پیرس کے ہلاک شدگان کی یاد میں ہزاروں کا اجتماع

فرانسیسی عوام نے مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں اور پھول رکھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی عوام نے مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں اور پھول رکھے

پیرس میں جمعے کی شب دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد کی یاد میں فرانس اور دیگر ممالک میں تعزیتی اور دعائیہ تقاریب منعقد ہوئی ہیں جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

فرانسیسی دارالحکومت میں چھ مقامات پر خودکش حملوں اور فائرنگ سے 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان ہلاک شدگان کی یاد میں اتوار کو پیرس کے مشہور نوٹرڈیم کیتھیڈرل میں دعائیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

اس تقریب کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیرس کے آرچ بشپ کارڈینل آندرے ون ٹورس کا کہنا تھا کہ فرانسیسی دارالحکومت ایک غیر معمولی بربریت کا شکار ہوا ہے۔

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان وحشیانہ حملوں کے باوجود نہ خود’مشتعل ہوں اور نہ اشتعال دلائیں‘ بلکہ مرنے والوں کو یاد کریں۔

ایسی ہی ایک تقریب پیرس کے وسطی علاقے میں واقع ریپبلک سکوائر میں بھی منعقد ہوئی جہاں عوام نے مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں اور پھول رکھے۔

پیرس کے آرچ بشپ کارڈینل آندرے ون ٹورس کا کہنا تھا کہ فرانسیسی دارالحکومت ایک غیر معمولی بربریت کا شکار ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپیرس کے آرچ بشپ کارڈینل آندرے ون ٹورس کا کہنا تھا کہ فرانسیسی دارالحکومت ایک غیر معمولی بربریت کا شکار ہوا ہے

یہ تقریب اس وقت افراتفری کا شکار ہوئی جب وہاں اچانک بھگدڑ مچ گئی اور لوگ پھولوں اور شمعوں کو روندتے ہوئے بھاگ نکلے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر لوگ کسی پٹاخے کی آواز کو فائرنگ سمجھ بیٹھے اور خوفزدہ ہوگئے۔

فرانس کے علاوہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں بھی پیرس کے ہلاک شدگان کی یاد میں ایک تقریب میں ہزاروں افراد جمع ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دعائیہ تقریب میں شامل افراد کی تعداد 15 سے 20 ہزار کے درمیان تھی۔

ملک کے وزیرِ اعظم لارس لوک راسموسین بھی اس تقریب میں شریک ہوئے اور مرنے والوں کی یاد میں شمع روشن کی۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا سب سے ٹھوس جواب کیا ہو سکتا ہے؟ یہ کہ ہم اپنے انداز سے جیتے رہیں اور ان سے خوفزدہ نہ ہوں۔ اگر ہم اب ایک کیفے کے باہر بیٹھنے کی ہمت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ہار گئے ہیں۔‘