ترکی اور شام کی سرحد کے قریب نئے پناہ گزین کیمپ قائم

گذشتہ ہفتے حلب کے علاقوں پر کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں تقریبا 35 ہزار پناہ گزینوں نے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے حلب کے علاقوں پر کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں تقریبا 35 ہزار پناہ گزینوں نے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کی

ترکی کے امدادی کارکنوں نے شامی علاقے میں ان ہزاروں نئے پناہ گزینوں کے لیے کیمپ قائم کر دیے ہیں جنھیں ترک حکومت نے سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

شام کی حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے حلب پر کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں تقریباً 35 ہزار افراد نے نقل مکانی کی تھی اور ان کا رخ ترکی کی جانب تھا۔

تاہم ترکی نے یورپی سربراہان مملکت کی جانب سے ان پناہ گزینوں کو راستہ دینے کی اپیل کے باوجود اپنی سرحدیں بند کیے رکھیں۔

شام میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں ترکی میں پہلے سے ہی 25 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں۔

بہت سے شامی باشندے پناہ کی تلاش میں سمندر کے راستے ترکی سے یورپی ممالک بھی گئے ہیں اور وہ ان دس لاکھ تارکین وطن اور پناہ گزینوں کا بڑا حصہ ہیں جو گذشتہ سال غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

گذشتہ چند دنوں کے دوران روسی فضائی حملے کے تعاون کے ساتھ شامی فوج نے شام کے سب سے بڑے شہر حلب کے قریب کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

شام کے اندر ہی نئے اور پرانے شامیانوں سے خیمہ تیار کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام کے اندر ہی نئے اور پرانے شامیانوں سے خیمہ تیار کیا جا رہا ہے

شام اور ترکی کے درمیان اونکوپینار نامی سرحد کے پاس ایک امدادی کارکن نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اب ان کا ہدف سرحد کے قریب شام کے اندر موجود کیمپوں تک امداد پہنچانا ہے۔

ترکی کے انسانی ہمدردی پر مبنی ریلیف فاؤنڈیشن کے ایک کارکن نے کہا: ’ہم شام میں اپنی کوششوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو خیمے، خوراک اور ادویات فراہم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’ہم ایک دوسرا کیمپ تیار کر رہے ہیں۔ فی الحال ہماری ساری توجہ اس بات پر ہے کہ ہم سرحد کے قریب شام کے اندر موجود لوگوں کے لیے یہ یقینی بنائیں کہ وہ آرام سے ہیں۔‘

اونکوپینار سرحد کے پار شام کی حدود میں نئے اور پرانے خیموں سے ’باب السلام‘ نام کا ایک نیا کیمپ تیار کیا جا رہا ہے۔

ایک تارک وطن محمد ادریس نے روئٹرز کو بتایا: ’ہم بچوں کے ساتھ کیمپ میں آئے ان میں ایک ایک ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔ ہم ترکی کی طرف دیکھ رہے ہیں جو محفوظ ہے اور وہاں کوئی بمباری نہیں ہے۔

لوگوں کا کہنا ہےکہ اب وہ کہاں جائیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلوگوں کا کہنا ہےکہ اب وہ کہاں جائیں

’شروع میں (ترکی صدر) رجب طیب اردوغان نے شامی باشندوں سے کہا کہ وہ ان کے بھائي ہیں۔ انھیں نہیں چھوڑنا چاہیے اور دروازہ کھول دینا چاہیے، انھیں لوگوں کی مدد کرنا چاہیے۔ اب ان تمام لوگوں کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے کہ کہاں جائیں؟ وہ اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے۔‘

سنیچر کو رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ اگر’ ضروری‘ ہوا تو وہ شام کے باشندوں کے لیے اپنے دروازے کھولنے کے لیے تیار ہیں۔

جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موغرینی نے کہا کہ یہ ترکی کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ تارکین وطن کو تحفظ فراہم کرے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین ترکی کو فنڈ فراہم کر رہا ہے تاکہ ’وہ پناہ گزینوں کی حفاظت اور ان کی میزبانی کو یقینی بنائے۔ ‘

نومبر میں یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ ایک معاہد کیا تھا جس میں ترکی کو شامی باشندوں کی میزبانی کے لیے تین ارب یورو کی پیشکش کی گئی تھی۔