اباعود کی ہلاکت کے بعد کچھ اہم سولات

فرانس کو اب بھی مشتبہ شدت پسند صالح عبدالسلام کی شدت سے تلاش ہے جس نے حملے کے لیے ایک کار کرائے پر لی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرانس کو اب بھی مشتبہ شدت پسند صالح عبدالسلام کی شدت سے تلاش ہے جس نے حملے کے لیے ایک کار کرائے پر لی تھی

فرانس کے دارالحکومت پیرس پر حملے کے بعد سے فرانس اور اس کے پڑوسی یورپی ممالک ہائی الرٹ پر ہیں۔ ان حملوں میں 129 افراد ہلاک اور تقریبا سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ ان کا ملک دولت اسلامیہ کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔

یہاں ہم اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان حملوں کا عالمی سطح پر کیا اثر پڑےگا اور حکام اس سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں۔

کیا اب مزید حملوں کا امکان ختم ہو گیا ہے؟

اس بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن جمعرات کو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ حملے کے اصل منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود ساں ڈنی میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک کر دیے گئے۔ فورینسک رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے۔

لیکن فرانس کو اب بھی مشتبہ شدت پسند صالح عبدالسلام کی شدت سے تلاش ہے جس نے حملے کے لیے ایک کار کرائے پر لی تھی۔ صالح کے بھائی براہیم نے پہلے ہی اپنے آپ کو خودکش دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

امکان اس بات کا ہے کہ صالح عبدالسلام کے ساتھ ایک اور بھی حملہ آور اب بھی مفرور ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامکان اس بات کا ہے کہ صالح عبدالسلام کے ساتھ ایک اور بھی حملہ آور اب بھی مفرور ہے

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان حملوں میں نو افراد ملوث تھے جس میں سے سات جمعے کی رات کو ہی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس بات کا امکان ہے کہ صالح عبدالسلام کے ساتھ ایک اور بھی حملہ آور اب بھی مفرور ہے۔

ایسی قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ ساں ڈنی میں جو حملہ آور مارے گئے یا پکڑے گئے وہ اباعود کے ساتھ مل کر فرانس کے ایک تجارتی مرکز پر بھی حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

حملوں کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی؟

فرانس کے حکام کا کہنا ہے دولت اسلامیہ نے حملے کی منصوبہ بندی بیلجیئم میں کی۔ دولت اسلامیہ نے اس کی ذمہ داری پہلے ہی قبول کر لی تھی۔ حملے میں جو تین کاریں استعمال کی گئیں وہ بیلجیئم ہی سے حاصل کی گئی تھیں۔

تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ بندوق برداروں نے حملے کے لیے ساں ڈنی میں ایک محفوظ مکان کو استعمال کیا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ گروہ حملے کے لیے وہاں کب جمع ہوا۔ اس کی تفصیلی معلومات کے لیے ابھی فون ریکارڈز اور حملے میں استعمال کیے گئے ہتھیاروں کا جائزہ لینا باقی ہے۔

تفتیش کاروں کا خيال ہے کہ اس حملے کے لیے زبردست تیاری کی گئی اور اس کے لیے کلاشنکوفوں اور دھماکہ خیز بیلٹوں کا استعمال کیا گيا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتفتیش کاروں کا خيال ہے کہ اس حملے کے لیے زبردست تیاری کی گئی اور اس کے لیے کلاشنکوفوں اور دھماکہ خیز بیلٹوں کا استعمال کیا گيا

تفتیش کاروں کا خيال ہے کہ اس حملے کے لیے زبردست تیاری کی گئی اور اس کے لیے کلاشنکوفوں اور دھماکہ خیز بیلٹوں کا استعمال کیا گيا۔ ان حملوں کے لیے مہینوں تک تربیت لی گئی ہوگي جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنا تھا۔

ان حملوں کو روکا کیوں نہیں جا سکا؟

فرانس کی سکیورٹی سروسز اور اس کے یورپی ساتھی مشترکہ طور پر اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آخر کیا انٹیلیجنس کی مدد سے ان حملوں کے متعلق معلومات حاصل کر کے انھیں روکا جا سکتا تھا یا نہیں۔

