’شدت پسند کیمیائی،حیاتیاتی ہتھیار استعمال کر سکتے تھے‘

آپریشن کا ہدف بننے والا فلیٹ کارروائی کے دوران بری طرح تباہ ہوا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآپریشن کا ہدف بننے والا فلیٹ کارروائی کے دوران بری طرح تباہ ہوا

فرانس کے وزیر اعظم مینوئل والس نے ملکی پارلیمان میں ایمرجنسی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کے مسودے پر بحث کے دوران کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے پیرس میں حملے کرنے والے شدت پسند اور ان کے ساتھی کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے تھے۔

گزشتہ جمعے کو پیرس پر حملوں کے بعد ملک میں فوری طور ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا گیا تھا جس کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کے بارے میں ایک مسودۂ قانون ایوان زیریں میں پیش کیا گیا ہے۔

ایوان زیریں سے منظور کیے جانے کے بعد اس کو جمعے کے روز ایوان میں بالا میں پیش کیا جائے گا۔

<link type="page"><caption> پیرس میں حملہ کرنے والے کون تھے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151116_paris_who_were_attackers_zz" platform="highweb"/></link>

فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا کہ فرانس میں دہشت گردی اس لیے نہیں کی گئی کہ فرانس شام اور عراق میں فوجی کارروائی میں مصروف ہے بلکہ فرانس جو کچھ ہے اس وجہ سے یہ دہشت گردی کی گئی۔

دریں اثنا فرانسیسی پولیس کے ماہرین پیرس کے مضافات میں کیے گئے آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور اس بات کے تعین کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ آیا مرنے والوں میں پیرس حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود بھی شامل ہیں یا نہیں۔

ادھر فرانسیسی ارکانِ پارلیمان ملک میں نافذ ہنگامی حالت میں توسیع کے معاملے پر ووٹ ڈال رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے پیرس حملوں کے بعد 12 دن کے لیے ملک میں ہنگامی حالت نافد کی تھی اور اگر جمعرات کو ایوانِ زیریں اس مدت میں اضافے کی منظوری دیتا ہے تو یہ ایمرجنسی مزید تین ماہ کے لیے نافذ رہے گی۔

بدھ کو دارالحکومت پیرس کے شمالی مضافاتی علاقے ساں ڈنی میں سات گھنٹے جاری رہنے والی یہ کارروائی وہاں کے ایک اپارٹمنٹ میں 27 سالہ اباعود کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق ساں ڈنی میں آپریشن ایک نئے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ساں ڈنی میں آپریشن ایک نئے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا

اس دوران وہاں ایک خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا کہ ایک شخص پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا۔

تاہم آپریشن کی تکمیل کے بعد پیرس کے پراسیکیوٹر فرانسوا مولنز نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ساں ڈنی کے فلیٹ سے ایک اور مسخ شدہ لاش بھی ملی ہے اور اس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

ابتدائی طور پر کارروائی میں دو افراد کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی تاہم فرانس کی وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ فلیٹ جو آپریشن کا ہدف تھا، کارروائی کے دوران اتنی بری طرح تباہ ہوا کہ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا ملبے میں کوئی تیسری لاش بھی ہے یا نہیں۔

حکام کے مطابق بدھ کی صبح کیے گئے آپریشن میں اتنی شدید لڑائی ہوئی کہ پولیس نے پانچ ہزار گولیاں چلائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فلیٹ کے منہدم ہونے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے جہاں کارروائی کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق بدھ کی صبح کیے گئے آپریشن میں اتنی شدید لڑائی ہوئی کہ پولیس نے پانچ ہزار گولیاں چلائیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق بدھ کی صبح کیے گئے آپریشن میں اتنی شدید لڑائی ہوئی کہ پولیس نے پانچ ہزار گولیاں چلائیں

پریس کانفرنس کے دوران فرانسوا مولنز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران جن آٹھ افراد (سات مرد اور ایک خاتون) کو حراست میں لیا گیا تھا ان میں نہ تو عبدالحمید اباعود اور نہ ہی صالح عبدالسلام شامل ہیں۔

خیال رہے کہ جہاں عبدالحمید اباعود کو پیرس حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے وہیں صالح عبدالسلام ان مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے پیرس کو نشانہ بنایا تھا۔

پراسیکیوٹر فرانسوا مولنز نے مزید بتایا کہ ساں ڈنی میں آپریشن ایک نئے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا۔

’یہ دہشت گردی کا نیا سیل تھا اور بظاہر یہ حملہ کرنے کے لیے تیار تھا۔‘

خیال رہے کہ پیرس میں گذشتہ جمعے کو خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام کے خیال میں ان حملوں کی منصوبہ بندی مراکشی نژاد بیلجیئن شدت پسند عبدالحمید اباعود نے کی تھی اور ابتدائی طور پر یہ خیال سامنے آیا تھا کہ وہ شام میں موجود ہیں۔