BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 December, 2007, 16:27 GMT 21:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہارنے کی کئی وجوہات تھیں: ذکا

پاکستان ہاکی ٹیم
سابق کوچ اصلاح الدین کے مطابق پاکستانی ٹیم کو بہتر ہونے میں پانچ سال لگیں گے
پاکستان ہاکی ٹیم کے چیف کوچ اور مینجر سابق اولمپئن خواجہ ذکا الدین کا کہنا ہے کہ چمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں ساتویں پوزیشن پر آنے والی پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی کی بڑی وجہ ٹیم کا نوجوان اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہونا تھا۔

ملائشیا میں ہونے والےچمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ سے واپسی پر خواجہ ذکا الدین نے ایک پریس کانفرنس میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کی کئی وجوہات بتائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کا دفاع کافی کمزور تھا اور سنٹر ہاف کی پوزیشن پر کھیلنے والے کھلاڑی نے بھی اچھی کارکردگی نہیں دکھائی جس کے سبب فارورڈ لائن کو زیادہ محنت کرنا پڑی اور فارورڈ کھلاڑی جو نئے اور ناتجربہ کار تھے اتنا بوجھ نہ اٹھا سکے۔
ٹیم کے کوچ کے مطابق پاکستان کی ٹیم کا سٹیمنا اور فٹنس بھی معیار کے مطابق نہیں تھی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ چند میچوں میں ٹیم مینجمنٹ سے بھی منصوبہ بندی میں کچھ غلطیاں ہوئیں۔

انہوں نے ٹیم کے کپتان اور گول کیپر کی کارکردگی کو بھی غیر معیاری قرار دیا اور کہا کہ سلمان اکبر نے چند ایسے گول کروائے جو روکے جا سکتے تھے ان کے مطابق سلمان اکبر کو خود بھی اس بات کا احساس ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود پاکستان کی ٹیم کے کوچ مایوس نہیں ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیم کے نوجوان کھلاریوں میں لڑنے کی صلاحیت ہے اور وہ محنت کرتے ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ ان ناتجربہ کار کھلاڑیوں کی رہنمائی کے لیے ٹیم میں سینئر کھلاڑی بھی موجود ہوں جو گراؤنڈ میں ٹیم کو لے کر چلیں۔

پاکستان کی ٹیم کے سابق کوچ اصلاح الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم کو بہتر ہونے میں پانچ سال درکار ہیں۔موجودہ کوچ ذکا الدین کی سوچ اس کے بر عکس ہے ان کا کہنا ہے کہ بہتر منصوبہ بندی سے اور محنت سے چھ ماہ میں یعنی اولمپک تک ایک جیتنے والی ٹیم بنائی جا سکتی ہے اور موجودہ دستیاب کھلاڑیوں پر محنت کر کے بھی ٹیم کو وننگ سٹینڈ پر پہنچایا جا سکتا ہے۔

خواجہ ذکا الدین کے مطابق سب سے ضروری بات ہے کہ پاکستان کی ٹیم کو اولمپک سے پہلے پہلے متعدد بین الاقوامی میچز کھیلنے کا موقع دیا جائے کیونکہ کیمپ میں ٹرینگ سے وہ فائدہ نہیں ملتا جو میچ کھیلنے سے حاصل ہوتا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری خالد محمود جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے انہوں نے کہا کہ خواجہ ذکا الدین کے مشورے کے مطابق اولمپک سے پہلے پاکستان کی ہاکی ٹیم کو 2 سے تین بین الاقوامی میچز کھیلنے کا موقع دیا جائے گا۔

دریں اثناء پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھارت کے شہر چندی گڑھ میں 20دسمبر سے گیارہ جنوری تک پریمیر ہاکی لیگ میں شرکت کے لیے آٹھ کھلاڑی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ان کھلاڑیوں میں پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان ریحان بٹ بھی شامل ہیں جو ملائشیا جانے سے پہلے سلیکٹرز کا اعتماد حاصل نہیں کر سکے تھے۔

بھارت کی پریمیر ہاکی لیگ میں شرکت کے لیے یہ کھلاڑی بھارت جائیں گے۔

سلمان اکبر، ذیشان اشرف، ریحان بٹ، شکیل عباسی، عدنان مقصود، دلاور حسین،غضنفر علی،کمران اور کامران احمد۔

ہاکی کوچہاکی کوچ کی درآمد
پاکستانی ٹیم کو سکھانے کے لئے ہالینڈ کے کوچ
پاکستان ہاکیٹیم کتنی تیار ہے؟
ہاکی کاگرتا گراف اور اولمپکس کی تیاری
کاشف جوادمجھے کیونکالاگیا؟
کاشف جواد کا کوچ اضف باوجوہ پر الزام
ہاکیاذلان شاہ ٹورنامنٹ
ٹورنامنٹ کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا
ٹیم کے کپتان محمد ثقلین ہاکی کا ’بیڈ بوائے‘
ثقلین کہتے ہیں کہ یہ منفی تاثرغلط ہے
ہیئرامپائرنگ کرتارہوں گا
ہیئر سکیورٹی کی وجہ سے چیمپیئن ٹرافی سےباہر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد