رہنما مفتی کفیل بھی وفاقی حکومت کے بیان کی نفی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’اس وقت تیراہ کے لوگ سخت مشکل میں ہیں، وہاں خوراک کی قلت پائی جاتی ہے۔ ایسے کئی خاندان ہوں گے جنھوں نے آج شاید کھانا بھی نہیں کھایا ہوگا اور یہ وفاقی حکومت بیان دے رہی ہے کہ یہ لوگ سردی کے موسم کی وجہ سے خود نقل مکانی کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پچھلے دس برسوں میں ایسی کوئی نقل مکانی نہیں ہوئی تو اب یہ لوگ کیوں گھر بار چھوڑ کر آ رہے ہیں؟‘

’تیراہ کے لوگوں نے سردی کے لیے اپنے انتظامات کیے ہوتے ہیں، وہاں انگیٹھیاں لگی ہوتی ہیں جس سے ان کے کمرے گرم ہوتے ہیں۔ یہاں کوئی پہلی مرتبہ برف یا سردی نہیں پڑ رہی بلکہ ہر سال وہاں موسم ایسا ہی ہوتا ہے۔‘

تاہم خیبر پختونخوا پر گہری نظر رکھنے والے صحافی محمود جان بابر کہتے ہیں کہ تیراہ میں ایسے کچھ خاندان ضرور ہیں جن کے نہ صرف تیراہ بلکہ میدانی علاقوں میں بھی گھر ہیں اور وہ سردی کے موسم میں میدانی علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔

لیکن ان کے مطابق ایسا صرف وہی لوگ کرتے ہیں جن کے پاس وسائل موجود ہوتے ہیں ’لیکن حالیہ نقل مکانی ایسی نہیں ہے۔ اس مرتبہ تو ٹرک بھر بھر کے لوگ بے گھر ہو رہے ہیں اور نقل مکانی کی جا رہی ہے۔‘

جرگے کے لوگ کیا کہتے ہیں؟

تیراہ سے نقل مکانی کا انتظام کرنے میں مقامی قبائل پر مشتمل ایک 24 رکنی کمیٹی کا کردار اہم رہا ہے۔

اس صورتحال کے بارے میں اس کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ تیراہ کے لوگوں کے ساتھ بربریت کی جا رہی ہے، مذاق کیا جا رہا ہے اور وہ بہت جلد اس بارے میں اپنا مؤقف ضرور دیں گے کہ یہ نقل مکانی کیسے ہوئی ہے۔

ان کے مطابق ان کا جرگہ غیر سیاسی ہے اور چند روز بعد اس کا ایک اجلاس بُلایا گیا ہے، جس کے بعد وہ اپنا مؤقف سب کے سامنے رکھیں گے۔

تیراہ سے نقل مکانی کیوں شروع ہوئی؟

دوسری جانب 24 رُکنی جرگے کے ایک رُکن کمال الدین بی بی سی اردو کے روحان احمد کو بتایا کہ وہ وفاق یا صوبائی حکومت کے سیاسی بیانات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیں گے کیونکہ ان کی ’کمٹمنٹ ریاست کے ساتھ ہوئی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ تیراہ کے علاقے سے آدھی آبادی نقل مکانی کر چکی ہے اور آدھی آبادی کی نقل مکانی برفباری کے سبب رُکی ہوئی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان ریاست سے ان کی کیا مراد ہے تو انھوں نے اس کی وضاحت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری جو ریاست کے ساتھ کمٹمنٹ ہو چکی ہے اس میں ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں آیا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم وضاحت بھی کریں گے۔‘

انھوں نے اپنے علاقے کے حالات کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقے میں تین برسوں سے بدامنی پھیلی ہوئی ہے: ’وہاں پر ہمارے بچے شہید ہوئے ہیں، خواتین شہید ہوئی ہیں، وہاں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کارروائی میں بھی مختلف لوگ شہید ہوئے ہیں۔‘

کمال الدین مزید بتاتے ہیں علاقے میں بار بار لگنے والے کرفیو کے سبب زندگی گزارنا مشکل ہوگیا تھا۔

’ہم تنگ آ چکے ہیں، ہم نے نقل مکانی شروع کی ہے اور ہم نے مطالبات ریاست کے سامنے رکھے اور ایک معاہدے کے نتیجے میں ہم نے نقل مکانی شروع کی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔‘

’تحریری اور زبانی معاہدہ موجود ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا علاقے سے نقل مکانی کے بعد کسی معاہدے کے تحت کوئی بڑا فوجی آپریشن ہونے جا رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’آپریشن پر واضح جواب میں نہیں دے سکتا۔ یہاں پر آپریشن تین سال سے چل رہے ہیں، وہاں مارٹر شیلنگ ہو رہی ہے، مسلح تنظیموں کی طرف سے فائرنگ ہو رہی ہے۔‘

