گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور: پاکستان کی وہ یونیورسٹی جس کے پاس دو نوبیل انعام ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عقیل عباس جعفری
- عہدہ, محقق و مؤرخ، کراچی
یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ملالہ یوسفزئی کو نوبیل انعام نہیں ملا تھا اور پاکستان کے حصے میں تب تک صرف ایک ہی نوبیل انعام آیا تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے آخری پرنسپل اور گورنمنٹ کالج (جی سی) یونیورسٹی لاہور کے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد آفتاب نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کے پاس صرف ایک نوبیل انعام ہے اور جی سی یونیورسٹی کے پاس دو۔‘
دوسرے نوبیل انعام سے ان کی مراد ڈاکٹر ہرگوبند کھرانا کو ملنے والا وہ نوبیل انعام تھا جو انھوں نے 1968 میں طب کے شعبے میں حاصل کیا تھا مگر ہرگوبند کھرانا سے پہلے بھی لاہور شہر سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے حصے میں نوبیل انعام آ چکا تھا۔
رڈیارڈ کپلنگ
ان میں سے پہلے رڈیارڈ کپلنگ تھے جنھوں نے 1907 میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کیا تھا اور دوسرے آرتھرہولی کومپٹن جنھیں 1927 میں طبیعات کا نوبیل انعام دیا گیا۔
رڈیارڈ کپلنگ 1865 میں بمبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم انگلستان سے حاصل کی تاہم 16 برس کی عمر میں وہ ہندوستان آ گئے۔ انھوں نے صحافی کی حیثیت سے اپنے کیریئر کی ابتدا کی اور سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور سے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے ملازمت شروع کی۔
ان کے دور میں اخبار کی اشاعت اور مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا۔ انھوں نے لاہور کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1889 میں وہ انگلستان چلے گئے جہاں انھوں نے متعدد مختصر کہانیاں اور ناول تحریر کیے۔ رڈیارڈ کپلنگ کی تحریروں کے کردار انگریز ہیں لیکن ماحول ہندوستانی اور یہی ان کی تحریروں کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب سمجھا جاتا ہے۔
رڈیارڈ کپلنگ نے 1907 میں صرف 42 برس کی عمر میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کیا۔ وہ اب تک ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت ہیں۔ رڈیارڈ کپلنگ کا انتقال 18 جنوری 1936 کو ہوا۔
آرتھرہولی کومپٹن
لاہور سے ہی تعلق رکھنے والی ایک اور شخصیت آرتھرہولی کومپٹن تھے۔ یہ اوائل عمری میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کی لیبارٹری میں ملازم رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں 1927 میں الیکٹرون اور فوٹون کے باہمی تصادم کے اثرات کی تحقیق پر طبیعات کا نوبیل انعام عطا کیا گیا۔
یہ اثر ان کے نام کی نسبت سے کومپٹن اثر یا کومپٹن ایفکٹ کہلاتا ہے۔ آرتھر ہولی کومپٹن کا انتقال 1962 میں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر ہرگوبند کھرانا
آرتھر ہولی کومپٹن کے بعد لاہور سے تعلق رکھنے والی جس شخصیت نے نوبیل انعام حاصل کیا وہ ڈاکٹر ہرگوبند کھرانا تھے۔
وہ نو جنوری 1922 کو ملتان کے قریب رائے پور کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی اور بعدازاں ایک سرکاری وظیفے پر انگلینڈ چلے گئے جہاں 1948 میں انھوں نے لیورپول یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔
1960 کی دہائی میں انھوں نے ڈی این اے پر تحقیق کی جس پر انھیں 1968 میں طب کے شعبے میں نوبیل انعام عطا کیا گیا۔ ڈاکٹر ہرگوبند کھرانا کا انتقال 2011 میں ہوا۔
9 جنوری 2020 کو ڈاکٹر ہرگوبند کھرانا کی 98 ویں سالگرہ کے موقع پر جی سی یونیورسٹی لاہور نے ان کے نام پر ایک ریسرچ چیئر قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر منعقد ہونے والی ایک تقریب میں ڈاکٹر ہرگوبند کھرانا کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔

،تصویر کا ذریعہApic
ڈاکٹر عبدالسلام
ڈاکٹر ہرگوبند کھرانا کے بعد جی سی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جس سائنسدان کو نوبیل انعام عطا ہوا ان کا نام ڈاکٹر عبدالسلام تھا۔
ڈاکٹر عبدالسلام 29 جنوری 1926 کو موضع سنتوک داس ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے تھے۔ جھنگ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہورسے ایم ایس سی کیا۔ ا
یم ایس سی میں اول آنے پر انھیں اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالر شپ مل گیا چنانچہ 1946 میں وہ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی چلے گئے جہاں انھوں نے نظری طبعیات میں پی ایچ ڈی کیا۔
1951 میں ڈاکٹر عبد السلام وطن واپس آئے اور پہلے گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ 1954 میں وہ دوبارہ انگلستان چلے گئے۔ وہاں بھی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔

،تصویر کا ذریعہKEYSTONE
یہ بھی پڑھیے
1964 میں ڈاکٹر عبد السلام نے اٹلی کے شہر ٹریسٹ میں انٹرنیشنل سینٹر برائے نظری طبیعات کی بنیاد ڈالی۔ 1979 میں انھیں طبیعات کا نوبیل انعام عطا کیا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی تھے۔
حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات عطا کیے تھے۔
انھیں دنیا کی 36 یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں عطا کی تھیں۔ اس کے علاوہ انھیں 22 ممالک نے اعلیٰ اعزازات سے نوازا تھا، جن میں اردن کا نشان استقلال، وینزویلا کا نشان اندرے بیلو، اٹلی کا نشان میرٹ، ہاپکنز پرائز، ایڈمز پرائز، میکسویل میڈل، ایٹم پرائز برائے امن، گتھیری میڈل، آئن اسٹائن میڈل اور لومن سوف میڈل سرفہرست ہیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے نظری طبیعات اور تیسری دنیا کے تعلیمی اور سائنسی مسائل کے بارے میں300 سے زیادہ مقالات تحریر کئے جن میں سے چند کتابی مجموعوں کی صورت میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ نومبر 1996 کو ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کر گئے۔ وہ ربوہ میں آسودہ خاک ہیں۔
سبرا مینن چندر شیکھر
لاہور سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور نوبیل لارئیٹ سبرا مینن چندر شیکھر تھے جو 19 اکتوبر 1910 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔
انھوں نے پریزیڈنسی کالج مدراس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان چلے گئے جہاں انھوں نے 1933میں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔

،تصویر کا ذریعہBettmann
انھوں نے فلکیات کے شعبے میں تحقیق کی اور کسی ستارے کی پیدائش، ارتقا اور موت کے لمحات پر تفصیلی بحث کی۔ ان کی یہ تحقیق 1939 میں ان کی کتاب ’ستارے کی ساخت کا ایک تعارف‘ میں شائع ہوئی۔
اسی وقت ان کا نام نوبیل انعام کے لیے زیر بحث آیا مگر مشہور ماہر فلکیات سرآرتھر ایڈنگٹن نے ان کی تحقیق پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ایڈنگٹن کے ان تحفظات کی وجہ سے چندر شیکھر کو درست وقت پر تو نوبیل انعام نہیں ملا مگر 1983 میں جب ان کی یہ تحقیق درست ثابت ہو گئی تو انھیں طبیعات کے نوبیل انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔
سبرا مینن چندر شیکھر 1930 میں طبیعات کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے سرسی وی رامن کے بھتیجے تھے۔ وہ برصغیر سے تعلق رکھنے والے تیسرے سائنسدان تھے جنھوں نے طبیعات کا نوبیل انعام حاصل کیا۔ سبرا مینن چندر شیکھر کا انتقال 21 اگست 1995 کو امریکہ کے شہر شکاگو میں ہوا۔
یہ تھا لاہور سے تعلق رکھنے والے پانچ نوبیل انعام یافتگان کا احوال، جن میں سے دو کا تعلق گورنمنٹ کالج لاہور سے رہا تھا۔ آج اس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے قیام کی 158 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔












