’مدد آ رہی ہے، احتجاج جاری رکھیں‘: ٹرمپ کا ایرانی مظاہرین کو پیغام اور امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ایرانی محبِ وطنوں، احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو! قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھ لو۔ وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔‘ امریکی صدر نے امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت بھی کی ہے۔
خلاصہ
- ٹرمپ کا ایران میں مظاہرین کو پیغام: ’احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچنے والی ہے‘
- کسی بھی امریکی کارروائی کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
- ایران پر مزید پابندیاں جلد عائد کی جائیں گی: یورپی یونین
- یورپی یونین کی پابندیوں پر ایران کی جوابی اقدام کی دھمکی، جرمن چانسلر کے بیان پر سخت جواب
- ایران میں مظاہروں پر کریک ڈاؤن میں ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایران سے تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا گیا ہے۔
- ایران سے تجارت پر اضافی ٹیرف: چین کا امریکی اقدام کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان
لائیو کوریج
ایرانی نظام پر شدید دباؤ ہے مگر یہ ختم ہونے والا نہیں, جیریمی بوؤن کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک آمرانہ نظام کیسے مرتا ہے؟ جیسا کہ ارنسٹ ہیمنگ وے نے کہا تھا ’آہستہ آہستہ۔۔۔ اور پھر اچانک۔‘
ایران میں مظاہرین اور بیرون ملک ان کے حامی امید کر رہے تھے کہ تہران میں اسلامی نظام آخری مرحلے میں ہے۔ لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ اگر یہ کمزور ہو رہا ہے تو ابھی آہستہ آہستہ مرحلے میں ہے۔
حالیہ دو ہفتوں کے احتجاج نظام کے لیے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایرانی عوام کا غصہ اور مایوسی پہلے بھی سڑکوں پر نظر آ چکی ہے، لیکن حالیہ احتجاج پچھلے دو سالوں میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر لگائے گئے فوجی اور اقتصادی دھچکوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس دوران حکومتی فورسز نے شہریوں پر طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں حالیہ ہفتوں کے مظاہرے، جیسا کہ ظاہر ہے، ختم ہو گئے ہیں۔
اگرچہ ایرانی نظام شدید دباؤ میں ہے، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ابھی ختم ہونے کے قریب نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ’فسادی تنظیموں‘ سے وابستہ 279 مظاہرین گرفتار کر لیے گئے: ایرانی پولیس چیف

،تصویر کا ذریعہgettyimages
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 279 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی ’فسادی تنظیموں‘ سے وابستہ ہیں۔
ایرانی سرکاری براڈکاسٹر آئی آر ائی بی کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ایرانی عوامی سکیورٹی پولیس کے چیف فراجا نے 279 ’شرپسندوں‘ کی گرفتاری کا اعلان کیا۔
حالیہ ہفتوں کے مظاہروں کے دوران، ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور مظاہرین کو ’شرپسند‘ قرار دیا۔
ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ ایران میں براہِ راست مداخلت کے لیے تیار ہیں, سارہ سمتھ، بی بی سی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر

،تصویر کا ذریعہgettyimages
ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی قیادت کے خلاف اپنی زبان کو سخت کر رہے ہیں ۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ اور ان کے قومی سلامتی کے حکام ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
وہ کئی دنوں سے یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ ’تیار اور مکمل طور پر مسلح ہے‘ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ کس حد تک جانے کو تیار ہیں، یا جب وہ ایک ہی سوشل میڈیا پوسٹ میں مظاہرین سے کہتے ہیں کہ ’مدد آ رہی ہے‘ اور قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، تو اس کا مطلب کیا ہے۔۔۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ بڑی بھاری قیمت ادا کریں گے۔
صدر کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں: وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے کا حکم دے سکتے ہیں (جس پر جون میں امریکہ نے حملہ کیا تھا)، یا بیلسٹک میزائل سائٹس پر حملہ کر سکتے ہیں۔
چھوٹے یا محدود آپشنز میں سائبر حملہ یا ایران کے سیکورٹی اداروں کے خلاف کارروائی شامل ہو سکتی ہے، جو مظاہریں پر تشدد کر رہے ہیں۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر حملہ ہوا تو وہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر جواب دینے پر مجبور ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگائیں گے۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ کس طرح نافذ کیے جائیں گے اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا کہ یہ ٹیرف کب اور کیسے نافذ ہوں گے۔
اگرچہ امریکہ کی جانب سے ایران میں کسی ممکنہ کارروائی کے بارے میں کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی قسم کی براہِ راست مداخلت کے لیے تیار ہیں۔
بریکنگ, امریکی اتحادی ایران سے نکل جائیں: ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہgettyimages
ٹرمپ ڈیٹرائٹ میں ایک فیکٹری کے دورے پر ہیں۔وہاں صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا انھوں نے امریکی اتحادیوں کو ایران سے نکلنے کی ہدایت دی ہے، ٹرمپ نے جواب دیا: ’میرا خیال ہے کہ انھیں نکل جانا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔‘
خیال رہے ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’ایرانی محبِ وطنوں، احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو! قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھ لو۔ وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔‘
بریکنگ, ’مدد آ رہی ہے‘ کا کیا مطلب ہے، خود سمجھ لیں: ٹرمپ کی صحافیوں سے بات چیت

