دہشت گردی کے خطرات: ’یورپ کی فوری بیداری ضروری‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانسیسی وزیرِ داخلہ برنار کیزنیو نے کہا ہے کہ پیرس حملوں کے پیشِ نظر یورپی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خطرات سے خبردار ہو جائیں اور اس کے مقابلے کے لیے خود کو منظم کریں۔
اس سے قبل فرانس کے وزیراعظم مینوئل والس نے کہا تھا کہ پیرس حملوں میں ملوث شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے افراد یورپ میں تارکین وطن کے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نظروں میں آئے بغیر فرانس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
تاہم دوسری جانب بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس میچل نے اپنے ملک کے سکیورٹی اقدامات پر ہونے والی تنقید کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیلجیئم کی سکیورٹی اطلاعات پر ہی ساں ڈنی میں ایک بڑا چھاپہ مارا گیا۔
خیال رہے کہ جمعے کو فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا تھا کہ ساں ڈنی میں چھاپہ مار کارروائی میں ہلاک ہونے والےمشتبہ شدت پسندوں میں پیرس حملوں کے مشتبہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود بھی شامل ہیں۔
<link type="page"><caption> فرانس میں ایمرجنسی میں تین ماہ کی توسیع</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151119_france_extends_emergency_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’شدت پسند کیمیائی،حیاتیاتی ہتھیار استعمال کر سکتے تھے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151119_saint_denis_ops_abdulhameed_fate_unknown_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’ہم نے اس رات اصل میں جہنم دیکھا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151118_paris_attack_saw_hell_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
قراردادیں
ادھر یورپی یونین کے وزرا نے جمعے کو ہونے والے اجلاس کے لیے ایک قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے جس کے مطابق یہ ممالک اپنی بیرونی سرحدوں پر باہمی تعاون کے ذریعے ضروری اور منظم جانچ پڑتال کریں گے۔
دوسری جانب فرانس نے دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے۔
یہ قرارداد فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کی پیرس حملوں کے بعد دولتِ اسلامیہ کے خلاف سخت عالمی ردعمل کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ایسی پالیسی کے تحت صدر اولاند آئندہ ہفتے واشنگٹن اور ماسکو کا دورہ کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پیرس حملوں کے مشتبہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود کی گولیوں اور بم کے ٹکڑوں سے چھلنی لاش پیرس کے مضافاتی علاقے میں بدھ کو ایک اپارٹمنٹ سے ملی تھی۔
27 سالہ بیلجیئن شہری عبدالحمید اباعود کی شناخت ان کی انگلیوں کے نشانات سے کی گئی۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں فرانس کے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ ابھی انھیں اس بارے میں یورپی ممالک سے کوئی ’اطلاع ‘ موصول نہیں ہوئی کہ آیا عبدالحمید اباعود یورپ میں داخل ہوئے تھے تاہم خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ اباعود شام سے واپسی پر یونان سے گزرے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپ کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر بیدار ہو جائے اور دہشت گردی کے خطرات کے مقابلے کے لیے خود کو منظم کرے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تفتیش کاروں کو ابھی بھی صالح عبدالسلام کی تلاش ہے جن کے بارے میں قیاس ہے کہ وہ جمعے کی رات حملوں کے بعد بیلجیئم چلے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایمرجنسی
پیرس میں بی بی سی نامہ نگار ہو شوفیلڈ کا کہنا ہے کہ عبدالحمید اباعود کی شناخت سکیورٹی سروسز کے بارے میں شدید سوالات اٹھاتی ہے۔
وہ فرانسیسی اور بیلجیئن سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھے اور اس کے باوجود شام سے پیرس تک سفر کرنے میں کامیاب رہے۔
اس سے قبل فرانسیسی ایوان زیریں نے ایمرجنسی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔
ایمرجنسی میں توسیع کے باعث وہ پولیس اہلکار جو ڈیوٹی پر نہیں ہیں، وہ بھی اسلحہ لے کر چل سکیں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ فرانس کی سینیٹ ایمرجنسی کی توسیع کی منظوری جمعے کو دے گی۔







