کرکٹ کا جشن، ہاکی کھلاڑی ناراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی کرکٹ ٹیم نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیا جیتا جیسے پورا ملک جیت کے نشے میں ڈوب گیا اور کھلاڑیوں کے لیے اعزازوں اور انعامات کی جھڑی لگ گئی۔ کرکٹ ٹیم کی جیت کے اس جشن کو دیکھ کر ملک کے بعض ہاکی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہاکی کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کرتی ہے اور اس کے احتجاج میں وہ بھوک ہڑتال کريں گے۔ ہندوستانی ہاکی ٹیم کے چیف کوچ جوخم کاروالہو نے کہا ہے کہ ہاکی کی ٹیم نے اس برس جب ایشیاء کپ جیتا تھا تو اس جیت کا ذکر برائے نام ہوا تھا اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی چیمپئن ٹیم کو کرکٹ بورڈ، اشتہاری کمپنیاں اور ریاستی حکومتیں انعامات اور اعزازت سے نواز رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہاکی ٹیم کے چیف کوچ رمیش پرمیسورن، مینجیر آر کے شیٹی، اور چار ديگر کھلاڑی کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی کے گھر کے سامنے بھوک ہڑتال کریں گے۔ خبر رساں ایجینسی پی ٹی آئی نے مسٹر جوخم کاروالہو کے ایک بیان کو شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’ ہم صدر جمہوریہ پرتبھا پاٹل کے شکرگزار ہیں کہ ایشیاء کپ جیتنے کے بعد انہوں نے ہر کھلاڑی کو حظ لکھ کر مبارک باد دی تھی اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے آج تک کھلاڑیوں کو مبارکباد بھی نہیں دی ہے‘۔ کھلاڑیوں کا مطالبہ ہے کہ ریاستی حکومت انہیں پانچ پانچ لاکھ روپے دے۔ ہاکی کے سابق کھلاڑی ہربندر سنگھ کا کہنا ہے ’میں اس بات سے اتفاق رکھتا ہوں کے ہاکی کھلاڑیوں کو ایشیاء کپ میں ان کی جیت کے لیے انعام دیا جانا چاہیے، اس سے کھلاڑیوں کا جذبہ بڑھتا ہے‘۔
ہندوستان میں کرکٹ کو مذہب کی طرح سے مانا جاتا ہے اور کرکٹ کے سامنے باقی سارے کھیلوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ ہندوستان کی خواتین ہاکی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ اندرجیت سنگھ گل کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کرکٹ ٹیم نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ جیتا ہے اور ان پر انعامات کی برسات کی جا رہی ہے لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہندوستان میں کرکٹ کو کسی بھی کھیل سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ کرکٹ کے پاس اسپونسرز ہیں۔ اس برس ایشیاء کپ سے پہلے ہاکی اسوسی ایشن نے اعلان کیا تھا کہ ایگ گول کرنے پر کھلاڑی کو ایک ہزار روپے دیے جائیں گے۔ ایک ہزار روپے سے تو کھلاڑی اپنی ٹیم کو کسی اچھے ہوٹل میں چائے بھی نہیں پلا سکتا ہے‘۔ ہاکی کے سابق کھلاڑی اسلم شیر کا کہنا ہے کہ ہاکی کے کھلاڑیوں نے بھوک ہڑتال کا اعلان اس لیے کیا ہے کیونکہ جب وہ کوئی کپ جیتتے ہیں تو ان کے لیے نہ تو کوئی تقریبات کی جاتی ہیں اور نہ ہی انعاما ت دیے جاتے ہیں۔ جس طرح سے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ جیتنے پر کرکٹ ٹیم کا استقبال کیا گیا اور ان پر انعامات کی بوچھاڑ کی گئی اس سے صاف لگتا ہے کہ ملک میں کوئی اور کھیل ہے ہی نہیں۔ | اسی بارے میں انڈیا نے ہاکی کا ایشیا کپ جیت لیا10 September, 2007 | کھیل فائنل کی دوڑ سے پاکستان تقریباً باہر05 September, 2007 | کھیل انڈیا ایشیاکپ کے سیمی فائنل میں04 September, 2007 | کھیل ایشیا کپ: ہند اور پاک فاتح03 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||