ساں ڈنی آپریشن،’گرفتار افراد میں عبدالحميد شامل نہیں‘

پولیس کے خیال میں پیرس حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز شدت پسند مراکشی نژاد بیلجیئن شہری عبدالحمید اباعود ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس کے خیال میں پیرس حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز شدت پسند مراکشی نژاد بیلجیئن شہری عبدالحمید اباعود ہیں

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافاتی علاقے ساں ڈنی میں پولیس کی جانب سے سات گھنٹوں پر محیط کارروائی کی گئی ہے۔

اس کارروائی کے بعد پیرس کے پراسیکیوٹر فرانسوا مولنز نے آپریشن کے بعد نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ساں ڈنی میں پولیس کی کارروائی کے مقصد شہر میں مزید حملوں کو روکنا تھا۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں گرفتار کیے جانے والے آٹھ افراد میں پیرس حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ عبدالحمید اباعود شامل نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ فلیٹ سے مسخ شدہ لاش ملی ہے اور اس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

<link type="page"><caption> پیرس میں حملہ کرنے والے کون تھے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151116_paris_who_were_attackers_zz" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہGetty

پراسیکیوٹر فرانسوا مولنز نے مزید بتایا ہے کہ ساں ڈن میں پولیس کی کارروائی ایک نئے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کی گئی۔

’یہ دہشت گردی کا نیا سیل تھا اور بظاہر یہ حملہ کرنے کے لیے تیار تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ اس وقت وہ اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی صحیح تعداد اور ان کی شناخت کے بارے میں نہیں بتا سکتے لیکن اس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ مسخ شدہ لاش ملی ہے اور یہ ناقابل شناخت ہے۔

اس کارروائی کا مرکز مبینہ طور پر پیرس حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود تھے اور اس علاقے کے ایک فلیٹ میں ان کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔خیال رہے کہ جمعے کو پیرس میں ہونے والے مختلف حملوں میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ساں ڈنی میں کیے جانے والے آپریشن کا ہدف یہ اپارٹمنٹ بلاک تھا جو اب قابل استعمال نہیں رہا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنساں ڈنی میں کیے جانے والے آپریشن کا ہدف یہ اپارٹمنٹ بلاک تھا جو اب قابل استعمال نہیں رہا

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولیس کے خیال میں پیرس حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز شدت پسند مراکشی نژاد بیلجیئن شہری عبدالحمید اباعود ہیں۔ ان کے بارے میں پہلے خیال تھا کہ وہ شام میں ہیں۔

حکام کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں نے ساں ڈنی کے علاقے میں کارروائی کی اور اس دوران وہاں جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر کے مطابق یہ آپریشن ان انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد کیا گیا کہ عبدالحمید اباعود یہاں موجود ہیں۔

جمعے کو خودکش حملوں کا نشانہ بننے والا فٹبال سٹیڈیم ’سٹیڈ ڈی فرانس‘ بھی اسی علاقے میں واقع ہے جہاں آپریشن کیا گیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش سے متعلق کارروائی بدھ کو علی الصبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے کے قریب شروع ہوئی۔

ساں ڈینی کے نائب میئر سٹیفن پیو نے مقامی آبادی سے کہا کہ وہ گھروں کے اندر رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نیا حملہ نہیں بلکہ پولیس کی کارروائی ہے۔‘

اس سے قبل فرانس میں سکیورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ ویڈیو فوٹیج میں حملوں میں ممکنہ طور پر ملوث نویں حملہ آور کی نشاندہی ہوئی ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق ویڈیو میں حملہ آوروں کے زیر استعمال ایک گاڑی میں تیسرے شخص کو سوار دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا نواں حملہ آور بیلجیئم میں گرفتار ہونے والے دو مشتبہ حملہ آوروں میں شامل ہے یا یہ فرار ہو گیا ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پولیس نے ان مقامات کی تلاشی لی ہے جن کے بارے میں قیاس ہے کہ وہ حملہ آوروں کے استعمال میں رہے تھے۔

انسدادِ دہشت گردی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اہلکار سینٹ ڈینس کے علاقے میں کارروائی کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانسدادِ دہشت گردی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اہلکار سینٹ ڈینس کے علاقے میں کارروائی کر رہے ہیں

ان حملوں میں ملوث آٹھ مشتبہ ملزمان میں سے ایک صالح عبدالسلام کی تلاش کے لیے بھی ایک بڑا آپریشن جاری ہے اور پولیس نے ایک ایسی کار کی تلاشی بھی لی جسے صالح نے کرائے پر لیا تھا۔

بیلجیئم میں رجسٹرڈ یہ سیاہ رینو کلیو کار شمالی پیرس میں مونٹمارترے کے نزدیک کھڑی پائی گئی تھی۔

تحقیقات کرنے والوں کا خیال ہے کہ اسی کار میں حملہ آوروں کو بیلجیئم سے لایا اور لے جایا گیا تھا جہاں ان حملوں کی ممکنہ طور پر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