’لاپتہ روسی پائلٹ کو شامی فوج نے بچا لیا تھا‘
فرانس میں روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے گرائے جانے والے روسی طیارے کے لاپتہ پائلٹ کو شام کی فوج نے بچا لیا تھا۔
فرانس میں روس کے سفیر الیگزینڈر اورلو نے یورپ ون ریڈیو کو بتایا کہ مذکورہ پائلٹ کو ایک روسی فوجی اڈے پر لے جایا گیا ہے۔
تاہم ان کے اس دعوے کی ماسکو میں روسی حکام کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
روسی وزارتِ دفاع کہہ چکی ہے کہ اس طیارے کا ایک پائلٹ زمین پر موجود شامی باغیوں کی فائرنگ سے مارا گیا جبکہ روسی جنگی طیارے کے عملے کو بچانے کی مہم کے دوران ایک روسی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔
روسی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طیارہ گرائے جانے کے بعد شمالی شام میں اس ہیلی کاپٹر پر شامی باغیوں نے فائرنگ کی تھی جسے جائے حادثہ پر بھیجا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کے ایف 16 طیاروں نے منگل کو شام اور ترکی کی سرحد کے قریب ایک روسی سخوئی 24 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا تھا۔
شمالی بحرِ اوقیانوس کے ممالک کے اتحاد ’نیٹو‘ کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ترکی کے ساتھ ہیں جبکہ روس نے ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی دی ہے۔
تباہ ہونے والے روسی طیارے کا ملبہ شام کے سرحدی صوبے لاذقیہ کی حدود میں گرا تھا اور ٹی وی فوٹیج میں دو پائلٹوں کو پیراشوٹ کی مدد سے اترتے دیکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی وزارتِ دفاع کے افسر لیفٹیننٹ جنرل سرگے ردسکوئی نے کہا ہے کہ عملے کو بچانے کے لیے دو ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر بھیجے گئے جن میں سے ایک پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ ہوئی۔
ان کے مطابق فائرنگ سے ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچا اور اسے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ جنرل ردسکوئی کے مطابق ’اس واقعے میں روسی بحریہ کا ایک میرین بھی مارا گیا۔‘
روسی جنرل نے بتایا کہ ہنگامی لینڈنگ کے بعد ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا گیا جبکہ دوسرا ہیلی کاپٹر امدادی ٹیم کے ارکان کو لے کر لاذقیہ میں روسی اڈے پر بحفاظت پہنچ گیا۔
ترکی کی جانب سے روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد عالمی سطح پر دونوں ممالک سے پرسکون رہنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
ترک اور روسی موقف
ترکی کا موقف ہے کہ نشانہ بننے والا طیارہ نہ صرف اس کی فضائی حدود میں موجود تھا بلکہ بار بار تنبیہ کے باوجود وہ واپس نہیں گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اقوام متحدہ میں ترکی کے سفیر نے سکیورٹی کونسل کو خط میں کہا ہے کہ دو نامعلوم جنگی جہاز ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوئے جنھیں پانچ منٹ کے وقت میں دس بار متنبہ کیا گیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں جہازوں نے وارننگ کو نظر انداز کیا اور پھر ایک جہاز ترکی کی فضائی حدود کے 2.19 کلومیٹر اندر اور دوسرا 1.85 کلومیٹر اندر تک پہنچ گیا۔
ترکی کا مزید کہنا ہے کہ اس فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد ایک جہاز واپس شام میں داخل ہو گیا جبکہ دوسرے جہاز کو ترکی کے ایف سولہ طیارے نے ترک فضائی حدود کے اندر مار گرایا۔
تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ روسی جنگی جہاز شام کی فضائی حدود میں ترک سرحد سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جب اسے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا اور یہ جہاز سرحد سے چار کلومیٹر دور شامی علاقے میں گرا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
روسی صدر ویلادیمیر پیوتن نے کہا ہے کہ ’یہ بات واضح ہے کہ روسی ہوا باز ترکی کے لیے خطرہ نہیں تھے۔ وہ دولت اسلامیہ کے خلاف شمالی لاذقیہ کے پہاڑوں میں آپریشن میں حصہ لے رہے تھے جہاں شدت پسندوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ وہ شدت پسند ہیں جو زیادہ تر روس سے آئے ہوئے ہیں۔‘
ماسکو میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ’ہم اس قسم کی بدتہذیبی کو برداشت نہیں کریں گے۔‘
منگل کو سرکاری ٹی وی پر خطاب میں صدر پوتن نے کہا کہ ہم اس المناک واقعے کا تفصیلی تجزیہ کریں گے اور روس اور ترکی کے تعلقات سمیت اس کے معنی خیزنتائج برآمد ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حامیوں کی جانب سے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’نیٹو ترکی کے ساتھ ہے‘
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ہانس سٹالٹنبرگ نے کہا ہے کہ تنظیم اس معاملے پر ترکی کے ساتھ ہے۔
طیارے کی تباہی کے بعد تنظیم کے ہنگامی اجلاس کے بعد منگل کی شام انھوں نے کہا تنظیم ترکی کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اپنے نیٹو اتحادی کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کرتی ہے۔
ادھر روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس واقعے کے بعد ایئر ڈیفینس نظام سے لیس ایک بحری جہاز بحیرۂ روم میں بھیجا جا رہا ہے جو شام میں کارروائیوں میں مصروف روسی افواج کے لیے ممکنہ خطرہ بننے والے کسی بھی ہدف کو تباہ کر دے گا۔
روسی فوج کے مطابق اب شام میں بمباری کے لیے جانے والے طیاروں کو بھی جنگی طیاروں کی حفاظت میں مشن پر بھیجا جائے گا۔








