پی ٹی آئی کی مخالفت کے باوجود وادی تیراہ میں متوقع فوجی آپریشن اور نقل مکانی: ’لوگ سخت سردی میں کھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہKhalil Khan
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
’ہم تو اپنی جان بچا کر آئے ہیں۔ تیراہ میں آئے روز کہیں گھروں پر گولے گر رہے ہیں تو کہیں کواڈ کاپٹرز سے بارودی مواد گر کر پھٹ رہا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کریں جس پر بزرگوں نے کہا کہ بس اب یہاں سے پشاور چلے جاتے ہیں۔‘
یہ الفاظ خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے تیراہ علاقے کے رہائشی بادشاہ خان کے ہیں جو اپنے بہن بھائیوں اور بچوں کے ہمراہ شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے نقل مکانی کرکے حال ہی میں صوبائی دارالحکومت پشاور پہنچے ہیں۔
یاد رہے کہ شدت پسندی سے متاثرہ تیراہ کے بارے میں حال ہی میں ایسی اطلاعات گردش میں تھیں کہ مقامی آبادی کے جرگے نے شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ممکنہ آپریشن کے مدنظر مشروط طور پر انخلا پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
اب ضلع خیبر کے علاقے تیراہ سے باقاعدہ نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
باڑہ کے تحصیل چیئرمین مفتی کفیل کا کہنا ہے کہ علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی شروع ہو چکی ہے اور دوتوئی کے مقام پر ایک رجسٹریشن پوائنٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی تھیں۔
مفتی کفیل کے مطابق نقل مکانی کا سلسلہ شدید سردی میں شروع کیا گیا، جس سے خواتین بچے اور بوڑھے متاثر ہورہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) صوبے میں کہیں بھی فوجی آپریشن کی مخالت کرتی آئی ہے لیکن اس کے باوجود متوقع انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے پیشِ نظر وزیرِ اعلی سہیل آفریدی کے اپنے علاقے سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل سرکاری خبر رسان ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی چند روز قبل جاری ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا تھا کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مزاکرات کی کامیابی کے بعد 10 جنوری سے انخلا شروع ہوگا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کا سلسلہ 24 رُکنی جرگے اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے بعد شروع ہوا ہے۔
تحصیل باڑہ کے چیئرمین مفتی کفیل کی مطابق 24 رکنی جرگے کے انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا ہے اور رجسٹریشن پوائٹس پر گاڑیوں کی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے صوبائی ڈیزازٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ایک عہدیدار کا بھی کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور ان کے لیے ایک کیمپ بھی پائندہ چینا کے مقام پر قائم کیا گیا ہے۔
اس علاقے سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے گذشتہ روز رجسٹریشن پوائنٹ کا دورہ کیا تھا اور نقل مکانی کرنے والے افراد کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہKhalil Khan
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی، جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جس علاقے میں آپریشن اور نقل مکانی کی باتیں ہو رہی ہیں اس علاقے کے منتخب اراکین اسمبلی کو نہ بتایا گیا ہے اور نہ ہی انھیں اعتماد میں لیا گیا ہے۔
بی بی سی نے مقامی لوگوں سے اس معاملے پر بات چیت کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ تیراہ میں کیا حالات ہیں اور نقل مکانی سمیت آپریشن سے جڑا ابہام کیوں پایا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ نقل مکانی کا سلسلہ شروع کیسے ہوا۔
رجسٹریشن کا عمل سست روی کا شکار
تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا باقاعدہ آغاز لگ بھگ تین چار روز سے شروع تو کر دیا گیا لیکن رجسٹریشن سسٹم فعال نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر سامان سے لدی گاڑیوں کی قطاریں بن گئی ہیں۔
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ رجسٹریشن کے مرحلے میں اتنی مشکلات ہیں کہ کئی خاندان اس سخت سردی میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کے ساتھ راتیں کھلے آسمان تلے گزار رہے ہیں۔
مقامی صحافی اسلام گل نے گزشتہ روز اس علاقے کا دورہ کیا اور ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات کے پیش نظر رجسٹریشن کا عمل شروع نہیں ہو سکا جبکہ آج تیسرے دن بھی اندراج کا عمل تعطل کا شکار رہا۔
