پیرس: سیاسی جریدے کے دفتر پر حملہ، 12 افراد ہلاک

زخمیوں میں سے پانچ کی حالت نازک ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنزخمیوں میں سے پانچ کی حالت نازک ہے

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حکام کے مطابق طنز ومزاح کے مشہور رسالے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر مسلح افراد کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق بظاہر یہ حملہ مسلمان شدت پسندوں نے کیا ہے۔

فرانسیسی صدرفرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

حکام کے مطابق کم از کم دو مسلح افراد نے رائفلرز کی مدد سے رسالے کے دفتر میں فائرنگ کی اور ایک گاڑی میں فرار ہونے سے پہلے ان کا پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق موقعے پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے میگزین کے دفتر پر کلاشنکوف کی فائرنگ کی مسلسل آوازیں سنیں۔

پیرس کی پولیس نے شہر اور اس کے نواح میں حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بہت بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

فرانس ٹو نیوز چینل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رسالے کے دفتر پر مسلح حملہ اس وقت ہوا جب عملہ ہفتہ وار ادارتی میٹنگ کر رہا تھا۔

نقاب پوش حملہ آور ایک گاڑی میں فرار ہو گئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننقاب پوش حملہ آور ایک گاڑی میں فرار ہو گئے

یاد رہے کہ یہ ہفتہ وار فکاہیہ رسالہ ماضی میں بھی مختلف سیاسی اور حالات حاضرہ کی خبروں پر اپنے طنزیہ تبصروں کی وجہ سے متنازعہ رہا ہے۔

اس مرتبہ رسالے کی جانب سے کی جانے والی آخری ٹویٹ متشدد گروہ دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابو بکر البغدادی کے بارے میں تھی۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دہشت گردی ہے اور ایک غیرمعمولی ظالمانہ طرز عمل ہے۔

’ لوگوں کو بزدلانہ انداز میں قتل کیا گیا، ہمیں اس وجہ سے دھمکایا گیا کیونکہ ہمارا ملک آزادی پسندوں کا ملک ہے۔‘

صدر فرانسوا اولاند نے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

اطلاعات کے مطابق فرانسیسی صدر جلد ہی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کرنے والے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

امریکہ نے رسالے پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے جبکہ یورپی یونین کے صدر ژاں کلود یونکر نے کہا ہے کہ انھیں اس ظالمانہ اور غیر انسانی فعل پر صدمہ ہوا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہلاک شدگان کے لیے اور رسالے کے حق میں مہم شروع ہو گئی ہے۔

فرانس کے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زخمیوں میں سے پانچ کی حالت نازک ہے۔

فرانس کے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ’سیاہ نقاب پہنے ہوئے دو حملہ آور عمارت میں داخل ہوئے۔ وہ کلاشنکوفوں سے مسلح تھے۔ چند ہی منٹ بعد ہم نے شدید فائرنگ کی آوازیں سنیں۔‘

’اس کے بعد ہم نے حملہ آوروں کو وہاں سے فرار ہوتے دیکھا‘

پولیس کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ’یہ قتل عام ہے۔‘

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفرانس کے صدر فرانسوا اولاند جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں

پولیس نے ذرائع ابلاغ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور حملے کے بعد پولیس کی جانب سے دی جانے والی حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