’روسی جنگی طیارہ ایک بار پھر ترک فضائی حدود میں گھس آیا‘
ترک حکام کا کہنا ہے کہ روس کے ایک جنگی طیارے نے اتوار کو بھی ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکہ اور نیٹو نے روس کو ایسے اقدامات سے باز رہنے کو کہا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اس کا نتیجہ روسی طیاروں کی تباہی کی صورت میں بھی برآمد ہو سکتا ہے۔
روس شام میں صدر بشار الاسد کے مخالفین پر فضائی حملے کر رہا ہے اور یہ دو دن میں کسی روسی طیارے کی جانب سے ترک فضائی حدود میں داخل ہونے کا دوسرا واقعہ ہے۔
<link type="page"><caption> شام میں اپنی فضائی کارروائیاں تیز کریں گے: روس</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151003_russia_syria_intensify_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’روسی افواج کی مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151003_cameron_russia_strikes_syria_zh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> روسی بمباری سے دولتِ اسلامیہ مضبوط ہو رہی ہے، اوباما</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151002_obama_russia_isis_syriya_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
ترکی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اتوار کو ایک مرتبہ پھر روسی سفیر کو طلب کر کے ان سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کو روسی جنگی طیارے کی جانب سے شام کی سرحد کے قریب ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد ترک ایف 16 طیارے حرکت میں آ گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti
وزارت خارجہ کے مطابق ترک طیاروں کے حرکت میں آنے پر روسی جنگی طیارہ ’ترک فضا سے نکل کر شام کی جانب چلا گیا تھا۔‘
روس نے کہا تھا سنیچر کا واقعہ نیوی گیشن کی غلطی کے باعث پیش آیا تاہم اتوار کو کی گئی خلاف ورزی کے بارے میں تاحال روس کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ انھیں روس کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر ’شدید تشویش‘ ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدامات کا نتیجہ روسی جنگی جہاز کے مار گرائے جانے کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔
نیٹو کے رکن ممالک نے بھی ایک بیان میں ’اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے لاحق ہونے والے شدید خطرات‘ کے بارے میں تنبیہ کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
روسی فضائیہ نے شام میں کارروائی کا آغاز گذشتہ بدھ کو کیا تھا اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
تاہم شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی طیارے شام میں صدر بشارالاسد کے مخالفین پر بھی حملے کر رہے ہیں۔
پیر کو روس کا کہنا تھا کہ وہ شام میں ’دولت اسلامیہ‘ کو نشانہ بناتا رہے گا، اور اس نے 25 کارروائیوں میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر نو بار بمباری کی ہے۔