انھوں نے بتایا کہ ’بے گھر افراد مشتعل ہو کر زبردستی مرکز میں داخل ہوئے تاہم نادار کے نظام میں تکنیکی مسائل کی وجہ سے رجسٹریشن کا عمل سست روی کا شکار رہا۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
صحافی اسلام گل کے مطابق رجسٹریشن مرکز میں باقاعدہ معلومات اور رہنمائی کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔ ’ہر بے گھر خاندان کے سربراہ جلد رجسٹریشن کا ختم کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔‘
پشاور سے کوئی 70 کلومیٹر دور مغرب کی جانب تیراہ کی مرکزی شاہراہ پر پائندہ چینہ میں قائم مرکز کے سامنے بے گھر افراد کی سامان سے لدی گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
چالیس سالہ زبیر خان کا تعلق وادی تیراہ کے بر قمبر خیل قبیلے سے ہے۔ اُنھوں نے صحافی اسلام گل کو بتایا کہ رجسٹریشن مرکز سے چند کلومیٹر دور دوتوئی کے مقام پر بے گھر ہونے والے خاندان کو ٹوکن دیا جاتا ہے اور اُس کی بنیاد پر اُن کی رجسٹریشن ہوتی ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ گاڑیوں میں خواتین، بچوں، معمر افراد اور مویشوں نے رات گزری۔ اُن کے بقول کھانے پینے اور سردی سے بچاؤ کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ صبح سویرے مرکز پہنچ گئے تاہم دن دو بجے تک رجسٹریشن عمل شروع نہیں ہو سکا تھا۔
جماعت اسلامی خیبر کے ایک وفد نے بھی اس علاقے کا دورہ کیا، جہاں ان کا کہنا تھا کہ سکیننگ کے عمل میں سست روی کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔
ضلع خیبر میں جماعت اسلامی کے نائب امیر اختیار بادشاہ آفریدی نے کہا کہ انتظامیہ کی غفلت یا گاڑیوں کے رش کی وجہ سے ٹریفک جام ہو گئی۔
انھوں نے کہا کہ یہاں انھوں نے دیکھا کہ شدید سردی کی وجہ سے ایک بچہ دم توڑ گیا اور مویشی بھی متاثر ہوئے ہیں جبکہ یہاں نہ تو کوئی ہوٹل ہیں نہ کوئی طبی سہولیات، جس وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
نقل مکانی اور خفیہ اطلاعات پر آپریشن کا معاہدہ
گذشتہ ایک مہینے سے سوشل میڈیا پر تیراہ کے حوالے سے یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے اس علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی ہو گی، لیکن اس بارے میں سرکاری سطح پر کچھ بھی نہیں کہا جا رہا تھا۔
سرکار کی جانب سے اب بھی مکمل خاموشی ہے اور نہ ہی اس بارے میں اس ضلع کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر کچھ بات کرنے کا تیار ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان کو متعدد پیغامات بھیجے گئے لیکن اس بارے میں انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
تیراہ سے نقل مکانی کے لیے قائم 24 رکنی جرگے کے ایک رکن کمال الدین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جرگے کی جانب سے حکام کو جو مطالبات دیے گئے تھے ان پر رضا مندی کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے مطالبات پر تفصیلی مشاورت کے بعد نقل مکانی کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے، جس پر چیف سیکریٹری، کمشنر پشاور اور ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کے دستخط موجود ہیں۔
اس بارے میں بات کرنے کے لیے کمشنر پشاور اور ڈپٹی کمشنر خیبر سے رابطے کی کوشش بھی کی گئی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم حرگے کے رُکن ملک کمال الدین کا کہنا تھا کہ وہ پائندہ چینا کے مقام پر موجود ہیں اور بدھ کے روز وہاں لوگوں سے بھری ہوئی گاڑیاں موجود ہیں، جن میں بیٹھے افراد کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔
’اس علاقے میں تقریباً 30 ہزار خاندان آباد ہیں اور یہ سب اس علاقے سے جائیں گے۔ یہ نقل مکانی 25 جنوری تک مکمل ہوگی اور کوئی بھی شہری اس علاقے میں نہیں رہے گا۔‘
جرگے کے رکن کا مزید کہنا تھا کہ 25 جنوری کے ٹھیک دو ماہ بعد ان لوگوں کی اپنے علاقوں میں واپسی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہKhalil Khan
کمال الدین نے مزید کہا کہ نقل مکانی والے ہر خاندان کو ڈھائی لاکھ روپے نقد اور الگ سے 50 ہزار روپے کرایے کا مکان حاصل کرنے کے لیے دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے کیا کوئی کیمپ قائم کیا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ جرگہ اراکین اس بات پر متفق تھے کہ علاقے کے دستور اور روایات کے مطابق لوگ خمیوں میں نہیں رہنا چاہتے اس لیے انھیں نقد رقم دی جائے گی تاکہ وہ اپنے لیے کرایے کے مکان کا بندوبست کر سکیں۔
جن علاقوں میں آپریشن تجویز کیا گیا ہے ان میں چھ بڑے قبیلے آباد ہیں، جن میں قمبر خیل ، ملک دین خیل، آدم خیل، شلوبر اور زخہ خیل نمایاں ہیں۔
سفید کوہ کے دامن میں واقع تیراہ وادی
