’لاہور اور چکوال میں بھی برفباری کا امکان‘: کیا پاکستان میں سردی کی ’غیر معمولی‘ لہر آنے والی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’ہوشیار، خبردار! آئندہ چند روز میں یخ بستہ ہوائیں، بارش اور طوفان، پہاڑی علاقوں سمیت کئی میدانی علاقوں میں برف باری، درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے اور پاکستان میں دہائیوں کا ریکارڈ توڑتی سردی ۔۔۔‘
اس نوعیت کے مختلف پیغامات اتوار کی دوپہر سے ہی پاکستان میں سوشل میڈیا پر گردش کرتے دکھائی دیے۔
یہی نہیں بلکہ ان میں سندھ سے لے کر بلوچستان اور پنجاب سے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں بارش، ژالہ باری اور برف باری کے دعوے موجود تھے۔
ایسا ہی ایک پیغام سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہX/Umar Saif
محکمہ موسمیات کے سابق ڈائیریکٹر جنرل اور ماہر موسمیات احمد ریاض نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’قطب شمالی سے کچھ اوپر سرد ہوا کے ایک ماس (ذخیرے) کو پولر ورٹیکس کہتے ہیں۔‘
’یہ زمین کی سطح سے 10 تا 50 کلومیٹر اوپر ہوتا ہے، اور سطح زمین سے کئی میل اوپر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمزور ہو جائے تو ہوا جنوب کا رخ کر لیتی ہے اور ان علاقوں میں سردی بڑھ جاتی ہے۔‘
’ایسا کوئی سسٹم نہیں آ رہا جو غیر معمولی ہو‘
محکمہ موسمیات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چلنے والی ایسی خبروں کو غیر مصدقہ اور گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں میدانی علاقوں میں بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے جانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں موسمی پیش گوئی مرکز (نیشنل ویدر فارکاسٹنگ سینٹر) کے ڈائیریکٹر عرفان ورک کا کہنا ہے کہ ’پولر ورٹیکس تو ہمارے خطے میں ہوتا ہی نہیں بلکہ قطب شمالی میں ہوتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’پولر ورٹیکس امریکی اور یورپی علاقوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارا ملک جس خطے میں ہے وہاں پولر ورٹیکس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہو سکتا۔‘
محکمہ موسمیات کے مطابق مذکورہ مدت کے دوران کسی غیر معمولی یا تاریخی شدید سردی کی کوئی لہر متوقع نہیں اور درجہ حرارت موسم سرما کے معمول کے مطابق ہی رہنے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے جنوری کے ماہ کی پیش گوئی میں خبردار کیا ہوا ہے کہ رواں مہینے معمول سے کچھ اوپر ہی درجہ حرارت رہنے کا امکان ہے جبکہ موسم سرما کی بارش بھی معمول سے قدرے کم ہونے کی ہی پیش گوئی کی جا چکی ہے۔
ادارے کے مطابق معمول سے کم بارشیں اور برف باری کی کم مقدار کے باعث موسم گرما میں پانی کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تو ایسا محسوس کیوں ہو رہا ہے کہ سردی بڑھ چکی ہے؟ ملک کے اکثر علاقے ان دنوں سردی کی لپیٹ میں ہیں۔
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے عرفان ورک کا کہنا تھا کہ ’اس سال ابھی تک سردی میں کم سے کم درجہ حرارت کا کوئی ریکارڈ نہیں ٹوٹا۔ ہمارے خطے میں عموماً جنوری ہی سب سے سرد مہینہ کہلاتا ہے۔‘
’میدانی علاقوں میں دھند کی وجہ سے سورج چھپا رہتا ہے تو دن کے وقت بھی درجہ حرارت بڑھتا نہیں ہے، جب کہ معمول کے دنوں میں سورج نکلنے کی وجہ سے دن کے وقت کسی حد تک درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔‘
عرفان ورک کا کہنا تھا ’یہ وجہ ہے کہ ہمیں دن زیادہ سرد ملتا ہے۔‘
یاد رہے کہ 2025 کے دسمبر کا تقریبا آدھا مہینہ تو خشک موسم کی لپیٹ میں ہی رہا تاہم اس کے بعد بالائی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری بھی محکمہ موسمیات کے مطابق معمول سے کم ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات اسلام آباد کے ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ اس وقت بالائی علاقوں سمیت ملک کے چند دیگر علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود تو ہے تاہم دو سے تین دن تک موسم کم و بیش یہی رہے گا جیسا کہ ان دنوں ہے۔
’البتہ ایک سسٹم بننا شروع ہو رہا ہے جس کے تحت امکان ہے کہ 18 جنوری سے ملک کے اکثر علاقوں کو بارشوں کا نظام اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس دوران پہاڑی علاقوں اور گلگت بلتستان میں بارف باری بھی ہو گی۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’ابھی ہم مانیٹر کر رہے ہیں اور اگلے دو سے تین دن میں صورتحال واضح ہو پائے گی لیکن یہ سسٹم ہرگز ایسا نہیں جس کا دعویٰ سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر بحث
یوں تو موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی لحاف رضائیاں، کمبل اور گرم کپڑے نکل آتے ہیں تاہم کراچی سمیت کئی شہروں میں سردی زیادہ شدت نہیں دکھا پاتی اور وہاں کے مکین اس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی برملا کرتے ہیں۔
ایسے ہی ’فیک الرٹ‘ کے نیچے اپنی رائے میں کراچی کے ایک رہائشی عماد نے لکھا کہ ’بھائی میدانی علاقوں کو برف سے سفید ڈھانپ دیا اور درجہ حرارت بھی صفر، پڑھتنے سے ہی کپکپی لگ گئی ہے۔‘
جب صارفین نے گروک سے لاہور کی برف باری کا سوال کیا اور انھیں جواب ملا کہ محکمہ موسمیات کی ایسی پیش گوئی فی الحال نہیں تو کئی صارفین نے اس پر افسوس کا ردعمل دیا۔
شاہینہ عزیز نامی صارف نے لکھا کہ ’میرے خواب بکھر گئے۔ خیالوں میں سویٹرز اور شالز کے انبار خرید ڈالے اور تو اور لاہور میں برف باری کے مناظر بھی چشم تصور سے دیکھ رکھے تھے۔ یہ پیش گوئیاں کرنے والے کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔‘
آئندہ دنوں موسم کیسا ہو گا؟
محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پر موجود جنوری کے مہینے میں موسم کی پیش گوئی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ’جنوری 2026 کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں تقریبا معمول کی بارش متوقع ہے، تاہم شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان میں معمول سے کچھ کم بارش کا امکان ہے۔‘
ویب سائٹ کے مطابق ’وسطی اور جنوبی علاقے، جن میں سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بیشتر حصے شامل ہیں، موسم کے اوسط کے قریب رہنے کی توقع ہے تاہم شمال مغربی پاکستان میں معمول سے کچھ زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو غالباً موسمِ سرما کی مغربی ہواؤں کی سرگرمی سے منسلک ہے۔‘
اس آؤٹ لک میں کسی بڑے پیمانے پر غیر معمولی بارش کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے تاہم یہ لکھا ہے کہ مقامی سطح پر شدید بارش کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔












