شام میں اپنی فضائی کارروائیاں تیز کریں گے: روس

روس نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی صفوں کھلبلی مچ چکی ہے اور چھ سو کے قریب کرایے کی فوجیوں نے یورپ فرار ہونے کی کوشش کی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروس نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی صفوں کھلبلی مچ چکی ہے اور چھ سو کے قریب کرایے کی فوجیوں نے یورپ فرار ہونے کی کوشش کی ہے

امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک کی طرف شام میں کارروائیاں روکنے کے مطالبے کے بعد روس نے کہا ہے کہ وہ شام میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر زیادہ شدید فضائی حملے کرنے جا رہا ہے کیونکہ انہی حملوں نے دہشتگردوں کو خاصا کمزور کیا ہے۔

سنیچر کو ایک روسی فوجی اہلکار کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کی صفوں ’افراتفری‘ پھیل چکی ہے، لوگ اس گروہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں اور کم و بیش 600 کرائے کی ٹٹو واپس یورپ بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

لیکن برطانیہ کا کہنا ہے کہ روس فضائی حملوں کے ذریعے اصل میں اپنے اتحادی صدر بشارالاسد کے حامیوں کی مدد کر رہا ہے۔

مغربی ممالک کا یہ بھی الزام ہے کہ چند دن پہلے روس نے شام میں جو فضائی حملے شروع کیے ہیں اُن میں ان باغیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے نہیں۔ روس اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

دریں اثنا اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ 30 ستمبر سے شروع ہونے والے روسی حملوں میں کئی شامی شہری مارے جا چکے ہیں۔

عرب ممالک کی مذمت

 روسی فوجی اہلکار کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کی صفوں ’افراتفری‘ پھیل چکی ہے
،تصویر کا کیپشن روسی فوجی اہلکار کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کی صفوں ’افراتفری‘ پھیل چکی ہے

سنیچر کو روسی زبان میں جاری کیے جانے والے بیان میں کرنل جنرل آندرے کارتاپوو کا کہنا تھا کہ اب تک روسی طیارے شام میں 30 سے زیادہ فضائی حملے کر چکے ہیں جن کا مقصد ’دہشت گرد تنظیم دولتِ اسلامیہ کے 50 سے زیادہ مقامات یا اثاثوں‘ کو نشانہ بنانا تھا۔

کرنل جنرل آندرے کارتاپوو کے بقول ’ہماری خفیہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگرد ان علاقوں سے جا رہے ہیں جہاں ان کا کنٹرول تھا اور ان کی صفوں میں افراتفری پھیل چکی ہے۔‘

’تقریباً 600 کرائے کے ٹٹًو اپنے ٹھکانوں کو چھوڑ کر اب یورپ بھاگ جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

روسی فوجی افسر نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حملوں کے ان حوصلہ افزا نتائج کے بعد روس ’نہ صرف بمباری جاری رکھے گا بلکہ اس میں مزید تیزی لائے گا۔‘

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن کا کہنا ہے کہ ماسکو ’دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں اور شامی حزب اختلاف کے گروہوں میں کوئی تمیز نہیں کر رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ روس دراصل قصاب بشارالاسد کی مدد کر رہا اور اس کی کمر ٹھونک رہا ہے۔‘

’یہی وجہ ہے کہ پوری عرب دنیا روس کی مذمت کر رہی ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ اپنے اس رد عمل میں عرب دنیا حق بجانب ہے۔‘