،تصویر کا ذریعہAFP
صحافیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا ہے کہ ان کے حالیہ ٹروتھ سوشل پوسٹ کا کیا مطلب تھا جس میں انھوں نے ایرانی مظاہرین سے کہا ہے کہ ’مدد آ رہی ہے۔‘
ٹرمپ نے جواب دیا: ’سوری، آپ کو خود یہ سمجھنا ہوگا۔‘
صدر اس وقت ڈیٹرائٹ - مشی گن میں ہیں جہاں وہ ملک کی معیشت پر ایک تقریر کرنے والے ہیں۔
’حکومت کی تبدیلی یقینی بنائیں‘ امریکی حکومتی کمیٹی کا ایرانیوں کو پیغام
امریکی ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ایرانی عوام سے خطاب کیا ہے۔
ایکس پر پوسٹ میں کہا گیا ہے ’ایران کے سپریم لیڈر نے آپ کے لوگوں کا قتل عام کیا، ایرانی کرنسی کو دنیا کی سب سے کمزور کرنسی بنایا اور آپ کے ملک کے وسائل ضائع کیے۔‘
بیان کا اختتام یوں ہوتا ہے:’حکومت کی تبدیلی کو یقینی بنائیں۔‘
’ہم ایرانی عوام کے قاتلوں کے ناموں کا اعلان کرتے ہیں: پہلا نام ہے ٹرمپ اور دوسرا نیتن یاہو‘ علی لاریجانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیسا کہ ہم رپورٹ کر رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے ایرانیوں کو احتجاج جاری رکھنے کا کہا ہے اور کہا ہے کہ ’مدد آ رہی ہے‘۔
ایران کی سیکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں سخت کارروائی کی ہے اور امریکہ میں مقیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ مظاہروں کے آغاز 28 دسمبر سے اب تک کم از کم 1,847 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کے جواب میں ایکس پر قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری اور ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی لاریجانی نے لکھا: ’ہم ایرانی عوام کے قاتلوں کے ناموں کا اعلان کرتے ہیں: پہلا نام ہے ٹرمپ اور دوسرا نیتن یاہو۔‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب لاریجانی نے ٹرمپ کے جواب میں سوشل میڈیا پر ردعمل دیا ہو۔
احتجاج کے آغاز میں 2 جنوری کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’اگر ایران نے پرامن مظاہرین کو مارا یا تشدد کیا، جیسا کہ ان کی عادت ہے، تو امریکہ ان کی مدد کے لیے آئے گا۔‘
لاریجانی نے جواب دیا: ’ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس اندرونی معاملے میں امریکہ کی مداخلت کا مطلب پورے خطے کو غیر مستحکم کرنا اور امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہوگا۔‘
ایرانی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے سٹار لنک ڈیوائسز کی ’غیر قانونی‘ کھیپ ضبط کر لی, غنچہ حبیب زادہ، بی بی سی فارسی

