محبت کی وہ کہانی جو ایک ڈراؤنی گیم سے شروع ہوئی

امیلیا اور لیوس ریلف مسکرا رہے ہیں۔ ان کے عقب میں سمندر کا پانی دیکھا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہLewis Relfe

    • مصنف, آسکر ایڈورڈز
    • عہدہ, بی بی سی ویلز

یہ ایک آن لائن رومانس ہے جس نے 3500 میل کا فاصلہ بھی جھیل لیا اور کووڈ وبا بھی۔

برطانیہ میں ویلز کے رہائشی لیوس ریف چیز بنانے کا کام کرتے ہیں۔ سنہ 2017 میں فرائیڈے دی تھرٹینتھ نامی ہارر ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے ان کی ملاقات امریکی ریاست ورجینیا کی امیلیا ہنڈرسن سے ہوئی۔

لیوس ریف کہتے ہیں: ’امیلیا کا کسی سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ وہ گیم چھوڑنے ہی والی تھیں کہ انھیں برطانوی لہجہ سنائی دیا۔‘

یوں وہ آن لائن گیمنگ کی دنیا میں امیلیا سے اتفافیہ ملنے کی کہانی بیان کرتے ہیں، ایک ایسی دنیا، جہاں، لیوس کے مطابق، مردوں کا غلبہ ہے۔

امیلیا اور لیوس ریلف نے ماسک پہن رکھے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAmeila Relfe

،تصویر کا کیپشنہیلووین کی رات لیوس ریلف نے سمندر میں جاتے پُل پر کھڑے ہو کر امیلیا کو شادی کی پیش کش کی

ویڈیو گیم فرائیڈے دی تھرٹینتھ کھیلنے والوں کو قاتل جیسن وورہیز سے بچ نکلنے کی کوشش کرنا ہوتی ہے۔ یہ گیم کھیلتے ہوئے لیوس ریلف بھی اسی ٹیم میں منتخب ہوئے جس میں امیلیا موجود تھیں۔

یہ کردار سنہ 1980 کی کلاسیکی ڈراؤنی فلم میں پہلی بار سامنے آیا تھا۔ اس پر مجموعی طور پر 12 فلمیں، ناول، کامک بکس اور ویڈیو گیمز بن چکی ہیں۔

لیوس نے پھر امیلیا کو ایک وائس پارٹی میں شامل ہونے کی درخواست بھیجی، جہاں کھلاڑی ایک دوسرے سے نجی طور پر بات کر سکتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ امیلیا نے درخواست قبول تو کر لی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا غلطی سے ہوا تھا۔

لیوس ریلف کے مطابق: ’میرے ذہن میں تھا کہ لڑکیوں سے کبھی آن لائن بات نہیں کروں گا۔ لیکن جب امیلیا سے ملا تو سوچا، ایک بار کوشش کر ہی لی جائے۔‘

ایک شخص نے ویڈیو گیم فرائیڈے دی تھرٹینتھ کے کردار جیسن وورہین جیسا لباس پہن رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامیلیا کو شادی کی پیش کش کرتے ہوئے لیوس نے گیم کے ولن جیسا لباس پہنا

اس اتفاقیہ ملاقات کے بعد وہ دونوں قریبی دوست بن گئے، پھر آہستہ آہستہ یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔

امیلیا اب بھی ورجینیا میں رہتی تھیں، اس کا مطلب ہے دونوں کی ملاقات کم کم ہی ہو پاتی تھی۔

تاہم ریف سے ملنے کے لیے امیلیا نے کتنی ہی بار بحر اوقیانوس پار کیا، ایک بار تو وہ چھ ماہ تک رہیں۔

لیوس کہتے ہیں: ’مستقل طور پر یہاں منتقل ہونے سے پہلے، آخری بار امیلیا چھ ماہ کے لیے آئیں تاکہ فیصلہ کر سکیں۔ اگر اس کے بعد بھی ہم ایک دوسرے کو برداشت کر سکتے تھے تو اس کا مطلب تھا یہ رشتہ چل جائے گا۔‘

ہیلووین کے موقع پر ریلف اور امیلیا اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔ امیلیا نے گود میں اپنی بیٹی ایویلین کو اٹھا رکھا ہے۔ ہیلووین کی منساسبت سے کی گئی ڈیکوریشن بھی نظر آ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہLewis Relfe

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال جوڑے کے ہاں پہلی اولاد ہوئی، اب انھیں اکٹھے ویڈیو گیمز کھیلنے کا وقت نہیں ملتا

امیلیا کے واپس جانے سے پہلے لیوس انھیں شادی کی پیشکش کرنا چاہتے تھے۔ اور پھر انھوں نے ایسا ہی کیا، ہیلووین کی رات ابیرس ٹوئٹھ کے پُل پر کھڑے ہو کر انھوں نے یہ پیشکش کی۔

اس موقع پر انھوں نے گیم کے ولن جیسن وورہیز جیسا لباس پہنا تھا۔

لیوس یاد کرتے ہیں کہ وہ سمندر کی باتیں کر کے امیلیا کی توجہ بھٹکانے کی کوشش کرتے رہے اور پھر ’جب وہ پلٹیں تو میں گھٹنوں کے بل تھا، ہاتھ میں انگوٹھی لیے۔‘

