’ساں ڈنی پر پیرس حملوں کا کوئی اثر نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, کیگل کیسوگلو
- عہدہ, بی بی سی ترک سروس، ساں ڈنی
فرانس کا دل کہلانے والے شہر پیرس کے مضافاتی علاقے ساں ڈنی نامی میں جمعے کو ہونے والے شدت پسند حملوں کے منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور یہ علاقہ فرانس میں بنیاد پرستی پر جاری بحث کا مرکز بن گیا۔
<link type="page"><caption> ’پیرس جینا نہیں بھولا‘</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/11/151118_paris_grief_anger_tk" platform="highweb"/></link>
اگرچہ پیرس کہ شہری احتیاط کے ساتھ اب کیفیز، ریسٹورینٹس اور تھیٹرز میں لوٹنے لگے ہیں لیکن 30 منٹ کی مسافت پر واقع اس مضافاتی علاقے میں نوجوانوں کی کیفیت اس شور و ہنگامے والی زندگی سے کہیں دور ہے جو شہر کے مرکزی علاقے کی شناخت بن چکی ہے۔
پیرس میں حملوں کے مقام کے گرد کی سڑکوں پر یکجہتی کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن سان ڈنی میں ایسا نہیں ہے۔
’ٹھیک ہے ، یکجہتی۔۔۔۔ لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ انھوں نے پیرس حملوں کو بہت بڑھا چڑھا دیا ہے ایسے میں جب شام میں لوگ ہر روز مر رہے ہیں؟‘
میں نے سان ڈنی میں یہ الفاظ سنے جو کثیرالثقافتی اور کثیرالنسلی شہر ہے ۔ یہاں افریقی، الجیریائی، چینی، ترکش، بھارتی اور کئی دوسری نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔
یہاں اکثریت ’ساں پیپیے‘ ہیں اور کسی قانونی حیثیت اور شناخت کے بغیر یہ لوگ یہاں کام کر سکتے ہیں۔
یہاں جرائم عام ہیں، ڈکیتیوں، منشیات اور قتل کی شرح کافی بلند ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں سٹیشن کے باہر پہلی چیز جو آپ کو نظر آتی ہے وہ ریڑھاں اور ان میں جلتی ہوئی آگ۔ زیادہ تر افریقی نژاد فرانسیسی ہیں جو کباب بیچتے نظر آتے ہیں۔ ریڑھیوں پر بنی یہ دکانیں انھیں پولیس کی آمد پر فرار ہونے میں مدد دیتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہاں شراب خانے نہیں ہیں لیکن یہاں مختلف اقسام کے ریسٹورنٹس ہیں اور حلال گوشت دستیاب ہے۔
چینی دکانوں پر ہر قسم کے آلات ملتے ہیں اور بوتیکس پر ہر قسم کا لباس ملتا ہے۔
کیلائن انراکینے اور ان کی دوست لیمیا کاؤ دونوں 17 برس کی ہیں اور اس علاقے کی مکین ہیں۔
جب میں نے پیرس حملوں کے بارے میں پوچھا تو کیلائن کا کہنا تھا کہ یہ سب فرانسیسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا ’مجھے لگتا ہے تیسری عالمی جنگ ہوگی۔ فرانس شام میں اپنی مداخلت کی وجہ سے اس کا سبب بن رہا ہے۔‘
’پیرس میں حملے صرف تین گھنٹے جاری رہے لیکن یہ شام میں ہر روز ہو رہا اور فلسطینی بھی مر رہے ہیں۔‘
کیلائن انراکینے کہتی ہیں ’سب کہہ رہے ہیں کہ فرانسیسیوں کے لیے دعا کریں، پیرس کے لیے دعا کریں۔ لیکن انھوں نے کبھی یہ فلسطینیوں کے لیے نہیں کیا۔ انھوں نے کبھی کبھی فلسطینوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے لیکن وہ سب دکھاوا لگتا تھا۔‘
حلال گوشت کی دکان پر کام کرنے والے 19 برس کے ایٹک رائلیز کا موقف بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
وہ ساں ڈنی میں پیدا ہوئے وہ اس علاقے سے کم ہی نکلتے ہیں اور ان کے پاس پیرس حملوں کو سوچنے کے لیے وقت نہیں ہے۔
’اگر آپ شام کو دیکھیں تو وہاں ڈھائی لاکھ لوگ مر چکے ہیں یعنی روزانہ 160 لوگ قتل ہوتے ہیں۔ میں ان پیرس حملوں پر حیران ہوں۔ یہ یقیناً اہم ہیں لیکن ہم اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔‘
گو کہ اس کے ارد گرد کے علاقے میں تشدد ہوا لیکن ان کا کہنا ہے کہ ساں ڈنی میں پلنے بڑھنے والا ہر فرد اسلامی شدت پسندوں کا تربیت یافتہ نہیں ہے۔

ایٹک رائلیز کہتے ہیں ’وہ جو انتہا پسند ہو گئے وہ کمزور دماغ کے لوگ ہیں۔ میں دکھی ہو جاتا تھا جن لوگ یہاں کے لوگوں کے بارے میں ایسا کہتے تھے لیکن اب مجھے پرواہ نہیں۔ ان کی اپنی زندگی ہے اور ہماری اپنی۔‘
یہاں کے مکین خود کو باقی پیرس سے الگ سمجھتے ہیں۔ میں نے ’ہم اور وہ ‘ جیسے الفاظ سنے۔
فرانس کے باقی معاشرے سے اس علیحدگی کو 29 سالہ ترک نژاد نیلگل نے بھی اجاگر کیا۔
یہاں پر موجود غصے کی تاریخ سنہ 1954سے سنہ 1962 تک ہونے والی فرانس الجیریا جنگ سے شروع ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 60000 الجیریائی افراد ہلاک ہوئے۔
’ان کا مسئلہ پیرس نہیں ہے۔ شاید ان کے انتہا پسند ہونے کی وجہ ان کی والدین کا بدلہ لینا ہے۔‘
’اس کے ساتھ ساتھ وہ ذہنی طور پر بہت کمزور ہیں۔ اسلام کے نام پر ان کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا گیا۔ ان کا برین واش کیا گیا۔‘
ترکی میں پیدا ہونے والے عبداللہ نے مجھے اپنی دکان میں گولیوں کے باعث ہونے والے سوراخ دکھائے جو کسی شخص کی فائرنگ سے ہوئے۔
’شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب کوئی واقعہ نہ ہو۔‘







