فرانس: شہریوں کو کچلنے کی ایک اور کوشش، دس زخمی

سنیچر اور اتوار کو ہونے والے دونوں حملوں میں حملہ آور نے نعرۂ تکبیر بلند کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنیچر اور اتوار کو ہونے والے دونوں حملوں میں حملہ آور نے نعرۂ تکبیر بلند کیا تھا

فرانس کے مغربی شہر نیٹس میں ایک شخص نے کرسمس کی خریداری کرنے کے لیے جمع افراد پرگاڑی چڑھا دی ہے۔

پیر کی شب پیش آنے والے اس واقعے میں دس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

گاڑی کے ڈرائیور نے بعد میں خود کو چاقو مار کر زخمی کر لیا اور اس کی حالت بھی تشویشناک ہے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ملک میں پیش آنے والے ایسے واقعات کی فوری طور تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے فرانسیسی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں۔

یہ واقعہ ڈیژوں نامی شہر میں راہ گیروں کو گاڑی سے کچلنے کی کوششوں کے اگلے ہی دن پیش آیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نقالی کے جرائم لگ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نقالی کے جرائم لگ رہے ہیں

اتوار کو ڈیژوں میں ایک ’ذہنی بیمار‘ شخص نے نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے پانچ مقامات پر سڑک کنارے چلنے والے افراد پر گاڑی چڑھا دی تھی۔

اس حملے میں 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل سنیچر کو بھی ایک شخص نے یہی نعرہ لگاتے ہوئے پولیس تھانے کے باہر تین اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔

تاہم تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ابھی نہیں کہہ سکتے کہ ان تینوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں تاہم ان تینوں حملہ آوروں کا کٹر اسلامی تنظیموں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں دکھائی دیتا۔

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نقالی کے جرائم لگ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سنیچر اور اتوار کو ہونے والے دونوں حملوں میں حملہ آور نے نعرۂ تکبیر بلند کیا تھا اور اس وقت فرانس میں اسلامی شدت پسند گروہوں میں عوامی دلچسپی کا معاملہ گرم ہے۔