خاتونِ اول کی آمد، عوام میچ سےمحروم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی خاتونِ اول صہبا مشرف کی بطورِ مہمان خصوصی آمد کے موقع پر سخت سکیورٹی کی وجہ سے تماشائیوں حتٰی کہ میچ آفیشلز کی بڑی تعداد خواتین کی تئیسویں قومی ہاکی چیمپئن شپ کا فائنل دیکھنے سے محروم رہی۔ یکم سے دس دسمبر تک لاہور میں ہونے والے مقابلوں کا فائنل دفاعی چیمپئن پاکستان واپڈا اور پاکستان ریلوے کے درمیان کھیلا گیا جسے پاکستان واپڈا نے جیتا۔ میچ کا فیصلہ پینلٹی سٹروکس پر ہوا۔ فائنل میچ کے موقع پر مہمانِ خصوصی بیگم صہبا مشرف کے آتے ہی سٹیڈیم کے تمام دروازے بند کر دیے گئے اور دور دراز شہرروں سے اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے آنے والی لڑکیاں اور ٹیموں کے آفشلز بھی اندر نہیں جا سکے۔ صہبا مشرف کی حفاظت کے پیش نظر سٹیڈیم میں نہ صرف عام لوگوں بلکہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا داخلہ بھی ممنوع تھا۔ مقابلے کی کوریج کے لیے کسی نجی ٹیلی ویژن اور اخبارات کے نمائندوں کو سٹیڈیم میں جانے کی اجازت نہیں تھی اور محض سرکاری ٹی وی نے اس مقابلے کی کوریج کی۔ اس حوالے سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری خالد محمود کا کہنا ہے کہ انہیں ہاکی فیڈریشن کے وومن ونگ کے اس رویے پر حیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر ملک میں خواتین کی کوئی مثبت سرگرمی ہو رہی ہو تو یہ میڈیا ہی ہے جو اسے دنیا کو دکھائے گا لیکن اگر میڈیا ہی کو سٹیڈیم میں جانے کی اجازت نہیں تو اس کا کیا فائدہ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں تو یہ فیصلہ مضحکہ خیز لگا ہے۔ واپڈا کی ہاکی ٹیم کے انچارج صغیر احمد کا کہنا ہے کہ انہیں ہاکی فیڈریشن کی وومن ونگ کی سیکرٹری پروین گل نے کہا کہ چونکہ وہ آفیشل ہیں اس لیے انہیں آنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن جب وہ آئے تو سیکیورٹی والوں نے انہیں اندر جانے نہیں دیا۔ اس حوالے سے پروین گل سے رابطے کی متعدد کوششوں کی گئیں تاہم یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ہاکی فیڈریشن کی وومین ونگ کی سیکرٹری پروین گل مدت پوری کرنے والی پنجاب اسمبلی میں حکومتی پارٹی مسلم لیگ (ق ) کی رکن اسمبلی بھی تھیں۔ ان پر یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ تمام میڈیا کی ناراضگی کے باوجود صہبا مشرف کو چیمپئن شپ کی مہمان خصوصی بنانے کے درپردہ ان کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری پی ایچ ایف خالد محمود کا کہنا تھا کہ’اگر وہ ایسی کوشش کر بھی رہیں ہیں تو اس طرح انہیں کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا‘۔ خاتون اول کو جس ہاکی چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب کے موقع پر بلوایا گیا اس کا معیار کافی کم تھا۔ اس چیمپئن شپ میں اٹھارہ ٹیموں نے شرکت کی اور فائنل کے علاوہ تمام میچ یک طرفہ تھے۔ اس چمپئن شپ کی فائنسلٹ واپڈا کی ٹیم نے فائنل سے پہلے چار میچ کھیلے اور اکسٹھ گول کیے جبکہ پاکستان ریلوے نے 68 گول کیے اور دیگر ٹیموں کے ایک دوسرے پر گول کرنے کی تعداد بھی سو سے زائد تھی۔ پاکستان ریلوے نے میر پور خاص کے خلاف ایک میچ میں 28 گول بھی کیے۔ | اسی بارے میں ایشیا کپ، ہاکی ٹیم کا اعلان25 August, 2007 | کھیل دورۂ چین کیلیے ہاکی ٹیم کا اعلان29 July, 2007 | کھیل پاکستان ہاکی فیڈریشن کا یوٹرن18 July, 2007 | کھیل کہیں مایوسی کے بادل تو کہیں امید کی کرن28 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||