وادی تیراہ ضلع خیبر کا ایک اہم علاقہ ہے جو سپین غر یعنی سفید کوہ کے دامن میں واقع ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ یہ پشاور سے لگ بھگ 55 کلومیٹر دور واقع ہے لیکن پہاڑی اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے پشاور تک سفر میں تین سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
وادی تیرہ تحصیل باڑہ کا حصہ ہے اور یہاں آفریدی قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ اس وادی کے مغرب میں افغانستان جبکہ مشرق میں پشاور اور شمال میں لنڈی کوتل اور خیبر پاس ہیں جبکہ اسے ضلع اورکزئی اور ضلع کرم کی سرحد بھی لگتی ہے۔
تیراہ کی آبادی 2 سے تین لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں انیس سو سنتالیس کے بعد پہلی بار سنہ دو ہزار تین میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز داخل ہوئی تھیں۔ ان علاقوں میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے علاوہ لشکر اسلام نامی شدت پسند تنظیم بھی متحرک رہی ہے۔
اسی وجہ سے یہاں پہلے بھی عسکری آپریشنز کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ 2008-09 میں عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا اور جزوی طور پر لوگوں کی واپسی 2011-12 میں ہوئی تھی لیکن بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی نہیں ہوئی تھی۔
اس کے بعد 2013 اور 2014 میں آپریشن خیبر کے نام سے کارروائی ہوئی تو لوگوں نے نقل مکانی کی تھی۔ اس کے بعد 2016 میں ان کی مرحلہ وار واپسی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔اس کے بعد 2016 میں 2020 اور 2022 میں بھی ٹارگٹڈ آپریشن تیراہ کے بعض علاقوں میں کیے گئے تھے۔
تیراہ میں حالیہ دنوں میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
اسی سال جولائی میں مظاہرین پر فائرنگ کا ایک واقعہ بھی پیش آیا تھا جس میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے۔ ستمبر میں تیراہ میں ایک مبینہ فضائی حملے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں جس میں ہلاکتیں ہوئی تھیں لیکن اس حملے کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔
تیراہ کے رہائشی کیا کہتے ہیں؟
وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بادشاہ خان کا کہنا تھا کہ وہ اور دیگر کچھ ایسے لوگ جن کے مکان پشاور یا دیگر علاقوں میں ہیں تو شاید نکل آئے ہیں لیکن بڑی تعداد میں لوگوں کے پاس دوسرے شہروں میں رہنے کی کوئی سہولت نہیں۔
ان کے مطابق ایسے میں ان کا نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔ بادشاہ خان ایک سکول ٹیچر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں حالات خراب ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 2025 میں ’ہمارے علاقے میں تعلیمی ادارے بیشتر وقت بند رہے۔‘

،تصویر کا ذریعہKhalil Khan
اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’حالات ٹھیک ہوں تو 500 تک طلبہ سکول میں حاضر ہوتے ہیں اور جب حالات خراب ہوتے ہیں تو 40 یا پچاس طالبعلم سکول آتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’علاقے میں کبھی عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کی جھڑپیں ہوتی ہیں تو کبھی کرفیو لگا دیا جاتا ہے اور کبھی انٹیلیجنس بیسڈ سرچ آپریشن شروع ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں عام شہری کی زندگی اجیرن ہو گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ جب وہ علاقہ چھوڑ کر روانہ ہو رہے تھے تو اس وقت ان کے قریب چار مزید گھرانے بھی نقل مکانی کی تیاری کر رہے تھے۔
ان کے مطابق ’یہ نقل مکانی ان گھرانوں نے کی ہے جن کے پاس پشاور، باڑہ، کوہاٹ یا دیگر قریبی علاقوں میں منتقل ہونے کا راستہ موجود ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جن کے گھر نہیں ہیں یا جو انتہائی غریب ہیں وہ نقل مکانی کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ نقل مکانی کی یہ سختیاں وہ پہلے بھی برداشت کر چکے ہیں۔‘
باڑہ کے سینیئر صحافی حسین آفریدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ باڑہ میں بعض دیہاتوں میں تیراہ اور اس کے ساتھ واقع اورکزئی ڈسٹرکٹ سے خاندان پہنچے ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر تیراہ سے لوگ نکل رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تیراہ میں خوف پایا جاتا ہے اور ایک بے یقینی کی صورتحال ہے جس وجہ سے لوگ وہاں سے نکل رہے ہیں۔
