ہم روتے کیوں ہیں؟ آنسوؤں کے پیچھے چھپی سائنس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم میں سے اکثر لوگوں کو اس وقت رونا آ جاتا ہے جب ہم غمگین، بے حد دباؤ میں یا غصے ہوں۔ یہی نہیں بلکہ بعض اوقات تو کئی لوگ خوشی میں بھی رو پڑتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان واحد جاندار ہے جن کے بارے میں یہ علم موجود ہے کہ وہ جذبات کے زیر اثر آنسو بہاتے ہیں؟
اگرچہ بہت سے دیگر جانور پیدائش کے بعد بلند آواز میں روتے ہیں تاکہ اپنی تکلیف کا اشارہ دے سکیں، لیکن ان کے دماغ میں ایسے راستے موجود نہیں دکھائی دیتے جو پیچیدہ جذبات کے جواب میں ان کی آنکھوں سے آنسو رواں کر سکیں۔
سائنس دان یہ تو جان گئے ہیں کہ آنسو کس طرح کام کرتے ہیں لیکن انسان کیوں روتے ہیں اور جذبات میں آنسو کیوں بہنے لگتے ہیں، یہ اب بھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا۔
آنسو کیا ہیں؟
سوئٹزرلینڈ کے انسٹیٹیوٹ آف ہیومن بایولوجی میں پوسٹ ڈاکٹورل فیلو ڈاکٹر میری بانیئرہیلاویٹ نے اس کی وضاحت میں بتایا ہے کہ آنکھوں کے آنسو پانچ اجزا پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں میوکس، الیکٹرولائٹس، پانی، پروٹین اور لپڈز شامل ہیں۔
بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام کراؤڈ سائنس کو آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر میری نے بتایا کہ ان سب کی خصوصیات مختلف ہیں۔
مثال کے طور پر پروٹین وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف کام کرتے ہیں جبکہ الیکٹرولائٹس وہ معدنیات ہیں جو جسمانی افعال کے لیے ضروری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محققین کے مطابق آنکھوں میں اتر آنے والے آنسووں کی تین اقسام ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’بیزل آنسو وہ ہیں جو ہمیشہ آپ کی آنکھ کی سطح پر موجود رہتے ہیں۔ یہ آنکھ کو نم رکھتے ہیں جبکہ ریفلیکس آنسو اس وقت خارج ہوتے ہیں جب کوئی چیز مثلاً کیڑا یا گرد آنکھ میں داخل ہو جائے۔‘
یہ کیفیت قرنیہ میں موجود اعصابی خلیے محسوس کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ قرنیہ آنکھ کی شفاف، گنبد نما بیرونی تہہ ہے جو جراثیم اور ملبے کے خلاف حفاظتی رکاوٹ کا کام کرتی ہے۔
اس میں پورے جسم کے مقابلے میں سب سے زیادہ اعصابی خلیے موجود ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر بانیئرہیلاویٹ کے مطابق یہ خلیے درجہ حرارت، جسمانی دباؤ اور خشکی کو محسوس کر سکتے ہیں۔
اعصابی خلیوں سے آنے والے پیغامات دماغ کے ایک حصے لیکرمل نیوکلئیس تک پہنچتے ہیں۔ یہ حصہ دراصل آنسوؤں کو کنٹرول کرتا ہے اور پھر یہ آنسو غدود کو زیادہ آنسو پیدا کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔
جذبات میں بہنے والے آنسو
آنکھوں کے آنسوؤں کی تیسری قسم جذبات میں بہنے والے آنسوجذبات میں بہے والے آنسو ہیں اور یہ تب بہتے ہیں جہاں معاملہ زیادہ پیچیدہ ہو جائے۔
دماغ کے وہ حصے جو جذبات کو سمجھتے یا کنٹرول کرتے ہیں، آنسو بنانے والے حصے (لیکریمل نیوکلئیس) سے بھی جُڑے ہوتے ہیں، لیکن یہ تعلق ایک عام حفاظتی ردِعمل کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ راستوں سے ہوتا ہے۔