،تصویر کا ذریعہtelegram/IRIB NEWS
ایرانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے سرحدی علاقوں میں سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ آلات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد ملک کے اندر ’جاسوسی اور تخریب کاری‘ کی کارروائیاں تھا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق کچھ ایرانی ایلون مسک کی سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس استعمال کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ حکام نے سگنل میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ہے، جسے وہ ’جیمنگ‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
ایران میں ان آلات کا استعمال غیر قانونی ہے۔
13 جنوری کو سرکاری میڈیا سے وابستہ ایک ٹیلی گرام چینل کے مطابق، یہ کھیپ ’غیر قانونی طور پر پڑوسی ملک سے‘ ایران میں داخل ہوئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ضبط کیے گئے سامان میں 100 لانگ رینج ریسیورز، 50 بی ٹی ایس سگنل بوسٹرز، مختلف برانڈز کے 743 5 جی موڈیم اور 799 نئی جینریشن کے موبائل فون شامل تھے۔
ساتھ ہی ایک ویڈیو میں الیکٹرانک آلات کے ڈبے دکھائے گئے جن میں سے کچھ پر سٹار لنک کا لوگو موجود تھا۔
اطلاعات کے مطابق ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایران میں سٹار لنک کے آلات ضبط کیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے۔
چین، ترکی، پاکستان اور افغانستان سمیت ایران سے اور کون سے ممالک تجارت کر رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے سو سے زائد ممالک میں چین اس کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے۔
اکتوبر 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے ایران سے 14 ارب ڈالر سے زیادہ کی خریداری کی۔ یہ اعداد و شمار ٹریڈ ڈیٹا مانیٹر نے ایران کسٹمز ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جاری کیے ہیں۔
چین کے بعد عراق ہے، جس نے اپنے پڑوسی ملک سے 10.5 ارب ڈالر مالیت کا سامان درآمد کیا۔ ایران کے بڑے خرایداروں میں متحدہ عرب امارات اور ترکی بھی شامل ہیں۔
درحقیقت ایران سے ترکی کو برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2024 میں 4.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر گذشتہ سال 7.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
پاکستان اس وقت ایران سے 2.4 بلین ڈالر کی تجارت کر رہا ہے۔ جبکہ افغانستان پاکستان سے بھی زیادہ یعنی 2.5 بلین ڈالر کا ایران کا تجارتی پارٹنر ہے۔
انڈیا کی ایران سے 1.7 بلین ڈالر کی تجارت ہے۔

ایران پر امریکی حملے کی دھمکیاں ’قطعی طور پر ناقابلِ قبول‘ ہیں: روسی وزارتِ خارجہ

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ایران پر ’نئے فوجی حملوں کی دھمکیاں‘ دینا ناقابلِ قبول ہے۔ وزارت نے صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات کی دھمکی کو بھی ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا۔
ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے کی دھمکیاں ’قطعی طور پر ناقابلِ قبول‘ ہیں۔ انھوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ ایران میں بدامنی کو ’بہانہ‘ بنا کر دوبارہ حملے نہ کرے، جیسا کہ گذشتہ سال جون میں امریکی فضائیہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
ماریا زاخارووا نے کہا کہ اس طرح کا اقدام مشرقِ وسطیٰ میں ’تباہ کن نتائج‘ کا باعث بنے گا اور ’عالمی سلامتی‘ کے لیے بھی خطرہ ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد کہ ایران کے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ امریکی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ ’ہم ایران کے غیر ملکی شراکت داروں کو تجارتی محصولات بڑھا کر بلیک میل کرنے کی کوششوں کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہیں۔‘
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’مصنوعی طور پر بھڑکائے گئے احتجاج‘ اب ماند پڑ رہے ہیں، جس سے امید ہے کہ حالات ’بتدریج مستحکم‘ ہو جائیں گے۔
ایران میں تقریباً 1850 مظاہرین ہلاک، انسانی حقوق گروپ کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ’ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (ھرانا) کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران ایران میں 1847 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق ہلاک شدگان میں نو افراد کی عمر 18 برس سے کم ہے، 135 سرکاری اہلکار ہیں جبکہ نو عام شہری ہیں۔
اس ادارے کے مطابق اس طرح مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 2000 تک پہنچ گئی ہے۔
بی بی سی ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ زیادہ تر بین الاقوامی خبر رساں اداروں، بشمول بی بی سی، کو ایران کے اندر رپورٹنگ سے روک دیا گیا ہے، اس لیے زمینی صورتحال جاننے کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کیا جا رہا ہے۔
کیا ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق حتمی فیصلہ کر لیا ہے؟, پال ایڈمز، بی بی سی کے نمائندہ برائے بین الاقوامی امور کا تجزیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منگل کو سوشل میڈیا پر جلی حروف میں لکھے گئے بیان نے صورتحال کو ڈرامائی طور پر سنگین بنا دیا ہے۔
انھوں نے ایرانی مظاہرین کو اکسانے کے ساتھ ساتھ انھیں اداروں پر قبضہ کرنے اور اپنے ’قاتلوں اور مظالم کرنے والوں‘ کے نام یاد رکھنے کی تلقین کی۔ یہ الفاظ ایسے صدر کے لگتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکومت جلد گر سکتی ہے۔
ان کے بیان میں پہلی بار واضح اشارہ ملا ہے کہ ٹرمپ کسی براہِ راست مداخلت کے لیے تیار ہیں۔ ’مدد پہنچنے والی ہے۔‘
وائٹ ہاؤس میں آج اعلیٰ حکام ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کرنے والے ہیں۔
اختتام ہفتہ پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ سفارتی راستے اختیار کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، جسے انھوں نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش قرار دیا تھا۔ لیکن فی الحال سفارت کاری کو ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔
انھوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں جب تک کہ مظاہرین کا ناقابل سمجھ قتل عام بند نہ ہو۔‘
آن لائن، جلی حروف میں دھمکی آمیز بیانات دینا صدر ٹرمپ کے اندازِ قیادت کی ایک پہچان ہے، اور وہ ہمیشہ ان پر عمل نہیں کرتے۔
لیکن ایرانی مظاہرین کو بچانے کا وعدہ کرنے کے بعد اور جب سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے۔ اب ان کے پیچھے ہٹنے کا امکان مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ایران میں موجود پاکستانی شہری ضروری سفری کاغذات ہر وقت اپنے پاس رکھیں: پاکستانی سفارتخانے کی ہدایت

