فرانس میں ایمرجنسی میں تین ماہ کی توسیع

’پیرس میں حملے کرنے والے شدت پسند اور ان کے ساتھی کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے تھے‘

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن’پیرس میں حملے کرنے والے شدت پسند اور ان کے ساتھی کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے تھے‘

پیرس پر حملوں کے بعد ملک میں فوری طور ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا گیا تھا اور فرانسیسی ایوان زیریں نے ایمرجنسی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

جمعے کو ہونے والے حملوں میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کے فوری بعد فرانسیسی صدر نے ملک میں 12 روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

ایمرجنسی میں توسیع کے باعث وہ پولیس اہلکار جو ڈیوٹی پر نہیں ہیں، وہ بھی اسلحہ لے کر چل سکیں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ فرانس کی سینیٹ ایمرجنسی کی توسیع کی منظوری جمعے کو دے گی۔

<link type="page"><caption> پیرس میں حملہ کرنے والے کون تھے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151116_paris_who_were_attackers_zz" platform="highweb"/></link>

اس سے قبل فرانس کے وزیر اعظم مینوئل والس نے ملکی پارلیمان میں ایمرجنسی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کے مسودے پر بحث کے دوران کہا کہ گذشتہ ہفتے پیرس میں حملے کرنے والے شدت پسند اور ان کے ساتھی کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے تھے۔

فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا کہ فرانس میں دہشت گردی اس لیے نہیں کی گئی کہ فرانس شام اور عراق میں فوجی کارروائی میں مصروف ہے بلکہ فرانس جو کچھ ہے اس وجہ سے یہ دہشت گردی کی گئی۔

دریں اثنا فرانسیسی پولیس کے ماہرین پیرس کے مضافات میں کیے گئے آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور اس بات کے تعین کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ آیا مرنے والوں میں پیرس حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود بھی شامل ہیں یا نہیں۔

آپریشن کا ہدف بننے والا فلیٹ کارروائی کے دوران بری طرح تباہ ہوا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآپریشن کا ہدف بننے والا فلیٹ کارروائی کے دوران بری طرح تباہ ہوا

بدھ کو دارالحکومت پیرس کے شمالی مضافاتی علاقے ساں ڈنی میں سات گھنٹے جاری رہنے والی یہ کارروائی وہاں کے ایک اپارٹمنٹ میں 27 سالہ اباعود کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئی تھی۔

اس دوران وہاں ایک خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا کہ ایک شخص پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا۔

حکام کے مطابق ساں ڈنی میں آپریشن ایک نئے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ساں ڈنی میں آپریشن ایک نئے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا

تاہم آپریشن کی تکمیل کے بعد پیرس کے پراسیکیوٹر فرانسوا مولنز نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ساں ڈنی کے فلیٹ سے ایک اور مسخ شدہ لاش بھی ملی ہے اور اس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران فرانسوا مولنز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران جن آٹھ افراد (سات مرد اور ایک خاتون) کو حراست میں لیا گیا تھا ان میں نہ تو عبدالحمید اباعود اور نہ ہی صالح عبدالسلام شامل ہیں۔

خیال رہے کہ جہاں عبدالحمید اباعود کو پیرس حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے وہیں صالح عبدالسلام ان مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے پیرس کو نشانہ بنایا تھا۔

حکام کے مطابق بدھ کی صبح کیے گئے آپریشن میں اتنی شدید لڑائی ہوئی کہ پولیس نے پانچ ہزار گولیاں چلائیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق بدھ کی صبح کیے گئے آپریشن میں اتنی شدید لڑائی ہوئی کہ پولیس نے پانچ ہزار گولیاں چلائیں

خیال رہے کہ پیرس میں گذشتہ جمعے کو خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام کے خیال میں ان حملوں کی منصوبہ بندی مراکشی نژاد بیلجیئن شدت پسند عبدالحمید اباعود نے کی تھی اور ابتدائی طور پر یہ خیال سامنے آیا تھا کہ وہ شام میں موجود ہیں۔