’وہاں پر روزانہ کی بنیاد پر آپریشن ہو رہے ہیں، ہم تنگ ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے نقل مکانی ہو رہی ہے، وہاں کئی مسلح تنظیمیں ہیں، سینکڑوں کی تعداد میں مسلح افراد موجود ہیں۔‘

صوبائی حکومت کا تیراہ کی صورتحال پر کیا موقف ہے؟

موجود صورتحال پر گذشتہ روز وزیر اعلی سہیل آفریدی ایک ویڈیو بیان میں کہہ چکے ہیں وہ ضلع خیبر کی عوام کے ساتھ ایک جرگے میں بیٹھیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’وادی تیراہ پر ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی تھی۔‘

Khyber

،تصویر کا ذریعہFacebook/Deputy Commissioner Khyber

،تصویر کا کیپشنتیراہ سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجر شیر افگن کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے علاقے میں خوراک کی شدید قلت ہے

انھوں نے کہا کہ وہ اتوار کو دو بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں بلا رہے ہیں، جہاں لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ وہ اپنی مرضی سے علاقہ چھوڑ رہے ہیں یا انھیں زبرستی گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کیا کہہ رہی ہے؟

اس بارے میں وفاقی حکومت کا مؤقف الگ ہے اور گذشتہ چند روز سے اس کی جانب سے تیراہ میں مبینہ فوجی آپریشن اور لوگوں کی نقل مکانی کے بارے میں وضاحتیں پیش کی جا رہی ہیں۔

بدھ کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس بارے میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ صرف انٹیلجینس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی اور ان کے لیے فنڈز کا اجرا سب کچھ صوبائی حکومت نے کیا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ تیراہ کے حوالے سے کسی بھی کاغذ پر وفاقی حکومت کے کسی نمائندے یا فوج کے کسی افسر کے دستخط نہیں ہیں بلکہ ’یہ سب صوبائی حکومت اپنی کرپشن چھپانے کے لیے کر رہی ہے، یہ کرپشن ان چار ارب روپے کی ہے جو حکومت نے تیراہ کے لوگوں کے لیے جاری کیے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب بھی کوئی فوجی آپریشن کرنا ہوگا تو مکمل طور پر ذمہ داری سے کیا جائے گا۔

تیراہ میں ہوا کیا ہے؟

ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے مضبوط گڑھ موجود رہے ہیں۔ یہاں کالعدم لشکر اسلام اور اس کے بعد کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہی ہیں۔

صحافی و تجزیہ کار محمود جان بابر کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پُرتشدد واقعات پیش آ رہے تھے، جس وجہ سے علاقے میں لوگوں نے طالبان کے ساتھ جرگے بھی کیے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس اگست میں ’مقامی قبائل کے لوگ طالبان کے پاس قران لے کر گئے تھے کہ وہ اس علاقے سے چلے جائیں اور اس کے لیے طالبان نے وقت مانگ تھا، لیکن بعد میں طالبان نے اس علاقے کو چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا تھا۔‘

’اس علاقے میں لوگوں نے جرگے کیے اور اطلاعات کے مطابق مقامی عمائدین نے ان جرگوں میں کہا تھا کہ اس علاقے کے لوگوں کے بچے بھی طالبان کی طرف جا رہے ہیں، جس وجہ سے علاقے میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔‘

تیراہ میں شدت پسندی

ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں شدت پسندی کی تاریخ تو قدیم ہے لیکن حالیہ تریخ میں یہاں عسکریت پسندی سنہ 2004 اور 2005 کے دنوں میں شروع ہوئی تھی، جب مختلف عسکریت پسند تنظیمیں یہاں متحرک ہوئیں۔

Taliban

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے مضبوط گڑھ موجود رہے ہیں

تیراہ میں منگل باغ کی قیادت میں لشکر اسلام نامی تنظیم متحرک رہی ہے اور اس کے بعد یہاں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں بھی شروع ہو گئی تھیں۔

ان تنظیموں کے خلاف حکومت کی حمایت میں بھی کچھ تنظیمیں قائم ہوئی تھیں، جن میں انصار الاسلام نامی تنظیم سب سے نمایاں رہی ہے۔

تیراہ میں سنہ 2006 سے سنہ 2008 تک شدت پسند تنظیموں کی کارروائیاں بڑھی تھیں اور یہ علاقہ شدت پسند تنظیموں کا مضبوط گڑھ سمجھا جانے لگا تھا، جہاں ان کی اپنی چیک پوسٹیں موجود تھیں۔

ان تنظیموں کے خلاف سنہ 2008 سے 2010 کے درمیان فوجی آپریشنز کیے گئے، جو مکمل کامیاب نہیں ہو سکے اور کچھ عرصے کے بعد یہ تنظیمیں ایک مرتبہ پھر متحرک ہو گئیں۔

سنہ 2014 سے سنہ 2017 تک آپریشن خیبر کے نام پر اس علاقے میں مختلف اوقات پر فوجی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