مقامی صحافی خلیل خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تیراہ میں روزانہ کی بنیاد پر مقامی قبائل کے جرگے ہو رہے ہیں۔ علاقے کے ایک 24 رکنی جرگے نے جو انتظامیہ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور اس میں جو مطالبات اور پھر اس پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے اس پراب تک مکمل وضاحت نہیں ہے۔
مقامی لوگوں کا ایک طرف کہنا ہے کہ وہ نقل مکانی کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن دوسری جانب بہت سے گھرانے تیار ہیں اور کچھ خاندان علاقہ چھوڑ کر دیگر علاقوں کو چلے گئے ہیں۔
نقل مکانی پر ابہام کیوں؟
سرکاری خبر رسان ایجنسی اے پی پی کی خبر میں کہا گیا تھا کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے کے مذاکرات کامیاب ہوئے اور اب جرگے کی کوششوں سے علاقے میں 10 جنوری سے انخلا شروع ہوگا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔
اس خبر میں کہا گیا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے نقل مکانی کرنے والے اہل علاقہ کو ٹرانسپورٹ، خوراک، طبی سہولت اور معاوضہ فراہم کیا جائے گا جبکہ نقل مکانی کے دوران اخراجات، ماہانہ اعانت اور آپریشن کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی ادائیگی بھی شامل ہو گی۔
تاہم اس معاونت پر اب تک عمل درآمد شروع نہیں ہوا اور یہ بھی واضح نہیں کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا جائے گا۔
پشاور کے کمشنر اور ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر سے اس بارے میں رابطے کی کوشش کی گئیں اور انھیں میسجز بھی بھیجے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان سے بی بی سی نے رابطہ کیا تو انھوں نے فون کاٹ دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم بی بی سی نے وزیر اعلی سہیل آفریدی کی سوشل میڈیا پر ایک صحافی سے ہونے والی گفتگو سنی جس میں وزیر اعلی نے کہا کہ کسی فوجی آپریشن کی نہ تو کابینہ نے اجازت دی اور نہ ہی اسمبلی میں اس بارے میں کوئی بحث ہوئی۔
لیکن ساتھ میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ طاقتور لوگ ہیں اس کے لیے انھیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔‘
دوسری جانب 12 دسمبر کو پاکستانی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز پر صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے میزبان وسیم بادامی سے گفتگو کے دوران اس معاملے پر بات کی اور جب ان سے نومبر میں ہونے والے صوبائی کابینہ اجلاس میں تیراہ میں ٹارگٹڈ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مدد کے بارے میں سوال ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ گذشتہ حکومت کے دور میں فیصلہ ہوا تھا۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت کے 14 نومبر کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا گیا تھا جس میں ترتیب وار ایجنڈا نمبر 43 میں لکھا گیا تھا کہ صوبائی حکومت ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں ٹارگٹڈ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مدد کرے گی۔
کابینہ کے ایجنڈا میں یہ نقطہ سیکیرٹری محکمہ ریلیف اینڈ بحالی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اس بارے میں کیا فیصلہ ہوا، اس کا ذکر سرکاری ہینڈ آؤٹ میں بھی نہیں تھا۔ صوبائی سطح پر قائم قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے بھی اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔
’عسکریت پسند ہیں تو انھیں پکڑیں، لوگوں کو بے گھر نہ کیا جائے‘
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ کیسی صورتحال ہے کہ جس علاقے میں آپریشن اور نقل مکانی کی باتیں ہو رہی ہیں، اس علاقے کے منتخب اراکین اسمبلی کو نہ بتایا گیا اور نہ ہی انھیں اعتماد میں لیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس آپریشن کے لیے نہ تو کوئی نوٹیفیکیشن ہوا اور نہ ہی پی ڈی ایم اے یا این ڈی ایم اے کی طرف سے کوئی تفصیل فراہم کی گئی کہ یہ آپریشن کس طرح کا اور کیسے ہو گا۔‘
ان سے جب کہا گیا کہ اس سے پہلے اسی طرح باجوڑ میں بھی انٹیلیجنس بیسڈ ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’باجوڑ میں کارروائی کے لیے باقاعدہ منتخب نمائندوں سے بات چیت کی گئی یہاں تک کہ ساری سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں سے بات کی گئی اور انھیں امن کے قیام کے لیے موقع دیا گیا اور اس کے بعد وہاں پر کارروائی کی گئی تھی۔‘
اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ ’اگر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کرنا ہے تو اس کے لیے لوگوں کو بے گھر کیوں کیا جا رہا ہے۔ اگر انھیں خفیہ اطلاعات ہیں کہ جہاں عسکریت پسند ہیں تو انھیں پکڑیں، لوگوں کو بے گھر نہ کیا جائے۔‘












