’جنسی خواہش میں کمی‘ سمیت وہ مسائل جو نیند میں خراٹے لینے کے باعث آپ کی شادی شدہ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سونیتھ پریرا
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
’میں پریشان تھی کہ اگر اس بارے میں میں اپنے شوہر سے بات کروں گی تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔‘
انھوں نے سوچا کہ ان کے شوہر کے نیند میں خراٹے لینے کی عادت اس پیکیج کا حصہ ہے جو شادی کے ساتھ آتا ہے۔ لیکن یہ عادت ان کے شوہر اور ان کے تعلقات پر اثر انداز ہو رہی تھی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وجہ سے ان کے شوہر رات کو بہت زیادہ بیدار ہونا شروع ہو گئے تھے اور اس کی وجہ سے وہ دن میں بدمزاج رہتے تھے۔‘
ان کے شوہر کے خراٹوں نے انھیں رات کو پرسکون نیند لینے سے بھی قاصر کر دیا تھا اور نیند کی کمی کی وجہ سے کام پر ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی تھی۔
شادی شدہ زندگی میں خراٹے لینے والے ساتھی کو نظر انداز کرنا بہت عام بات ہے لیکن صحت اور ریلیشن شپ کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے آپ کے ساتھی اور آپ کے رشتے دونوں کی صحت پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔

سلیپ ایپنیا کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی آواز میں خراٹے لینا اکثر نیند کی خرابی سے منسلک ہوتے ہیں جسے اوبسٹرکٹیو سلیپ ایپنیا (او ایس اے) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں نیند کے دوران سانس لینا بند ہو جاتا ہے اور بار بار سانس میں رکاوٹ شروع ہو جاتی ہے۔
اس کی وجہ سے گلے کی دیواریں ڈھیلی اور تنگ ہو جاتی ہیں، سانس لینے کے عمل میں خلل پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے۔
برطانیہ کی جیمز کک یونیورسٹی ہسپتال کے ایک ماہر تنفس کے معالج ڈاکٹر راما مورتھی ستھیامورتھی کے مطابق نیند کی کمی کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں جو معمولی سے معتدل اور شدید ہو سکتی ہیں لیکن عام طور پر یہ علامات بتدریج بگڑتی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے خبردار کیا کہ اس کا علاج نہ ہونے کی صورت میں خراٹے لینے والوں اور ان کے ساتھی کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بہت سے پہلوؤں کو متاثر کر سکتی ہے جس میں شادی شدہ جوڑے کے درمیان سیکس کی خواہش میں کمی بھی شامل ہے۔
نیند کی کمی یا سلیپ ایپنیا کی علامات کیا ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کی علامات بنیادی طور پر اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب آپ سوتے ہیں، اور ان میں ذیل شامل ہیں:
- اونچی آواز میں خراٹے لینا
- سانس لینے میں رکاوٹ
- ہانپنا، خراٹے لینا، یا دم گھٹنے کی آوازیں نکالنا
- نیند سے بار بار اٹھنا
دن کے اوقات میں مریضوں کے ساتھ یہ بھی ہو سکتا ہے:
- جب وہ نیند سے جاگتے ہیں تو ان کے سر میں درد ہوتا ہے
- بہت تھکا ہوا محسوس کرنا
- توجہ مرکوز کرنے میں مشکل محسوس کرنا
- یادداشت کمزور ہونا
- افسردہ، چڑچڑاپن محسوس کرنا یا موڈ کی دیگر تبدیلیاں ہونا۔
- ناقص ہم آہنگی کا تجربہ کرنا
- جنسی خواہش میں کمی یا سیکس ڈرائیو کھو دینا
- اس کے علاوہ صحت کے دیگر مسائل ہونا
مزید یہ کہ بار بار سانس میں رکاوٹ والی نیند کی کمی دیگر صحت کے مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایپنیا کے دوران خون میں آکسیجن کی سطح میں اچانک کمی بلڈ پریشر کو بڑھا سکتی ہے اور اس سے متعدد متعلقہ طبی مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ او ایس اے سے دل بند ہونے کا خطرہ 140فیصد، فالج کا خطرہ 60 فیصد، اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو 30 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
ڈاکٹر راما ستھیامورتھی کہتے ہیں کہ اگرچہ کچھ جوڑے اپنے ساتھی کے خراٹوں کو ایک مزاحیہ بات سمجھتے ہیں لیکن یہ ان کے رشتے کے لیے ایک سنگین معاملہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عام طور پر، میں جن مریضوں کا علاج کر رہا ہوں، ان میں سے 90 فیصد کو ریفرل شروع کیا گیا ہے کیونکہ ان کا ساتھی بہت متاثر ہوا ہے۔‘
یہ شادی شدہ جوڑوں کو مختلف کمروں میں سونے پر مجبور کر سکتا ہے اور اس تصور کو سلیپ ڈائیورس یعنی ’نیند کی طلاق‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
لیکن ضروری نہیں کہ یہ کوئی بری چیز ہے۔ امریکہ میں مقیم باہمی تعلقات کی معالج سارہ ناصر زادہ اکثر مشورہ دیتی ہیں کہ جوڑے الگ الگ سوئیں چاہیں وہ خراٹے لیتے ہوں یا نہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کی اچھی نیند کے ساتھ دن کا آغاز دونوں پارٹنرز کے لیے صحت مند تعلقات کو فروغ دے سکتا ہے، حالانکہ یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب گھر میں ایک اضافی بیڈروم موجود ہو۔
لیکن کچھ جوڑوں کے لیے ’سلیپ ڈائورس‘مستقل علیحدگی کے راستے پر پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس معاملے پر بات کرنا
ارونیکا سیلوم سنگاپور میں رہتی ہیں جو ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے جس میں فی کس جی ڈی پی سب سے زیادہ ہے۔ گھر میں کسی اور جگہ بستر تلاش کرنا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔
ارونیکا ایک بچے کی والدہ ہیں اور ان کی شادی کو 15 سال ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ سنگاپور میں مہنگائی کے باعث زیادہ اخراجات کی وجہ سے ہمیں اضافی آمدنی کے لیے اپنا گیسٹ روم کرائے پر دینا پڑا۔
تاہم لاتعداد راتوں کی خراب نیند برداشت کرنے کے بعد سیلوم نے اپنے شوہر سے ان کے خراٹوں کے مسئلے کے بارے میں بات کی۔ ان کے شوہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنے سے گریزاں تھے کیونکہ ان کے والد اور دادا دونوں خراٹے لیتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ بالکل نارمل ہے۔
ارونیکا سیلوم نے مزید کہا کہ مردوں میں اونچی آواز میں خراٹے لینے کو اکثر مردانگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر بعض ایشیائی ممالک میں۔
سارہ ناصر زادہ نے کہا کہ اس طرح کے حالات میں یہ ضروری ہے کہ اس مسئلے پر اپنے ساتھی کے ساتھ ’تفصیل اور نازک طریقے سے‘ بات کرنے کے لیے صحیح وقت تلاش کیا جائے۔ شاید جنسی تعلقات قائم کرنے کے بعد یا شاید جب وہ اچھے موڈ میں ہوں۔
سماجی نفسیات کے ماہر نے کہا کہ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ خراٹے لینے والا شخص اکثر اس حالت کے بارے میں شرمندگی محسوس کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگین نتائج
برٹش سنورنگ اینڈ سلیپ ایپنیا اسوسی ایشن کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد خراٹے لیتے ہیں اور اس سے ملک میں تین کروڑ افراد متاثر ہوتے ہیں جو کہ تقریباً ملک کی نصف آبادی کے برابر ہے۔
اسوسی ایشن نے کہا کہ حالیہ سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خراٹے لینے والے مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر کہ خراٹے لینے والا کون ہے اس عادت کے گہرے نتائج ہو سکتے ہیں۔
کچھ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور برطانیہ میں طلاق کی سب سے عام وجوہات میں خراٹے لینے کی بیماری ہے اگرچہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے مصدقہ ڈیٹا تلاش کرنا مشکل ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی خاندانی وکیل ریٹا گپتا نے کہا کہ ان کی فرم میں طلاق کے متعدد کیسز آئے جن کی وجہ خراٹے لینے کی عادت سے تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ یقینی طور پر شادی میں ناخوشی کی ایک وجہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ ہم اپنے ساتھی کے خراٹوں کی وجہ سے کئی سالوں سے الگ الگ کمروں میں سو رہے ہیں، اور اب ہم الگ ہو گئے ہیں۔‘
