فرانس روس پر مغربی پابندیوں کے خاتمے کا ’حامی‘

صدر اولاند کا یہ کہنا ہے کے ولادمیر پوٹن نے انسے بات چیت کے دوران یہ واضح کیا کے وہ مشرقی یوکرین پر قبضہ نہیں چاہتے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر اولاند کا یہ کہنا ہے کے ولادمیر پوٹن نے انسے بات چیت کے دوران یہ واضح کیا کے وہ مشرقی یوکرین پر قبضہ نہیں چاہتے۔

فرانس کے صدر فرانسو اولاند چاہتے ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع پر رواں ماہ ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو روس پر عائد مغربی پابندیاں ہٹا دینی چاہیں۔

انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ یورپی یونین، امریکہ اور کینیڈا کی کون کون سی لگائی ہوئی پابندیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

روس پر یہ پابندیاں کریمیا کے علاقے کو زبردستی یوکرین سے الگ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی تھیں۔

صدر اولاند کا کہنا ہے کے ولادیمیر پوتن نے ان سے بات چیت کے دوران یہ واضح کیا کہ وہ مشرقی یوکرین پر قبضہ نہیں چاہتے۔

جرمنی کے وائس چانسلر نے روس پر مزید پابندیوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔

فرانس کے بائیں بازو کے سیاست دان سگمر گیبریل کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں کچھ طاقتیں ایسی بھی ہیں جو ان پابندیوں سے روس کو مفلوج کرنا چاہتی ہیں جس سے روس کے تنہا ہونے کا خطرہ ہے۔

انھوں نے اخبار ’سونتگ‘ کو بتایا کے ہم روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس عمل سے روس کو گھٹنوں کے بل گرانا بھی نہیں چاہتے۔

او ایس سی ای سکیورٹی تنظیم کی اطلاعات کے مطابق مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود یوکرینی افواج اور روسی علیحدگی پسندوں کے درمیان گولہ باری ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں نے دسمبر کے آخر میں کئی سو قیدیوں کا تبادلہ کیا تھا۔

بین الاقوامی پابندیوں نے روس کے مرکزی بینک، توانائی کے شعبے اور اسلحہ سازوں کو متاثر کیا اور اس کے ساتھ ساتھ مسٹر پوتن کے قریبی طاقتور شخصیات کو نشانہ بنایا۔ یورپ سے اٹلی، ہنگری اور سلوواکیہ نے روس کے خلاف پابندیوں پر اعتراض کیا۔

صدراولاند نے فرانس ریڈیو کے ساتھ بات کرتے ہو ئے کہا کہ اگر صورت حال میں تبدیلی آئے تو پابندیوں کو ختم کر دینا چاہیے اور اگر کوئی تبدیلی نہ آئے تو پابندیوں کو اپنی جگہ پر ہی رہنا چاہیے۔

انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ فرانس، جرمنی، روس، یوکرین کا سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے گا اور اگر صورت حال میں تبدیلی کا امکان ہوا تو وہ استونیا جائیں گے۔

مغربی ممالک نے روس پر مشرقی یوکرین کے علاقے دونستک اور لونسک میں علیحدگی پسندوں کو بھاری ہتھیاروں اور فوجوں اضافی دستے بھیجنے کا الزام لگایا تھا۔ روس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہاں رضاکاروں کو بھیجا گیا ہے لیکن اعلیٰ سطح کے باغیوں کو عام فوجی اور ہائی ٹیک آلات فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