’حب الوطنی پر شک نہ کیا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان محمد ثقلین ایک بار پھر اپنے ملک کی نمائندگی کے خواہشمند ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی ملک کی طرف سے کھیلنے سے انکار نہیں کیا۔ واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر ظفراللہ جمالی نے اپنے سخت رویے میں نرمی لاتے ہوئے فٹنس اور کارکردگی کی بنیاد پر ان سینئر کھلاڑیوں کو بھی دوبارہ ٹیم میں شامل کئے جانے کی نوید سنائی ہے جوگزشتہ سال پاکستان کی طرف سے کھیلنے کے بجائے پروفیشنل لیگ کھیلنے بیرون ملک چلے گئے تھے۔ تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری خالد محمود نے کھلاڑیوں کی فوری واپسی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ محمد ثقلین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں واپسی کے لیے ابھی تک فیڈریشن نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ ’صرف سنا ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم میں دوبارہ شامل کیا جائے گا، یہ ہم سب کے لئے خوشی کی بات ہوگی۔‘ اس سوال پر کہ انہوں نے ملک پر بیرون ملک لیگ ہاکی کھیلنے کو ترجیح کیوں دی ثقلین کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ کے بعد قدرتی طور پر کچھ نہ کچھ تبدیلیاں آتی ہیں۔ کچھ کھلاڑی بد دل تھے اور کچھ تھکاوٹ کے بعد آرام کرنا چاہتے تھے۔ ’لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں کہ ہم لوگ ملک کے لیے کھیلنا نہیں چاہتے تھے، ہماری حب الوطنی پر شک نہیں ہونا چاہئے۔‘
واضح رہے کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ثقلین نے کوچ شہناز شیخ پر سخت تنقید کی تھی اور شکست کا سبب ان کی غلط منصوبہ بندی کو قرار دیا تھا۔ دوسری جانب شہناز شیخ نے فیڈریشن کو مشورہ دیا تھا کہ بہتر مستقبل کے لیے سینئر کھلاڑیوں کو ریٹائر کر کے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو مستقبل کے لیے تیار کیا جائے۔ ورلڈ کپ کے بعد ثقلین، سہیل عباس، وسیم دلاور اور غضنفر لیگ کھیلنے بیرون ملک چلے گئے تھے، جس پر فیڈریشن کے صدر میرظفراللہ جمالی نے واضح طور پر کہا تھا کہ جن کھلاڑیوں کو ملک کی پرواہ نہیں ان پر پاکستان ہاکی کے دروازے بند ہیں۔ سہیل عباس اور وسیم نے بغیر اجازت لیگ کھیلنے پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر طارق کرمانی سے معافی بھی مانگی تھی، جس کے بعد انہیں ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔ لیکن ورلڈ کپ کے بعد دونوں ایک بار پھر قومی ٹیم چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ گزشتہ سال دوحہ میں منعقد ہونیوالے ایشین گیمز میں پاکستانی ٹیم ان تجربہ کار کھلاڑیوں کے بغیر ہی منتخب کی گئی تھی۔ اس ایونٹ میں پاکستانی ٹیم نے چین کے ہاتھوں چونکا دینے والی شکست کے بعد تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
اس سوال پر کہ سینئر کھلاڑیوں کی ٹیم میں واپسی فٹنس اور کارکردگی سے مشروط کی گئی ہے کیا وہ اتنے فٹ ہیں کہ ٹیم میں جگہ بناسکیں، محمد ثقلین نے کہا کہ پہلے انہوں نے بنگلہ دیش میں لیگ کھیلی لیکن انہیں جرمنی میں کھیلنے کے دوران اپنی فٹنس اور کارکردگی کو مطلوبہ معیار پر رکھنے کا بھرپور موقع ملا۔ جرمن ہاکی نے انہیں ان ڈور ہاکی کھیلنے کی پیشکش کی ہے، جو کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو دی گئی اس طرح کی پہلی آفر ہے۔ ثقلین نے کہا کہ نہ صرف وہ بلکہ سہیل عباس، وسیم، دلاور اور غضنفر بھی فٹ ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اگر انہیں دوبارہ موقع دیا گیا تو وہ مایوس نہیں کریں گے۔ |
اسی بارے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کا یوٹرن18 July, 2007 | کھیل ’ کمزورٹیم سے میچ تربیت سے بہتر‘30 June, 2007 | کھیل ’ایشیا کپ نہ کھیلنے کا دفاع‘09 June, 2007 | کھیل پاکستان میں ہاکی ٹیلنٹ کی تلاش05 June, 2007 | کھیل جدید کوچنگ کی ضرورت، کامران 25 May, 2007 | کھیل سینئر کھلاڑیوں پر دروازے بند نہیں30 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||