نیدرلینڈز کی ٹلبرگ یونیورسٹی میں کلینیکل سائیکالوجی کے پروفیسرایڈ ونگرہوٹس کے مطابق رونا اکثر ایک ہی جذبے کے بجائے جذباتی بوجھ کی عکاسی کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جذبات شاذ و نادر ہی خالص صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اکثر یہ مختلف جذبات کا امتزاج یا تیز رفتاری سے ایک دوسرے کے بعد دوسری بات کے اثر انداز ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGpointstudio via Getty Images
ایڈ ونگر ہوٹس کے مطابق جیسے جیسے ہم عمر رسیدہ ہوتے ہیں، جذباتی طور پر رونے کی وجوہات بھی بدلتی ہیں۔
بچوں کے لیے جسمانی درد ایک اہم محرک ہوتا ہے لیکن بالغوں اور بزرگوں کے لیے اس کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔
جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، رونا زیادہ تر ہمدردی سے بھی جُڑ جاتا ہے یعنی صرف اپنے دکھ پر نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ اور مصیبت پر بھی رونا آنے لگتا ہے۔
ونگرہوٹس کہتے ہیں کہ مثبت جذبات جیسے بہت خوشی یا غیر معمولی کامیابی اور فطری خوبصورتی سے پیدا ہونے والے احساسات بھی آنسوؤں کو جنم دے سکتے ہیں۔
رونے کے اسباب
بہت سے لوگ رونے کے بعد سکون محسوس کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سائنس دانوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ اثر واقعی ہوتا ہے یا نہیں۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف پٹسبرگ میں کلینیکل ماہرِ نفسیات اور ایسوسی ایٹ پروفیسر لورین بائلزما اس بات کی تحقیق کر رہی ہیں کہ کیا رونا ہمیں بہتر محسوس کراتا ہے یا نہیں اور اس کے لیے وہ دل کی دھڑکن کے سینسر سے مدد لے رہی ہیں۔
الیکٹروکارڈیوگرام ہمارے دل کی دھڑکن اور رفتار کو ریکارڈ کرتے ہیں جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ ہمارا اعصابی نظام کس طرح کام کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہXavier Lorenzo via Getty Images
ان کے ابتدائی نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ رونے سے بالکل پہلے سرگرمی ہمارے سمپتھیٹک نروس سسٹم میں بڑھ جاتی ہے۔ دماغ کا یہ حصہ ’لڑو یا فرار ہو جاٰو‘ کے ردِعمل کے لیے ذمہ دار ہے۔
’اور پھر جیسے ہی آنسو نکلنا شروع ہوتے ہیں، ہم پیراسیمپتھیٹک (پرسکون اور ریلیکس ہونے میں مدد دینے والا اعصابی نظام کا حصہ) سرگرمی میں اضافہ دیکھتے ہیں
تاہم ونگرہوٹس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رونا ہمیشہ ہمیں بہتر محسوس نہیں کراتا، خاص طور پر اگر ہمیں ڈپریشن یا برن آؤٹ ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ ہمیں کس چیز پر رونا آ رہا ہے۔ ہم زیادہ تر اس وقت بہتر موڈ یا پرسکون ہوتے ہیں جب ہم قابو میں آنے والی صورتحال پر روتے ہیں لیکن جب ہم قابو سے باہر حالات پر روتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا۔‘
اور ہمارے اردگرد لوگوں کی موجودگی بھی رونے کے محسوسات پر فرق ڈال سکتی ہے۔
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’اگر وہ سمجھ بوجھ کے ساتھ ردِعمل دیں اور آپ کو سہارا اور تسلی دیں تو آپ بہتر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اگر وہ مذاق اُڑانا شروع کر دیں یا غصے میں آ جائیں یا آپ شرمندگی محسوس کریں تو پھر رونے سے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو گا نہ سکون ملے گا۔‘
آنسو۔۔۔ ایک سماجی اشارہ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
