’میری مسجد کو مت چھوؤ‘

سٹاک ہوم کے علاوہ مالمو اور گوٹنبرگ میں بھی نسل پرستی کے خلاف جلوس نکالے گئے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسٹاک ہوم کے علاوہ مالمو اور گوٹنبرگ میں بھی نسل پرستی کے خلاف جلوس نکالے گئے

سویڈن میں مساجد میں آتش زنی کے تین واقعات کے بعد سینکڑوں افراد نے دارالحکومت سٹاک ہوم میں نسل پرستی کے خلاف احتجاجی جلوس میں شرکت کی ہے۔

جمعے کو پارلیمان کے سامنے ہونے والی اس ریلی میں ایک ہزار کے قریب افراد شریک ہوئے جنھوں نے ’میری مسجد کو مت چھوؤ‘ کے پیغام والے کتبے اور اشتہار اٹھا رکھے تھے۔

سویڈن میں مسجد کو آگ لگانے کی تازہ ترین کوشش جمعرات کو ملک کے مشرقی شہر اپسالا میں کی گئی تھی جب مسجد پر پٹرول بم پھینکا گیا لیکن اس سے عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچا۔

اس سے قبل ملک کے جنوبی شہر ایسلوئیو میں دسمبر کے آخر میں ایک مسجد جلائی گئی جبکہ کرسمس کے دن ایسکلسٹیونا میں ایک مسجد کو آگ لگائی گئی اور اس واقعے میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔

سویڈن میں پولیس کو مساجد کی سکیورٹی سخت کرنے کو کہا گیا ہے۔

جمعے کو سٹاک ہوم کے علاوہ مالمو اور گوٹنبرگ میں بھی نسل پرستی کے خلاف جلوس نکالے گئے۔

عوام نے جمعرات کو حملے کا نشانہ بننے والی مسجد کے مرکزی دروازے کو سرخ رنگ کے دل کی شکل والے کارڈوں سے بھر دیا۔

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنعوام نے جمعرات کو حملے کا نشانہ بننے والی مسجد کے مرکزی دروازے کو سرخ رنگ کے دل کی شکل والے کارڈوں سے بھر دیا۔

سٹاک ہوم میں ملک کی وزیرِ ثقافت ایلس باہ کنکے نے کہا ہے کہ حکومت اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے قومی حکمتِ عملی وضع کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حکمتِ عملی کے تحت لوگوں کو اسلام کے بارے میں تعلیم دی جائے گی اور ان کے ذہنوں میں موجود تفرقہ کم کیا جائے گا۔

ادھر اپسالا میں عوام نے جمعرات کو حملے کا نشانہ بننے والی مسجد کے مرکزی دروازے کو سرخ رنگ کے دل کی شکل والے کارڈوں سے بھر دیا۔

تاحال سوڈیشن پولیس مساجد میں آتش زنی کے واقعات میں کسی بھی ملزم کو حراست میں لینے میں ناکام رہی ہے۔

سویڈین کی وزیرِ ثقافت نے سٹاک ہوم میں ریلی سے خطاب میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد لوگوں کو ہراساں کرنا تھا۔

سویڈن میں پولیس کو مساجد کی سکیورٹی سخت کرنے کو کہا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP TT

،تصویر کا کیپشنسویڈن میں پولیس کو مساجد کی سکیورٹی سخت کرنے کو کہا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’اسی لیے سب سے ہم چیز یہ ہے کہ ہم خود کو کبھی دوسرے کے دباؤ میں نہ آنے دیں۔‘

امیگریشن سویڈن میں آج کل عام بحث کا موضوع ہے اور سویڈن میں انتہائی دائیں بازو کے خیالات کے حامی گروپ ملک میں آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد میں 90 فیصد کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سویڈین میں تارکینِ وطن کے بارے میں پالیسیوں کے حوالے سے بحث زوروں پر ہے اور ملک کی مرکزی سیاسی جماعتیں اس حوالے سے موجودہ آزادانہ پالیسی برقرار رکھنے کی خواہاں ہیں۔

خیال رہے کہ سویڈن کی 16 فیصد آبادی اس ملک میں پیدا نہیں ہوئی تھی اور ان میں سے بہت سوں کا تعلق جنگ زدہ ممالک عراق، افغانستان اور شام سے ہے جب کہ تینوں مسلم اکثریتی ملک ہیں۔