وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سندھ میں پنجاب جیسی رکاوٹوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑا؟

سہیل آفریدی

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو

جب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی تین روزہ دورے پر سندھ پہنچے تو یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پنجاب کی طرح انھیں وہاں بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن کراچی ایئر پورٹ پر سندھ حکومت کی طرف سے ان کا استقبال کیا گیا اور انھیں سندھ کی روایتی اجرک اور ٹوپی پہنائی گئی۔

قریب دو سال سے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت میں تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے ملک گیر مہم چلائی جا رہی ہے۔

اسی سلسلے میں سہیل آفریدی کراچی پہنچے ہیں جہاں تحریک انصاف کے کارکنان نے ایک ریلی کی صورت میں ان کا استقبال کیا۔ سہیل آفریدی نے جمعے کی شب کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت بھی کی جس دوران ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے انھیں عزت دی اور یقین دہانی کرائی کہ اتوار کو جلسے کی اجازت دی جائے گی۔

مگر دو ہفتے قبل جب سہیل آفریدی اسی طرح لاہور پہنچے تھے تو انھیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور تحریک انصاف نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو اس کا قصوروار ٹھہرایا تھا۔

اگرچہ وفاق میں سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی وزیر اعظم شہباز شریف کے اتحاد کا حصہ سمجھی جاتی ہے مگر اس کی طرف سے تحریک انصاف کی قیادت کو جلسے کی اجازت دینا مبصرین کی رائے میں اہم پیشرفت ہے۔

سہیل آفریدی

،تصویر کا ذریعہEPA

سہیل آفریدی کا لاہور میں ایسا استقبال کیوں نہیں ہوا؟

دسمبر 2025 کے اواخر میں سہیل آفریدی ’عمران خان کی ہدایت پر‘ لاہور کا دورہ کر رہے تھے جس کے بارے میں انھوں نے بعد ازاں ایک احتجاجی مراسلہ بھی پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو لکھا تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی آمد کے موقع پر ’پنجاب حکومت کی نگرانی میں‘ نہ صرف پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریاں کی گئیں بلکہ لاہور کے شہریوں کو ’مارکیٹیں اور عوامی مقامات کی بندش کر کے تکلیف دی گئی۔ موٹروے ریسٹ ایریا تک بند رکھا گیا۔‘

جب ہم نے اس بارے میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے پوچھا تو ان کا دعویٰ تھا کہ پنجاب میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ٹول پلازہ اور سروس سٹیشنز پر بدتمیزی کی تھی۔ ’یہ پنجاب اسمبلی میں اپنے گارڈز کے ساتھ گھسے اور لوگوں کو مارا پیٹا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ سب حرکتیں انھوں نے کراچی میں نہیں کیں تو اسی لیے وہاں انھیں بہتر صورتحال ملی۔ احترام ہمیشہ کمایا جاتا ہے، آپ کو اچھا رویہ دکھانا پڑتا ہے۔‘

عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ’جو حرکتیں انھوں نے پنجاب میں کیں، وہ اس سے سیکھ چکے ہیں۔ اگر پنجاب میں بھی وہ بدتمیزی نہ کرتے تو یہاں بھی ان کے لیے مسائل نہ ہوتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے پنجاب میں اپنے لیے مسائل ’خود پیدا کیے تھے۔‘

پنجاب حکومت کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے یہ بے بنیاد الزام لگایا گیا کہ سہیل آفریدی کی آمد کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں ٹک ٹاکرز کو پیسے دے کر بُلایا گیا تھا تاکہ ان کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ تلخ کلامی ہو۔

عظمی بخاری نے کہا کہ وہ ان الزامات پر پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

’ان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کون سے لوگوں کو پیسے دے کر میں نے بھیجا تھا یا جو صحافی نہیں تھے۔‘

سہیل آفریدی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کراچی میں سہیل آفریدی کو جلسہ کرنے کی اجازت، پیپلز پارٹی کا کیا مفاد ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے جو طریقہ کار اختیار کیا، تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کے خیال میں یہ ’بالکل بھی مناسب نہیں تھا۔‘

ان کی رائے میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے، چاہے وہ آپ کے مخالفین ہی کیوں نہ ہوں۔

’ہر سیاسی جماعت کو پُرامن طریقے سے آگے بڑھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ اگر انھیں تحریک انصاف کے رہنماؤں سے کوئی خطرہ بھی تھا تو اس کے لیے ایک طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا تھا جو کہ ’بدقسمتی سے پنجاب حکومت نے نہیں کیا۔‘

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ رکاوٹیں پیدا کرنے اور جلسے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے پنجاب میں تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کو مزید توجہ ملی۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت کو بھی انھیں خوش آمدید کہہ کر جلسے کی اجازت دینی چاہیے تھی۔ ’اس سے مسلم لیگ ن کو سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا تھا۔‘

سہیل آفریدی نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے ملاقات کی۔ اس دوران وہاں تجزیہ کار مظہر عباس بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا خود بھی کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے مثبت رویے نے ’بھٹو اور بینظیر کی یاد تازہ کر دی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے نمائندوں کی طرف سے سہیل آفریدی کا ایئرپورٹ پر استقبال مثبت پیشرفت ہے اور دونوں ہی طرف سے پُرامن طریقے سے سیاسی سرگرمیوں کو آگے بڑھنے دیا جا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ خود سہیل آفریدی نے بھی وزیر اعلیٰ سندھ کو اپنے صوبے کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ اگرچہ کراچی میں صحافیوں کی طرف سے سہیل آفریدی سے سخت سوالات بھی کیے گئے مگر اس کے باوجود انھوں نے سندھ حکومت پر کوئی تنقید نہیں کی۔

دوسری طرف عاصمہ شیرازی کے خیال میں سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے سہیل آفریدی کا استقبال کر کے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیا۔

’پروٹوکول تو یہی ہے کہ صدر یا وزیر اعظم کی طرح جب بھی کوئی وزیر اعلیٰ کسی دوسرے صوبے جاتا ہے تو انھیں ویلکم کیا جاتا ہے۔‘

تاہم عاصمہ شیرازی کو یہ نہیں لگتا کہ پیپلز پارٹی کے اس رویے کی وجہ کوئی ’سیاسی ارینجمنٹ‘ ہے اور اس سے ’پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان سرد مہری ختم ہو گی۔‘

’میرا نہیں خیال اس سے کوئی سیاسی اتحاد پیدا ہوگا یا وہ ان (تحریک انصاف) کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے لیکن ایک اچھا پیغام گیا کہ سیاسی رواداری کی ضرورت ہے۔‘

ان کے مطابق پی ٹی آئی کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’آپ ہر وقت بندوقیں تان کر سیاست نہیں کر سکتے۔‘

جبکہ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو سندھ کے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں کچھ حمایت حاصل ہے اور وہاں پیپلز پارٹی عمران خان کی جماعت کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتی۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو خود پنجاب میں اپنی بحالی کے لیے مشکلات درپیش ہیں مگر یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ دونوں جماعتوں کے بیچ کوئی اتحاد پیدا ہو سکے۔

مظہر عباس کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان ایک ایسا ماحول ضرور بنایا گیا کہ مستقبل میں پنجاب کی حد تک ان کے بیچ ’ورکنگ ریلیشن‘ بن سکے۔