درحقیقت کچھ شواہد موجود ہیں کہ رونا دوسروں کے رویے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اسرائیل کی ایک لیبارٹری تحقیق میں ایک ٹیسٹ کیا گیا جس میں وہ مرد جنھوں نے خواتین کے جذبات میں بہے آنسو سونگھے، اُن مردوں کے مقابلے میں کم جارحانہ تھے جنھوں نے نمکین محلول سونگھا۔
محققین اس بات پر متفق ہیں کہ آنسو ایک سماجی اشارے کے طور پر کام کرتے ہیں، یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہمیں مدد کی ضرورت ہے اور یہ دوسروں کی طرف سے سہارا دینے کی آمادگی کو بڑھاتے ہیں۔
کچھ مطالعات یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ جذباتی رو میں بہے آنسو ہمیں زیادہ قابلِ اعتماد بنا سکتے ہیں جو شاید ہمارے آباؤ اجداد کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مدد کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔
جہاں تک بچوں کے رونے کا تعلق ہےتو شواہد موجود ہیں کہ بچے کا رونا بڑوں کے دماغ کے مختلف حصوں کو متحرک کر سکتا ہے جو نگہداشت کے ردِعمل کو جنم دیتا ہے۔
ونگرہوٹس کا کہنا ہے کہ انسانی آنسو شاید اس لیے ارتقا پذیر ہوئے کیونکہ ہمارے بچپن کا وہ دورانیہ بہت طویل ہے جس دوران ہم اپنے والدین پر انحصار کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ بچے کے آنسو بڑوں میں جارحیت کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں، کیونکہ بلند آواز میں رونا ’بہت پریشان کن ہوتا ہے اور ہمیں جارحانہ بنا سکتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ بالکل منطقی بات ہے کہ یہ بچے کے لیے ایک قسم کا خود حفاظتی طریقہ ہو جو مجھے بہت دلچسپ لگتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہDjavan Rodriguez via Getty Images
کچھ لوگ زیادہ کیوں روتے ہیں؟
لورین بائلزما کے مطابق مرد اوسطاً مہینے میں کم از کم ایک بار روتے ہیں جبکہ خواتین چار سے پانچ بار روتی ہیں۔
اگرچہ یہ ایک سیکھا ہوا رویہ ہو سکتا ہے تاہم ماہرِ نفسیات کے مطابق چونکہ یہ مختلف ثقافتوں میں نظر آتا ہے، اس لیے یہ پوری کہانی نہیں ہے۔
وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ’خواتین عمومی طور پر زیادہ جذباتی ردِعمل ظاہر کرتی ہیں یا زیادہ جذبات کا اظہار کرتی ہیں، اور میرا خیال ہے کہ رونا اس فرق کی ایک جھلک ہے۔ اس میں نیورولوجیکل فرق، ہارمونی فرق یا شخصیت کے فرق شامل ہو سکتے ہیں۔‘
لورین کہتی ہیں کہ فی الحال کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں کہ ماہواری کے دوران ہارمون کی تبدیلیاں اس بات پر اثر ڈالتی ہیں کہ ہم کتنا روتے ہیں لیکن ان کا شبہ ہے کہ ہارمونز اس میں کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ مرد و عورت کے جینڈر کے درمیان فرق اور حمل یا بڑھاپے جیسے عوامل اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
انھوں نے شخصیت کی خصوصیات پر بھی تحقیق کی ہے اور نتیجہ اخذ کیا ہے کہ رونا خاص طور پر نیورٹک یا ایکسٹروورٹ لوگوں سے جُڑا ہوا لگتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے یہ بھی پایا کہ وہ لوگ جن میں ہمدردی زیادہ تھی، زیادہ روتے تھے شاید اس لیے کہ وہ دوسروں کو مشکلات میں دیکھ کر ردِعمل کے طور پر روتے ہیں۔‘
ایسا لگتا ہے کہ رونا سماجی تعلق سے جڑا ہے۔
جیسا کہ ونگرہوٹس کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ رونا ایک قسم کا علامتی نشان ہے۔ یہ آپ کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ ’ٹھیک ہے، یہ بہت اہم بات ہے۔‘













