منصوبہ ساز کی کزن حسنہ ’خودکش بمبار‘ نہیں تھیں

استغاثہ نے تصدیق کی ہے کہ لاش 26 سالہ حسنہ آیت بوالحسن کی ہے جو بدھ کے آپریشن کے بعد رات کو ملی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناستغاثہ نے تصدیق کی ہے کہ لاش 26 سالہ حسنہ آیت بوالحسن کی ہے جو بدھ کے آپریشن کے بعد رات کو ملی ہے

فرانسیسی حکام نے وضاحت کی ہے کہ پیرس حملوں کا منصوبہ ساز کی 26 سالہ کزن حسنہ آیت بوالحسن نے اپنے آپ کو خودکش حملے میں نہیں اڑا تھا۔

جمعے کو استغاثہ کا کہنا ہے کہ پیرس کے مضافاتی علاقے ساں ڈنی میں پولیس کی چھاپہ مار کارروائی کے بعد ایک تیسری لاش برآمد کی گئی ہے۔

استغاثہ نے تصدیق کی تھی کہ لاش 26 سالہ حسنہ آیت بوالحسن کی ہے جو بدھ کے آپریشن کے بعد رات کو ملی ہے۔

اس سے پہلے حکام کی جانب سے خیال کیا جا رہا تھا کہ پولیس کی کارروائی کے وقت حسنہ آیت بوالحسن نے اپنے آپ کو خودکش حملے میں اڑا دیا تھا۔

تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ حسنہ کی بجائے خودکش بمبار ایک مرد تھا۔

فرانسیسی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں کا منصوبہ ساز مراکشی نژاد بیلجیئن شدت پسند عبدالحمید اباعود تھا، جسے ساں ڈنی میں پولیس چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔

گذشتہ جمعے کی رات پیرس کے ان علاقوں میں سلسلہ وار حملے ہوئے جہاں زیادہ تر لوگ رات کے وقت جاتے ہیں۔

ان حملوں میں کم سے کم 129 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ درجنوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پیرس پر حملوں کے بعد ملک میں فوری طور ہنگامی حالت کے نفاذ کے تحت مظاہروں پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن درجنوں فرانسیسی فنکار اور ثقافتی شخصیات نے لوگوں کو رات کے نو بج کر 20 منٹ پر ’بہت زیادہ شور مچانے اور روشنی کرنے‘ کو کہا ہے۔ یہ حملے اسی وقت شروع ہوئے تھے۔

حسنہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ عبدالحمید اباعود کی کزن تھیں اور انھوں نے اپنے آپ کو خودکش حملے میں اڑا دیا تھا

،تصویر کا ذریعہno credit

،تصویر کا کیپشنحسنہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ عبدالحمید اباعود کی کزن تھیں اور انھوں نے اپنے آپ کو خودکش حملے میں اڑا دیا تھا

استغاثہ نے سات گھنٹوں پر محیط پولیس کارروائی میں ہلاک ہونے والے تین مشتبہ افراد کی لاشوں میں سے دو کی شناخت کی تصدیق کر لی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حسنہ آیت بوالحسن کا پاسپورٹ ان کی لاش کے پاس ملا ہے۔

یورپی یونین کے وزرا جمعے کو برسلز میں مل رہے ہیں جہاں وہ پاسپورٹ کے بغیر داخلے کے شینگن خطے کی بیرونی سرحدوں پر سخت کنٹرول عائد کرنے کے علاوہ دیگر سکیورٹی مسائل پر بھی بات چیت کریں گے۔