خاندانی وکیل کا کہنا ہے کہ طلاق کے معاملات میں ایک عام مسئلہ طبی علاج کو نظر انداز کرنا اور اس مسئلے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات نہ کرنا ہے، جو بنیادی وابستگی اور باہمی تعلقات کے مسائل کو پیدا کرتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مثال کے طور پر ایک شوہر کے خلاف مقدمہ ہے، اور اس کی بیوی کہتی ہے کہ وہ پہلے ہی بری طرح خراٹے لیتا ہے جس سے واقعی میری نیند متاثر ہوتی ہے اور اس نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔‘
آپ خراٹوں یا سلیپ ایپنیا کے متعلق کیا کر سکتے ہیں؟
نیند کی کمی کے علاج میں طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں شامل ہوسکتی ہیں جیسے کہ:
وزن میں کمی کرنا
تمباکو نوشی چھوڑنا
شراب نوشی کو محدود کرنا
تاہم، بہت سے افراد کے لیے سی پی اے پی(مسلسل مثبت ایئر وے پریشر) مشین کے نام سے جانے جانے والے آلے کا استعمال ضروری ہے۔ یہ نرمی سے ہوا کو ماسک میں پہنچاتا ہے جسے آپ سوتے وقت اپنے منہ یا ناک پر پہنتے ہیں۔
ڈاکٹر راما مورتی نے کہا کہ خراٹے لینے والے اور اس کے ساتھی دونوں کی صحت کو ترجیح دینا ضروری ہے، انھیں طبی مشورہ لینے کی ترغیب دی جائے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ نہ صرف رشتے کے لیے بلکہ معاشی طور پر بھی فائدہ مند ہو گا، کیونکہ لوگ اس حالت کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر صحت کے مسائل کے لیے دوائیوں پر کم رقم خرچ کریں گے۔ اس لیے یہ پورے خاندان کے لیے ایک مجموعی فائدہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معاشی، سماجی اور ثقافتی رکاوٹیں
خراٹوں کی طرف رویہ عالمی اور انفرادی طور پر مختلف ہو سکتا ہے اور یہ رویے معاشی، سماجی، اور ثقافتی عوامل اور یہاں تک کہ جنس اور جنسیت سے متاثر ہوتے ہیں۔
سمن (فرضی نام) ایک 40 سالہ ہم جنس پرست شخص ہیں جو کولمبو، سری لنکا میں ہوٹل ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور انھوں نے اپنی جنسیت کو اپنے خاندان سے پوشیدہ رکھا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ ان کا عاشق صرف ایک دوست ہے جو ان کے گھر میں اضافی کمرۂ کرائے پر لے رہا ہے۔
سمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا پارٹنر اونچی آواز میں خراٹے لیتا ہے اور میں اس کے خراٹوں کی وجہ سے سو نہیں سکتا۔ مجھے رات کو تب ہی اچھی نیند آتی ہے جب میری والدہ مجھ سے ملنے آتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان دنوں کے لیے میرا پارٹنر خوشی سے میری والدہ کو اضافی کمرہ سونے کے لیے دیتا ہے تاکہ میری والدہ کو یقین ہو کہ یہ اس کا کمرہ ہے اور وہ خود صوفے پر سوتا ہے۔ یہ واحد وقت ہے جب میں اچھی نیند لے سکتا ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میرا پارٹنر اپنے آپ کو نسوانی خصوصیات کے ساتھ ایک ہم جنس پرست آدمی کے طور پر دیکھتا ہے، لیکن ہماری ثقافت میں خراٹے کو مردانہ سمجھا جاتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اس مسئلے پر بات کرنے سے اسے تکلیف ہو اور وہ مجھے چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔‘
جب سمن اپنے پارٹنر کے ساتھ خراٹوں کے مسئلے پر بات کرنے کی ہمت اکٹھا کر رہے ہیں تو اس وقت میں اورینکا سیلوم نے آخر کار اپنے شوہر کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنے پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں نیند کی کمی کی تشخیص ہوئی۔
سیلوم نے کہا کہ ان کے شوہر نے پہلے سے ہی کچھ وزن کم کرنے کی مشقوں میں مشغول ہو کر معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔











