پیرس حملوں کی منصوبہ بندی شام میں کی گئی: فرانس

،تصویر کا ذریعہPolice Nationale
فرانس کے وزیر اعظم مینوئل والس نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکام کے علم میں ہے کہ مزید دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور پیرس حملوں کی منصوبہ بندی شام میں کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں علم ہے کہ نہ صرف فرانس بلکہ دیگر یورپی ملکوں میں بھی مزید کارروائیاں کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔‘
دریں اثنا فرانسیسی پولیس نے گزشتہ رات ملک بھر میں مشتبہ شدت پسندوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔
فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ فرانس کے خفیہ اداروں نے اس سال موسم گرما میں کئی حملوں کو ناکام بنایا ہے اور پولیس کے علم میں ہے کہ فرانس اور دیگر یورپی ملکوں میں اس طرح کی مزید کارروائیاں کرنے کی تیاریاں اور منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ حکومت ایمرجنسی قوانین کے تحت اسلامی انتہا پسندوں اور ان سب سے جو نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں، تفتیش کر رہی ہے۔
قبل ازیں فرانسیسی پولیس نے پیرس میں ہونے والے حملوں کے سلسلے میں مطلوب ایک شخص کی تصویر جاری کرتے ہوئے اس کے بارے میں معلومات کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
ادھر فرانسیسی ہسپتالوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جمعے کو ہونے والے حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 129 ہی ہے اور اس میں اضافے کی خبر درست نہیں۔
پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص بیلجیئم میں پیدا ہونے والا 26 سالہ عبدالسلام صلاح ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالسلام کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حملوں میں براہِ راست ملوث تھا اور اب وہ مفرور ہے۔
اطلاعات کے مطابق فرانسیسی پولیس نے حملوں کے کچھ گھنٹوں بعد ہی بیلجیئم کی جانب سفر کرنے والی اس کار کو روکا تھا جس پر عبدالسلام صلاح بھی سوار تھا۔
پولیس افسران نے اس سے سوالات کیے اور شناختی دستاویزات دیکھ کر اسے سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اب اس کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور پولیس نے عبدالسلام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ اس کے بارے میں کوئی بھی اطلاع فوری طور پر حکام کو دیں۔
عبدالسلام کے دو بھائیوں میں سے ایک بٹاکلان تھیٹر میں مارا گیا جبکہ ان کا تیسرا بھائی بیلجیئم میں پکڑا گیا ہے۔
فرانس کے وزیرِ داخلہ برنارڈ کیزینیوو نے بھی کہا ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی ’بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل گروپ نے کی جنھیں فرانس میں اپنے ساتھیوں کی مدد حاصل رہی۔‘
فرانسیسی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ حملوں کے دوران جو سات حملہ آور مارے گئے ان میں سے بھی دو بیلجیئم کے رہائشی تھے۔
تاہم فرانس کے مشرقی نواحی علاقے مونٹریول سے ایک مشتبہ گاڑی کے ملنے سے اس بات پر شکوک مزید بڑھ گئے ہیں کہ کم سے کم ایک حملہ آور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔
تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ انھیں اس کار سے کئی خود کار بندوقیں ملی ہیں جو ان کے خیال میں حملہ آور فرار ہوتے ہوئے چھوڑ گئے تھے۔
فرانسیسی حکام نے بتایا تھا کہ انھیں ایک شخص کی تلاش ہے جس نے حملوں میں استعمال کی جانے والی وولکس ویگن پولو گاڑی کرائے پر لی تھی، تاہم پولیس کے مطابق ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ تسرا بھائی مفرور ہے یا مارا جا چکا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پیرس کو نشانہ بنانے والے مزید دو خودکش حملہ آوروں کی شناخت کر لی ہے جو کہ دونوں بیلجیئم میں مقیم فرانسیسی شہری تھے۔ ان کی عمریں 20 اور 31 سال بتائی گئی ہیں تاہم ان کے نام جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل فرانسیسی تفتیش کاروں نے بتایا تھا کہ انھوں نے بٹاکلان تھیٹر پر حملے کے دوران مرنے والے ایک حملہ آور کی شناخت کر لی ہے اور وہ فرانسیسی شہری عمر اسماعیل مصطفیٰ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
بتایا گیا ہے کہ عمر کے بھائی اور والد سمیت چھ افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔ تاہم ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ عمر اسماعیل گھر والوں سے ناراض تھے اور وہ اپنے بھائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ پیرس حملوں کے سلسلے میں بلجیئم میں گرفتار کیے جانے والے افراد کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
بیلجیئم کے پولیس اہلکاروں کے مطابق انھوں نے کئی جگہ چھاپے مارے ہیں اور وہ بلجیئم سے کرائے پر لی جانے والی کار اور حملہ آورروں کے درمیان تعلق کی تفتیش کر رہے ہیں اور ان کی تفتیش مولن بِیک کے علاقے پر مرکوز ہے۔