،تصویر کا ذریعہEyewitness image
پاکستانی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران میں اپنے سفری دستاویزات، خصوصاً امیگریشن سے متعلق کاغذات جیسے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ، ہر وقت اپنے پاس رکھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جن افراد کے دستاویزات کی مدت ختم ہو چکی ہے یا ان کے پاس موجود نہیں ہیں، وہ فوری طور پر سفارتخانے سے رجوع کریں تاکہ بروقت اور مؤثر مدد فراہم کی جا سکے۔
امریکی مدد کس شکل میں اور کب آئے گی، ابھی واضح نہیں, وائٹ ہاؤس میں بی بی سی کے نامہ نگار برنڈ ڈبسمین جونیئر کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میں اس وقت وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں موجود ہوں، جہاں سے صدر ٹرمپ آج دوپہر بعد ڈیٹرائٹ میں اپنی اقتصادی تقریر کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔
یہاں کئی درجن صحافی موجود ہیں، جن میں سے اکثر یہ جاننے کے منتظر ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کے لیے ’مدد پہنچنے والی ہے‘ کا کیا مطلب بنتا ہے۔
تاہم اس بارے میں زیادہ وضاحت ملنے کا امکان کم ہے۔ ٹرمپ اپنے فیصلوں کے بارے میں سوچ کو عام طور پر خفیہ رکھتے ہیں۔
کئی تجزیہ کاروں نے حالیہ مہینوں میں اسے ’سٹریٹیجک ابہام‘ قرار دیا ہے، تاکہ لوگ بشمول بیرونی مخالفین ان کے اصل ارادوں کے بارے میں اندازے لگاتے رہیں۔
ایسا ہی کچھ ہم نے گذشتہ موسمِ گرما میں دیکھا جب انھوں نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے سے پہلے دنیا کو انتظار میں رکھا، اور سال کے آغاز میں وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے معاملے پر بھی کیا۔
امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو آج ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جانی تھی، جن میں ’کائنیٹک‘ یعنی فوجی کارروائیاں اور نسبتاً کم پرتشدد اقدامات شامل ہیں، تاکہ مظاہرین پر فائرنگ کے بعد ایران کو سزا دی جا سکے اور تہران حکومت کو واضح پیغام دیا جا سکے۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ صدر ٹرمپ کس قسم کی ’مدد‘ پر غور کر رہے ہیں اور وہ کب سامنے آئے گی۔
ٹرمپ کا ایران میں مظاہرین کو پیغام: ’احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچنے والی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی شہریوں سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لیے امریکی مدد پہنچنے والی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’ایرانی محبِ وطن، احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو!!! قاتلوں اور مظالم کرنے والوں کے نام یاد رکھ لو۔ وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا ’میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں جب تک کہ مظاہرین کے ناسمجھ آنے والا قتل عام بند نہ ہو۔ مدد پہنچنے والی ہے۔‘
برطانیہ میں ایرانی سفیر کی طلبی، ’یہ ایرانی حکومت کی سفاکیت اور خونریزی ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
برطانیہ کی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہرین کے قتل کی برطانیہ ’سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر تشدد کی مذمت کی ہے، اور انھوں نے ایران کے وزیر خارجہ سے فون پر گفتگو کے دوران اسی مؤقف کو دہرایا۔
یویٹ کوپر نے مزید کہا کہ آج برطانوی حکومت نے ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے ’تاکہ اس لمحے کی سنگینی کو اجاگر کیا جا سکے اور ایران سے ان ہولناک رپورٹس پر جواب طلب کیا جا سکے جو ہمیں موصول ہو رہی ہیں۔‘
انھوں نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر کریک ڈاؤن کو گذشتہ کم از کم 13 برسوں میں عوامی احتجاج کے خلاف سب سے زیادہ سفاک اور خونریز کارروائی قرار دیا۔
ایرانی یونیورسٹیوں میں امتحانات ایک ماہ تک کے لیے ملتوی، غیرملکی طلبا کو ملک چھوڑنے کی اجازت