سنہ 2021 شروع ہوتے ہی لیوس اور امیلیا ایک ورچوئل تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

اگرچہ یہ فیصلہ کووڈ وبا کی وجہ سے مجبوری میں کرنا پڑا تھا، لیکن انھیں یہ بات بہت مزاحیہ لگتی ہے کہ وہ ایک ایسا جوڑا ہیں جس کی ملاقات بھی آن لائن ہوئی تھی اور شادی بھی۔

لیوس ہنستے ہوئے کہتے ہیں: ’کم از کم یہ شادی کی ایک باقاعدہ تقریب جتنی مہنگی تو نہیں تھی۔‘

چھ سال تک ایک دوسرے سے دور رہنے کے بعد امیلیا ویلز منتقل ہونے کے لیے ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

سنہ 2023 میں وہ کیری ڈیگیئن پہنچیں جہاں لیوس چیز بنانے میں معاون کے طور پر کام کرتے ہیں۔

گذشتہ سال ورجن میڈیا کی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ 51 فیصد برطانوی شہری ڈیٹنگ ایپس کے بجائے آن لائن گیمنگ کے ذریعے اپنے رومانوی ساتھی سے ملنا پسند کریں گے۔

ایک سرخ فون بوتھ کے سامنے امیلیا اور لیوس ریلف کھڑے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLewis Relfe

،تصویر کا کیپشنامیلیا کہتی ہیں کہ کیری ڈیگیئن کا منظر انھیں اپنے گھر کی یاد دلاتا ہے

امیلیا کا کہنا ہے: ’یہ بالکل مختلف ہے۔ جہاں سے میں آئی ہوں، اس کے مقابلے میں یہاں کی زندگی زیادہ پر سکون اور آرام دہ ہے۔ مجھے یہاں نوکری بھی مل گئی ہے اور میل جول بھی بڑھا ہے۔ سب لوگ بہت اچھے ہیں، مجھے یہ سب اچھا لگتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کیری ڈیگیئن کا منظر انھیں اپنے گھر کی یاد دلاتا ہے، کیوں کہ وہ ایک ایسے علاقے میں رہتی تھیں جہاں ’بہت سا زرعی رقبہ اور پہاڑیاں تھیں۔‘

لیکن وہاں ساحل سمندر ان سے چھ گھنٹے کی دوری پر تھا اور یہاں صرف چند منٹ کی دوری پر۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ بہت اچھا ہے کہ ساحل سمندر صرف 20 منٹ کے فاصلے پر ہے۔‘

امیلیا ویلز کی تاریخ کے بارے میں بھی ذوق و شوق سے جان رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا: ’مجھے ہمیشہ سے قرون وسطیٰ کے دور سے دلچسپی رہی ہے، قلعوں اور تاریخی مقامات کی سیر کرنا واقعی بہت زبردست ہے۔‘

لیوس اور امیلیا آن لائن شادی کرتے ہوئے۔ امیلیا وہ ہاتھ دکھا رہی ہیں جس کی ایک انگلی میں شادی کی انگوٹھی ہے

،تصویر کا ذریعہLewis Relfe

،تصویر کا کیپشنسنہ 2021 شروع ہوتے ہی لیوس اور امیلیا ایک ورچوئل تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گذشتہ سال ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام انھوں نے ایویلین رکھا۔ جوڑے کا کہنا ہے کہ اب وہ قریب تو آ گئے ہیں لیکن اکٹھے گیمز کھیلنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔

اب وہ اپنی بیٹی ایویلین کے ساتھ ویلز کے علاقے کیری ڈیگیئن میں رہتے ہیں۔

لیوس بتاتے ہیں کہ ’اب ننھی بچی ہی ان دونوں کو مصروف رکھتی ہے۔ عام طور پر ایک شخص گیم کھیل رہا ہوتا ہے اور دوسرا بچی کو بہلا رہا ہوتا ہے۔‘

اس کا مطلب ہے کہ وہ دونوں مل کر فرائیڈے دی تھرٹینتھ یا کوئی دوسری گیم اب نہیں کھیل سکتے۔ والدین بننے کے بعد ذمہ داریوں کی وجہ سے اب وہ اُس چیز کا لطف نہیں اٹھا پاتے جس نے ان کا ملن کرایا تھا۔

والدین بننے کے تجربے کو اپنے اور امیلیا کے لیے ’دلچسپ اور بے مثال‘ قرار دیتے ہوئے لیوس کا کہنا ہے ’یہ خوشی کا ایک نیا تجربہ ہے لیکن ہم تنگ بھی پڑ جاتے ہیں۔‘

اپنی محبت کے سفر کا جائزہ لیتے ہوئے لیوس کہتے ہیں کہ گذشتہ چند سال اکٹھے گزارنے کے بعد اب انھیں دوری کا وقت ’مشکل سے ہی یاد‘ ہے۔

لیوس کے مطابق طویل فاصلے کا یہ تعلق نبھانا بہت ہی مشکل تھا لیکن ویڈیوز گیمز سے ان کی مشترکہ محبت نے اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے کہا: ’دور رہتے ہوئے ہم نے چار چار گھنٹے تک بے شمار گیمز کھیلیں، میرا خیال ہے اس سے ہمیں یہ تعلق قائم رکھنے میں بہت مدد ملی۔‘