یورپی یونین: ترکی سرحد پر موجود شامیوں کو پناہ دے

تازہ حملوں کے بعد جان بچا کر نقل مکانی کرنے والے تقریباّ 20 ہزار مہاجرین نے جمعے کی رات ترکی کی سرحد پر گزاری۔
،تصویر کا کیپشنتازہ حملوں کے بعد جان بچا کر نقل مکانی کرنے والے تقریباّ 20 ہزار مہاجرین نے جمعے کی رات ترکی کی سرحد پر گزاری۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے علاقے حلب میں تازہ حملوں کے بعد جان بچا کر نقل مکانی کرنے والے تقریباّ 35 ہزار مہاجرین کو پناہ دیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈیریکا موگرینی نے کہا ہے کہ ظلم و ستم کی وجہ سے گھر بار چھوڑنے والے شامی پناہ گزینوں کی مدد کرنا ترکی کا اخلاقی اور قانونی فرض ہے۔

ایمسٹرڈیم میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر قانونی نہیں تو اخلاقی ذمہ داری ضرور بنتی ہے اور ایک لحاظ سے قانونی ذمہ داری بھی ہے کہ بین الاقوامی تحفظ کے طلبگار پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔‘

شام کے سب سے بڑے شہر حلب کے قریب حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں تیزی آئی ہے اور حکومتی دستے باغیوں کے اس اہم ٹھکانے کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔

شامی پناہ گزین گذشتہ دو دنوں سے ترکی سے متصل شام کی سرحد پر اکٹھے ہو رہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کو اُن کی سرحد ہی میں خوراک اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔ اس لیے انھیں سرحد عبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگرچہ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ شامی مہاجرین کی مدد کرنے کو تیار ہے، لیکن اطلاعات کے مطابق ترکی نے شام کے ساتھ اپنی سرحد بند کی ہوئی ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران روسی فضائیہ کی بمباری کے بعد شام کی سرکاری فوج کو حلب کے علاقے میں باغیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

جمعے کو شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ حکومت کی حامی طاقتوں نے حلب کے شمال میں رتیان کے قصبے سے باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب رتیان حکومت کی حامی فوجوں کے ہاتھ آ گیا ہے۔

ترکی سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون کا کہنا ہے کہ جمعے کو حلب کے علاقے سے نقل مکانی کر کے ترکی چلے جانے کے خواہش مند مہاجرین نے جمعے کی رات سرحد کے قریب عارضی پناہ گاہ میں گزاری ہے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ترکی اتنی بڑی تعداد میں حلب سے آنے والے مہاجرین کو ایک ساتھ ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے گا یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ترکی اتنی بڑی تعداد میں حلب سے آنے والے مہاجرین کو ایک ساتھ ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے گا یا نہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں ترکی سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ شامی مہاجرین کے لیے اپنے سرحدی راستے کھولے، لیکن دوسری جانب ترکی کو کئی یورپی ممالک کی طرف سے اس سفارتی دباؤ کا بھی سامنا ہے کہ وہ اپنے ہاں مزید تارکین وطن یا مہاجرین کو پنا نہیں دے سکتے اور ترکی کو اس سلسلے میں محتاط رہنا چاہیے۔

حلب سے آنے والی مہاجرین کی اس تازہ لہر کے حوالے سے ترکی نے روس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کی فضائی کاروائیوں کی وجہ سے علاقے کے لوگ اتنی تیزی کے ساتھ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ روس کے فضائی حملے شام میں جاری جنگ کے سیاسی حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