پاکستان کی کارکردگی پر کڑی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ہاکی ٹیم کوالالمپور میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آٹھ ٹیموں میں ساتویں پوزیشن حاصل کر سکی لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کارکردگی نے اسے آئندہ جون میں ہالینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت سے محروم کر دیا ہے۔ پاکستان کے سابق اولمپئنز کی جانب سے پاکستانی ٹیم کی اس مایوس کن کارکردگی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سابق کپتان حسن سردار نے اس تمام تر صورتحال کی ذمہ داری پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر ظفراللہ جمالی پر عائد کی ہے۔ حسن سردار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرظفراللہ جمالی کے تمام فیصلے ’ون مین شو‘ رہے ہیں اور وہ سلیکشن کے معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہیں جو ان کا کام نہیں ہے۔ حسن سردار نے کہا کہ جب پاکستانی ٹیم ایشیا کپ میں چھٹے نمبر پر آئی اور چین جیسی ٹیم سے ہاری تو اسی وقت ٹیم کی خامیوں اور مستقبل کی تیاری کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ خراب کارکردگی کی وجہ یہ ہے کہ فیڈریشن نے تمام ہی تجربہ کار سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کردیا ہے جو باہر لیگ کھیل رہے ہیں حالانکہ لیگ کھیل کر انہیں تجربہ ہی حاصل ہورہا ہے۔ جب حسن سردار سے یہ سوال کیا گیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سہیل عباس اور وسیم احمد کو بھی کیمپ میں شامل کیا تھا لیکن وہ کیمپ میں نہیں آئے تو حسن سردار نے کہا کہ سہیل عباس اور وسیم کا منفی رویہ رہا ہے لیکن بقیہ کھلاڑیوں کو جب بھی کیمپ میں بلایا گیا وہ آئے ہیں۔ حسن سردار نے کہا کہ بغیر کیمپ یا ٹرائلز کے کسی کھلاڑی کو ٹیم میں منتخب کرنا درست نہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جونیئر ٹیم میں جن کھلاڑیوں نے قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی وہ سینئر ٹیم میں بھی کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے فٹنس کی بنیاد پر ریحان بٹ جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو ٹیم سے باہر کیے جانے کو غلط فیصلہ قراردیا اور کہا کہ فٹنس کیمپ میں رہ کر دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہے لیکن ایک کھلاڑی تجربہ حاصل کرنے میں تین چار سال کا وقت لیتا ہے۔ سابق کپتان حنیف خان کے خیال میں چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ سب کچھ متوقع تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’جو ٹیم ایشیا کپ میں نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف نہ جیت سکی وہ بڑی ٹیموں کے خلاف کس طرح اچھی کارکردگی کامظاہرہ کر سکتی تھی‘۔ حنیف خان کا کہنا ہے کہ’مینجمنٹ نے ہر میچ کی حکمت عملی تیار نہیں کی اور نہ ہی پاکستان اور ملائیشیا کے ایک جیسے موسم کا فائدہ اٹھایا گیا جبکہ تمام دوسری ٹیمیں سرد موسم سے ملائیشیا کھیلنے آئی تھیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے غیرضروری طور پر دفاعی انداز اختیار کیا جس کے سبب حریف ٹیم کی ایک گول کی برتری کو بھی ختم نہ کیا جا سکا۔ حنیف خان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو اب بھی سہیل عباس اور وسیم احمد جیسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔ اس سوال پر کہ یہ دونوں کھلاڑی بلائے جانے کے باوجود کیمپ میں نہیں آئے تو حنیف خان نے کہا کہ اس معاملے میں رابطے کا فقدان ہے جسے دور کر کے ان کھلاڑیوں کو ٹیم کی کارکردگی بہتر کرنے کی خاطر واپس لایا جائے۔ سابق کپتان اور موجودہ سلیکٹر سمیع اللہ اپنے ساتھی اولمپئنز کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ سہیل عباس اور وسیم احمد کو واپس لایا جائے۔ ان کا کہنا ہےکہ اگر کوئی بھی کوچ یا منیجر اس بات کی ضمانت دے دے کہ ان کھلاڑیوں کی واپسی کے بعد پاکستانی ٹیم گولڈمیڈل جیت لے گی تو پھر تو یہ واپسی معنی رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں پیچھے کی طرف نہیں آگے کی طرف دیکھنا چاہئے۔ پہلے بھی کئی بار یہ دونوں کھلاڑی بلائے جانے کے باوجود کیمپ میں نہیں آئے اور انہیں ٹیم میں شامل کرنے کا مطلب بلیک میلنگ کی ایک منفی روایت کا قیام ہوگا‘۔ سمیع اللہ نے کہا کہ برطانیہ اور ملائشیا کے خلاف خراب کارکردگی ٹیم کو لے ڈوبی۔ انہوں نے کہا کہ ’کھلاڑیوں کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی ہے کہ کس ٹیم کے خلاف کس طرح کھیلنا ہے۔ ہر ٹیم کا اپنا انداز ہے۔ تبدیلی کے قانون کا بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا جبکہ ٹیم میں سکیمر کی کمی شدت سے محسوس کی گئی‘۔ سمیع اللہ نے گول کیپر سلمان اکبر کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ توقعات پر پورا نہیں اترے اور مینجمنٹ نے دوسرے گول کیپر ناصر کو بھی موقع نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں دونوں گول کیپرز کو مساوی مواقع دینے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں چیمپیئنز ٹرافی جرمنی جیت گیا09 December, 2007 | کھیل ہاکی: پاکستان افتتاحی میچ ہارگیا29 November, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||