اسلامی شدت پسندی کے ماہر فرانسیسی تجزیہ کار وین ویسٹیئن کا کہنا ہے کہ فروری میں بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے دولت اسلامیہ کے دو شدت پسندوں نے ایک ویڈیو کے ذریعے فرانس پر حملے کی دھمکی دی تھی۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے حملوں سے نمٹنا اتنا آ‎سان نہیں ہے، جن میں خود کش حملہ آور شامل ہوں اور ان کا ہدف عوام ہوں۔ لیکن اب ایسے جہادیوں پر نظر رکھنے کے لیے مختلف طریقہ کار پر غور و فکر کی سخت ضرورت ہے۔

حملوں میں بیلجیئم کا تعلق کتنا اہم ہے؟

ماہرین کے مطابق سکیورٹی حکام میں روابط کی کمی کے سبب ان جہادیوں پر وہ سخت نگرانی نہیں کی جا سکی جس کی ضرورت ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق سکیورٹی حکام میں روابط کی کمی کے سبب ان جہادیوں پر وہ سخت نگرانی نہیں کی جا سکی جس کی ضرورت ہوتی ہے

بظاہر اس آپریشن کا اہم مرکز بیلجیئم میں واقع علاقہ مولن بیک ہے لیکن حملے سے متعلق بیلجیئم سے دیگر تار بھی ملتے ہیں۔ دولت اسلامیہ نے بیلجیئم کے بعض دیگر علاقوں میں بھی اپنے پیر جمانے کی کوشش کی۔

گذشتہ برس برسلز میں یہودیوں پر حملہ کرنے والے مہدی نموشے نے بھی مولن بیک میں کچھ وقت گزارا تھا۔ بیلجیئم سے شام جا کر لڑنے والے جہادیوں کی تعداد بھی یورپی ممالک میں آبادی کی مناسبت سے بہت زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق سکیورٹی حکام میں روابط کی کمی کے سبب ان جہادیوں کی وہ کڑی نگرانی نہیں کی جا سکی جس کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا یوروپ نے اپنی سرحدوں پر کنٹرول کھو دیا ہے؟

پیرس پر حملے نے ایک بحث یہ بھی چھیڑ دی ہے کہ کیا یورپی ممالک کی سرحدیں محفوظ نہیں رہیں اور اب اس بات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ لوگ بغیر کسی نگرانی یا نگہداشت کے وہاں داخل ہو جاتے ہیں۔

فرانس میں ہنگامی حالات کے نفاذ کے ساتھ ہی سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس جہاں چاہے شک کی بنیاد پر تلاشی لے سکتی ہے اور مشتبہ افراد کو حراست میں لے سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرانس میں ہنگامی حالات کے نفاذ کے ساتھ ہی سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس جہاں چاہے شک کی بنیاد پر تلاشی لے سکتی ہے اور مشتبہ افراد کو حراست میں لے سکتی ہے

یورپ کے لوگ آزادانہ آمد و رفت اور نقل مکانی کے شوقین ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مجرم اور شدت پسند بھی اس کا فائدہ اٹھا کر یورپ میں آسانی سے داخل ہو جائیں گے؟

ایسے وقت جب تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد یورپ آ رہی ہے اس پہلو پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

کیا دوسرے علاقوں میں بھی ایسے حملوں کا خطرہ ہے؟

فرانس میں ہنگامی حالات کے نفاذ کے ساتھ ہی سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس جہاں چاہے شک کی بنیاد پر تلاشی لے سکتی ہے اور مشتبہ افراد کو حراست میں لے سکتی ہے۔

تاہم فرانس کے وزیر داخلہ نے دیگر یورپی ممالک کو بھی اس کے لیے متنبہ کیا ہے اور سرحدوں کی سخت نگرانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب رد عمل کے طور پر فرانس، امریکہ اس کے اتحادی اور روس نے شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اس لیے یورپ میں رد عمل کے طور پر دولت اسلامیہ کے حملوں کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