’معافی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مانگنی چاہیے‘

میرے خیال میں اگر کسی فریق کو معافی مانگنی چاہیے تو وہ ہم نہیں: رجب اردوغان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمیرے خیال میں اگر کسی فریق کو معافی مانگنی چاہیے تو وہ ہم نہیں: رجب اردوغان

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے جنگی طیارے کو تباہ کرنے پر معافی نہیں مانگے گا جبکہ روس نے ترکی پر بھاری اقتصادی پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا ہے۔

ترکی کے ایف 16 طیاروں نے منگل کو شام اور ترکی کی سرحد کے قریب ایک روسی سخوئی 24 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا تھا اور اس کا ملبہ شام کے سرحدی صوبے لاذقیہ کی حدود میں گرا تھا۔ ’ترک ٹماٹر ہمارے خلاف میزائل کا حصہ‘

ترک صدر کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روسی طیارے کو نشانہ بنانے پر معافی نہ مانگ کر ترکی دونوں ممالک کے تعلقات کو بند گلی میں لے جا رہا ہے۔

جمعرات کو انقرہ میں امریکی ٹی وی سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے رجب اردوغان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں اگر کسی فریق کو معافی مانگنی چاہیے تو وہ ہم نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP

انھوں نے کہا کہ ’وہ جنھوں نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی معافی تو انھیں مانگنی چاہیے۔ ہمارے پائلٹوں اور افواج نے تو اپنی ذمہ داری نبھائی جن میں جنگ کے قواعدوضوابط کی خلاف ورزی پر ردعمل بھی شامل ہے۔‘

خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ہی کہا تھا کہ ’ہمیں ابھی تک ترکی کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی جانب سے نہ تو واضح طور پر معذرت موصول ہوئی ہے اور نہ ہی نقصان کی تلافی کی بات کی گئی ہے۔ اس جرم کے مرتکب افراد کو سزا دینے کا وعدہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کا تاثر دینے سے ترکی جان بوجھ کر روس اور ترکی کے تعلقات کے بند گلی میں لے جا رہا ہے جس کا ہمیں افسوس ہے۔‘

طیارے کی تباہی کے واقعے کے بعد سے ترکی اور روس کے باہمی تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے اور روس نے ترکی کو بھاری اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

روس کے وزیراعظم دمیتری میدویدو نے جمعرات کو ماسکو میں کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اقتصادی پابندیوں کا مسودہ آئندہ چند دونوں میں مکمل ہو گا اور اس سے دونوں ملکوں کے دمیان مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے اس اشتعال انگیز اقدام کا اقتصادی ردعمل تیار کرنے کا حکم دیا ہے اور زیادہ تر توجہ ترکی کے روس میں اقتصادی مفادات پر ’پابندیاں عائد‘ کرنے پر ہوں گی۔

اس سے قبل ترکی کی فوج نے اس تنبیہ کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ جاری کی جو شام کی سرحد پر گرائے گئے روسی جہاز کو دی گئی تھی۔

جمعرات کو جاری کی گئی انگریزی زبان کی اس آڈیو میں ایک شخص کو کہتے سنا جا سکتا ہے ’اپنی سمت فوری طور پر جنوب کی جانب کرو‘۔

ترک فوج کا کہنا ہے کہ روسی طیارے کو پانچ منٹ کے دوران دس مرتبہ فضائی حدود سے باہر جانے کو کہا گیا اور ایسا نہ کرنے پر اسے مار گرایا گیا۔

طیارے کی تباہی کے واقعے کے بعد سے ترکی اور روس کے باہمی تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنطیارے کی تباہی کے واقعے کے بعد سے ترکی اور روس کے باہمی تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے

تاہم تباہ ہونے والے روسی طیارے کے بچ جانے والے پائلٹ نے بدھ کو کہا تھا کہ ان کا جہاز شام کی حدود میں تھا اور ترکی کی جانب سے کوئی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔

کپتان کونسٹنٹین مورخاتین نے شام میں روس کے زیر استعمال فضائی اڈے پر روس کے ایک ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ ان کے جہاز کی ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس علاقے سے بہت اچھے طریقے سے واقف ہیں اور ان کا جہاز ایک سیکنڈ کے لیے بھی ترک فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔

کونسٹنٹین مورخاتین کے بارے میں روسی حکام کا کہنا تھا کہ انھیں خصوصی فورسز نے 12 گھنٹے کی کارروائی کے بعد زندہ بچایا اور وہ اس وقت شام میں روس کے فضائی اڈے پر موجود ہیں۔

اس روسی طیارے کے دوسرے پائلٹ لیفٹیننٹ کرنل اولگ پیشکوو طیارے کی تباہی کے بعد شامی باغیوں کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