’روسی افواج کی مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ روس کی شام میں فوجی مداخلت دراصل ’قاتل‘ صدر بشار الاسد کی حمایت کرنا ہے۔
ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ روسی افواج خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم اور صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں میں فرق نہیں کر رہی ہیں۔
اس سے قبل وزیر دفاع مائیکل فیلون کا کہنا تھا کہ روس کی ’بے قابو‘ بمباری کے نتیجے میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے دولت اسلامیہ کے مراکز اور اسلحے کے ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما کے مطابق بدھ سے شروع ہونے والی روسی فضائی کارروائی سے ’صرف اور صرف شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی پوزیشن مستحکم‘ ہو رہی ہے۔
اوکسفرڈ شائر میں خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ’روس کی فوجی مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بالکل واضح ہے کہ روس دولت اسلامیہ اور شام مخالف قانونی تنظیموں میں فرق نہیں کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں دراصل وہ قاتل بشار الاسد کی حمایت اور مدد کر رہا ہے۔‘
ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’روس نے جو کیا ہے اس پر عرب دنیا میں جو تنقید کی جا رہی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے اور میرے خیال میں اس پر عرب دنیا صحیح ہے۔‘
’تاہم ہم سب کو اس صورتحال میں شام میں سیاسی تبدیلی کے لیے جامع منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس خطے میں امن لانے کا ایک یہی طریقہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب برطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلون کا کہنا ہے کہ ’روسی صدر ولادی میر پوتن کے اس تنازع میں شامل ہونے کے فیصلے سے صورتحال گھمبیر ہو گئی ہے لیکن یہ برطانیہ کا عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی دولت اسلامیہ کو نشانہ نہ بنانا اخلاقی طور پر غلط ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم صرف فرانسیسی، آسٹریلوں اور امریکی طیاروں پر نہیں چھوڑ سکتے کہ وہ ہماری اپنی برطانوی گلیوں کو محفوظ رکھیں۔‘