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کی جامعات نے اپنے امتحانات ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیے ہیں اور انٹرنیشنل طلبہ کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔
تہران میں پاکستان کے سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستانی طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنا پروگرام اسی تناظر میں مرتب کر لیں۔‘
ایرانی حکومت اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی ہے: ایم آئی سِکس کے سابق سربراہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس ایم آئی سِکس کے سابق سربراہ سر ایلکس ینگر نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام کو بتایا کہ ’سادہ لفظوں میں، اس (ایرانی) حکومت کے اپنے لوگوں کے ساتھ ظلم کی کوئی حد نہیں رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس حکومت کے ہاتھوں میں ہتھیار ہیں اور اب بھی اسے کافی حمایت حاصل ہے۔ صدارتی انتخابات میں 13 ملین لوگوں نے سخت گیر لوگوں کو ووٹ دیا، اس لیے بدقسمتی سے، میرا اندازہ ہے کہ وہ مظاہروں کے اس پورے دور کو ظلم سے دبا دیں گے۔‘
ایلکس ینگر نے کہا کہ ’خمینی کی سربراہی میں، موجودہ صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ وہ کسی بھی سمجھوتے کے سخت مخالف ہیں۔ اس لیے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔‘
ایلکس ینگر کے مطابق ’ایران اپنے راستے کے اختتام کو پہنچ گیا ہے، لیکن اس کا مظاہرین کے طرز عمل سے کوئی تعلق نہیں، اس کا تعلق حکومت کے اندر کیا ہو رہا ہے، چاہے ہم ایک سخت گیر حکومت کے ساتھ ہوں یا اصلاح پسند حکومت کے ساتھ، کیونکہ دونوں ہی آپشنز ممکن ہیں۔‘
ایران کی یورپی یونین کو جوابی کارروائی کی دھمکی: عباس عراقچی کا اسرائیل کا حوالہ دے کر جرمن چانسلر کو ’کچھ شرم‘ کرنے کا طعنہ

،تصویر کا ذریعہReuters/EPA
یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کے اس کی عمارت میں داخلے پر پابندی کے اقدام کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ انھوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ ایران یورپی یونین کے ساتھ دشمنی مول نہیں لینا چاہتا لیکن ’ہم کسی بھی پابندی کے خلاف جوابی کارروائی کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’غزہ میں نسل کشی کے دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد، جس میں 70,000 فلسطینی مارے گئے، یورپی پارلیمنٹ کو اسرائیل کے خلاف کوئی حقیقی کارروائی کرنے پر مجبور نہیں کر سکی۔‘
گذشتہ روز یورپی پارلیمنٹ نے ایران کے سفارت کاروں اور دیگر نمائندوں کے اس کی عمارتوں میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔
یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے اس فیصلے کی وجہ ایران میں پرتشدد مظاہروں کو دبانے کو قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ ’ایسی حکومت کو قانونی حیثیت دینے میں مدد نہیں کرے گی جس نے تشدد، جبر اور قتل پر اپنی بقا قائم کی ہو۔‘
یورپی پارلیمنٹ یورپی یونین کا قانون ساز ادارہ ہے اور اس کا صدر دفتر سٹراسبرگ، فرانس میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے جرمنی کے بیان پر بھی اپنا ردعمل دیا ہے۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے منگل کی صبح کہا ہے کہ ’ہم اب ایرانی حکومت کے آخری دنوں اور ہفتوں کو دیکھ رہے ہیں‘۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’تمام حکومتوں میں سے جرمنی کی حکومت شاید سب سے کم موزوں ہے کہ وہ ’انسانی حقوق‘ پر بات کرے۔ وجہ بالکل واضح ہے کہ گذشتہ برسوں میں اس کے کھلے دوہرے معیار نے کسی بھی قسم کی ساکھ کو ختم کر دیا ہے۔‘
انھوں نے جرمنی کے چانسلر کے بیان کے جوبا میں مزید کہا کہ ’ہم سب پر احسان کریں، کچھ شرم کریں۔‘
