لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں داخل ہونے کے لیے 30 روپے انٹری فیس کیوں عائد کی گئی؟

،تصویر کا ذریعہUoP
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، لاہور
’رکشے والوں کو معلوم ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں داخلے کے لیے 30 روپے ٹول ٹیکس دینا ہو گا۔ اس لیے وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ وہ پیسے آپ (سواری) دیں یا پھر کچھ رکشہ ڈرائیور کرایہ معمول سے بڑھا کر بتاتے ہیں۔‘
عائشہ سلیم لاہور کی پنجاب یونیورسٹی سے بیچلرز آف سائنس میں ڈگری کر رہی ہیں، اگرچہ وہ یونیورسٹی آنے جانے کے لیے زیادہ تر یونیورسٹی بس کا استعمال ہی کرتی ہیں تاہم کبھی کبھی وہ رکشے پر بھی سفر کرتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ویسے تو یہ ٹول ٹیکس طلبا کے لیے نہیں کیونکہ گیٹ پر یونیورسٹی کارڈ دِکھانے پر ہم سے ٹول ٹیکس نہیں لیا جاتا لیکن پھر بھی رکشہ ڈرائیور سے بحث کرنا پڑتی ہے۔‘
عائشہ نے مزید کہا کہ ’مجھے تو اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ ٹیکس کیوں اور کس کے لیے لگایا گیا۔‘
محمد آصف بھی پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں لیکن کیمپس میں آنے جانے کے لیے وہ موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ وہ پہلے ہی یونیورسٹی کے اندر موٹر سائیکل پارک کرنے پر 30 روپے پارکنگ فیس ادا کرتے ہیں۔
حال ہی میں لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کے گیٹ سے کیمپس کے اندر داخل ہونے کے لیے 30 روپے کی انٹری فیس عائد کی گئی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مرکزی دروازوں پر ٹول پلازے لگانے کے حالیہ فیصلے پر تعلیمی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لوگ سوال کر رہے ہیں کہ ایک پبلک سیکٹر یونیورسٹی نے یہ ٹول ٹیکس اپنے طلبا اور اساتذہ کے لیے کیوں لگایا کیونکہ اس اقدام سے روز یونیورسٹی آنے جانے والے سینکڑوں طلبا اور اساتذہ کے مالی بوجھ میں اضافہ ہو گا۔
یاد رہے کہ سینکڑوں ایکڑ پر محیط لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کا شمار پاکستان کے چند بڑے سرکاری تعلیمی اداروں میں کیا جاتا ہے جہاں پاکستان بھر سے اور دیگر ممالک سے بھی طلبا و طالبات اعلی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔
یونیورسٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں 100 سے زائد شعبہ جات ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں طلبا زیر تعلیم ہیں۔ طلبا اکثر کیمپس کے اندر ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے ڈیپارٹمنٹ تک جانے کے لیے بھی گاڑی، رکشہ، موٹر سائیکل یا پھر یونیورسٹی کی فری بس سروس کا استعمال کرتے ہیں۔
تو اس صورتحال میں یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟

،تصویر کا ذریعہPunjab University
’یہ ٹول ٹیکس طلبہ اور اساتذہ کے لیے نہیں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ یہ ٹول ٹیکس طلبا، اساتذہ اور یونیورسٹی ملازمین کے لیے نہیں بلکہ یہ تمام افراد اپنا یونیورسٹی کارڈ دیکھا کر کیمپس میں باآسانی داخل ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا کیونکہ پنجاب یونیورسٹی کا یہ کمیپس لاہور کی اہم شاہرہ کنال روڈ پر واقعہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں گاڑیاں گزرتی ہیں اور اکثر اس سڑک پر ٹریفک سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔
’دوسری جانب ہمارے کمیپس میں داخل ہونے اور نکلنے کے کئی راستے ہیں، جن میں سے کچھ تو ہم نے بند کیے ہوئے ہیں جبکہ کچھ کھلے رہتے ہیں۔ اکثر عام افراد جن کا یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں، وہ بھی اگر شیخ زید ہسپتال جانا چاہتے ہیں تو وہ یونیورسٹی کے کنال روڈ والے دروازے سے داخل ہو کر شارٹ کٹ کے چکر میں یونیورسٹی سے گزرتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’عام ٹریفک نے یونیورسٹی کے اندر سے گزرنا شروع کر دیا تھا جو سکیورٹی کے حوالے سے ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ہم نے یہ اقدام اٹھایا تاکہ ہم ٹریفک کو ریگولیٹ کریں۔‘
’جب انٹری پر ہی 30 روپے مانگے جائیں گے تو یونیورسٹی کو بطور شارٹ کٹ استعمال کرنے والے یہاں داخل نہیں ہوں گے۔
خرم شہزاد نے واضح کیا کہ اس کے علاوہ اس اقدام کا کوئی مقصد نہیں۔
’جہاں تک رہی بات وزٹرز کی تو اگر وہ کسی کام کے لیے کسی استاد سے ملنے آ رہے ہیں تو وہ یہ بتا کر پیسے دیے بغیر کیمپس کے اندر جا سکتے ہیں۔‘













