مولن بیک، غیر ملکی شدت پسند جنگجوؤں کا مرکز

،تصویر کا ذریعہEPA
فرانس کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں کا منصوبہ ساز مراکشی نژاد بیلجیئن شدت پسند عبدالحمید اباعود ہے۔ عبدالحمید اباعود نے برسلز کے علاقے مولن بیک میں پرورش پائی۔ یہ علاقہ عرب پناہ گزینوں، بیروزگاری کی بلند شرح اور گنجائش سے زیادہ گھروں کے باعث مشہور ہے۔
27 سالہ اباعود صالح عبدالسلام کے ساتھی ہیں، جو مفرور ہیں اور اُن کے بھائی براہیم نے پیرس میں خود کو دھماکے سے اُڑا لیا تھا۔ براہیم کمپوتوا والتیے بار میں کسی دوسرے شخص کو قتل کیے بغیر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ دیگر چھ جہادیوں نے مختلف جگہوں پر خودکش دھماکے کیے تھے۔ اِن تمام افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اِنھیں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے بھرتی کیا گیا تھا۔
سنہ 2010 میں اباعود عبدالسلام کے ہمراہ بیلجیئم کی جیل میں رہ چکے ہیں۔
اباعود عرف ابوعمرالبالجیکی سنہ 2013 کے اوائل میں دولتِ اسلامیہ میں شامل ہوئے تھے۔
دولتِ اسلامیہ نے رواں برس ان کی شام میں موجودگی کا دعویٰ کیا تھا، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دولت اسلامیہ ان کی موجودگی کے بارے میں جھوٹ بول رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اباعود کب شدت پسند بنے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایڈ پریس کے مطابق انھوں نے بیلجیئم کے اعلیٰ سکینڈری سکول سینٹ پیئر ڈیوکلا میں تعلیم حاصل کی۔
وہ مئی سنہ 2014 میں برسلز میں یہودیوں کے عجائب گھر پر حملہ کر کے چار افراد کو ہلاک کرنے والے الجیرئین نژاد فرانسیسی مہدی نموش سے رابطے میں تھے۔
نموش نے مولن بیک میں وقت گزارا تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں بیلجیئن حکام نے اعتراف کیا تھا کہ یہاں کچھ نوجوان مسلمانوں میں بنیاد پرست سلفی نظریہ فروغ پایا ہے۔
نیدرلینڈ کی لیڈن یونیورسٹی میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی مرکزسے تعلق رکھنے والی لائزبیتھ وین ڈر ہائڈی کا کہنا ہے کہ حالیہ چند سالوں میں مولن بیک ایک ایسی جگہ ہے جو ’یورپ میں غیر ملکی شدت پسند جنگجوؤں کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ہے۔‘
آبادی کے تناسب کے حوالے سے دیکھا جائے تو یورپ کے دیگر ممالک کی نسبت بیلجیئم سے بڑی تعداد میں لوگوں نے عراق اور شام کی جنگ میں شامل ہونے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑا ہے۔
بیلجیئن حکام کے مطابق مشتبہ اباعود نے بیلجیئم کے مشرقی علاقے ورویے میں دہشت گردی کے سیل کو منظم کرنے اور اس کی مالی طریقوں سے مدد کی۔ یہ جنوری میں پولیس کارروائیوں کے بعد ختم ہو گیا تھا۔
ورویے میں دو جہادی ہلاک ہوئے تھے۔ دولت اسلامیہ نے بعد میں ان کی شناخت خالد بن لاربی (عرف ابو زبیر عمر 23 سال) اور سوفیان امغار (عرف ابو خالد عمر 26 سال) کے ناموں سے کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
دولتِ اسلامیہ کے انگریزی زبان کے میگزین دبیق کے فروری کے شمارے میں ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں اباعود نے ورویے حادثے کے بارے میں گفتگو کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ خفیہ طریقے سے بیلجیئم واپس لوٹے اور انھوں نے ’سیف ہاؤس کا انتظام کیا اور اسی دوران ہم نے صلیبی سپاہیوں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی۔‘
ان کا کہنا تھا ’تحقیقاتی ادارے مجھے پہلے سے ہی جانتے تھے کیوں کہ میں پہلے ہی ان کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا تھا۔ انھوں نے فخریہ طور پر بتایا کہ وہ ورویے میں پولیس کارروائیوں کے بعد بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
’مجھے ایک پولیس افسر نے روکا اور تصویر کے ساتھ مجھے ملانے کی کوشش کی لیکن اس نے مجھے جانے دیا جیسا کہ اس کو تصویر اور مجھ میں کوئی مماثلت نہیں ملی۔ یہ اور کچھ نہیں بس خدا کی طرف سے تحفہ تھا۔‘
سنہ 2014 میں دولتِ اسلامیہ کی ایک تشہیری ویڈیو میں اباعود کو ایک گاڑی میں پیچھے کی جانب سے مسخ شدہ لاشوں کو گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
اباعود کا اس سال اگست میں تیلس ٹرین ہونے والے میں ناکام حملے سے بھی تعلق بتایا جاتا ہے۔ شمالی فرانس میں ٹرین کے مسافروں نے مسلح شخص ایوب الخزانی کو قابو کر لیا تھا۔
تحقیق کاروں نے اِس مقدمے اور فرانس کے علاقے ویلی جوئف کے چرچ پر ناکام حملے میں اباعود کو مشتبہ شخص کے طور پر شامل کیا تھا۔
اباعود جہاد کے جذبے سے سرشار تھے اور انھوں نے اپنے 13 سالہ بھائی کو بھی شام میں اپنے ساتھ شامل ہونے کی ترغیب دی تھی۔







