فرانس میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملے

فرانس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفرانس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے

فرانس میں حکام کے مطابق رسالے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر حملے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں دو مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق استغاثہ کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو پیرس سے مغرب کی جانب واقع شہر لا مان میں واقع ایک مسجد پر بغیر باردو کے تین دستی بم پھینکے گئے۔

اس کے علاوہ ایک دوسرے علاقے پورت لا نوول میں شام کی نماز کے فوری بعد مسجد کے ہال کی جانب فائرنگ کی گئی۔

اس کے علاوہ ملک کے مشرقی شہر ویلنفرانش سر ساون میں ایک مسجد کے قریب واقع کباب کی دکان میں دھماکہ ہوا ہے۔

سکیورٹی اہلکار رسالے ’چارلی ایبڈو‘ پر حملے میں ملوث افراد کی تلاش میں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی اہلکار رسالے ’چارلی ایبڈو‘ پر حملے میں ملوث افراد کی تلاش میں ہے

حکام کے مطابق ان واقعات میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

اس سے پہلے فرانس کے ہمسایہ ملک جرمنی کے مختلف شہروں میں’مغرب کی اسلامائزیشن‘ کے خلاف اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ (پیٹریاٹک یورپیئنز اگینسٹ اسلامائزیشن) اور اس تنظیم کے مخالفین نے جلوس نکالے۔

پیگیڈا کا دعویٰ ہے کہ جرمنی پر ایک لحاظ سے مسلمانوں اور دیگر تارکینِ وطن سے قبضہ کر لیا ہے۔